صدر اوباما کا دوسرا دورہ بھارت!

30 جنوری 2015

مکہ میں ایک نوجوان پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کی باتیں زہر میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ شمالی وزیر ستان سے تعلق تھا اس کا۔ غلطی سے پوچھ بیٹھے کہ تم کہاں سے ہو، بولا ’’وہاں سے جہاں روز ہمارے بچے مارے جاتے ہیں مگر نہ ان کی یاد میں پاکستانی پرچم سر نگوں کیا جاتا ہے اور نہ سوگ کا اعلان ہوتا ہے۔ میرا خاندان شمالی وزیر ستان کے اس علاقے کا مکین ہے جہاں روزانہ بمباری ہوتی ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں، میں نے ان پہاڑوں میں آنکھ کھولی جو کبھی میرا پاکستان تھا لیکن آج ہمیں دشمن کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ کبھی امریکی طیاروں کی مدد سے اور کبھی براہ راست ہمیں مارا جاتا ہے۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔‘‘ پھر بولا ’’سب سیاسی جنگ ہے۔ ڈالروں کے عوض ملک لہو لہان کر دیا گیا ہے۔‘‘ دورانِ ڈرائیورنگ ایک بڑے ہوٹل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ’’یہاں بھی ایک چیز ٹھہری ہوئی ہے، مجھے اسے زیارات مقدسہ کے لئے کال کی گئی تھی مگر میں نے انکار کر دیا۔‘‘ ہم نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تو بولا ’’جی میرا مطلب ہے اس ہوٹل میں بھی کوئی سیاسی شخصیت ٹھہری ہوئی ہے۔ معصوم لوگوں کو لوٹ مار کر نہ جانے کس منہ سے کعبہ چلے آتے ہیں؟‘‘ نوجوان کی زہر آلود گفتگو سے دل بوجھل ہو گیا۔ ہم نے اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے کہا ’یہ سب کچھ پرویزمشرف کا کیا دھرا ہے، اب ہر حکومت بھگتے گی۔‘ بولا ’سانحہ پشاور کی طرح ان سیاستدانوں کے بچے بھی ماریں جائیں تو انہیں ہوش آجائے گی۔‘ ہم نے جواب میں سانحہ پشاور کا حوالہ دیا کہ دشمن ہوش کے لئے ملک کے سکیورٹی اداروں کو بھی پیغام پہنچاتے رہتے ہیں مگر تمہارا اور ہمارا دشمن الگ الگ نہیں۔ ہم سب ایک ہی دشمن کے نشانہ پر ہیں۔‘ آج جب امریکی صدر کے بھارتی دورے کی خبریں پڑھ رہے تھے تو بقول مکی ڈرائیور ’’چیز‘‘ یعنی سیاستدانوں کی نااہلیوں پر ماتم کرنے کو جی کیا۔ پاکستان نے وار آن ٹیرر کے اس سیاسی کھیل میں  کیاکھویا کیا پایا؟ غیر تو دشمن تھے ہی اپنوں کو بھی غیر بنا لیا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ اپنے اور پرائے میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما امریکی تاریخ میں وہ پہلے صدر ہیں جنہوں نے اپنے اقتدار میں دو بار بھارت کا دورہ کیا اور دونوں بار انہیںغیر معمولی پذیرائی ملی۔ صدر اوباما نے بھارت کے ساتھ بڑے بڑے معاہدوں کے اعلانات کئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق معاشی 100 ملین سے 500 ملین ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔ بھارت کو فوری طور پر سرمایہ کاری اور تجارت کے لئے چار ارب ڈالر قرضہ دینے کا اعلان کیا۔ سلامتی کونسل میں مستقل نشست کی حمایت کر دی۔ لیکن پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ بھارت کو جوہری دھماکوں کا جواب دینے والی شریف حکومت میں کیا اتنا بھی دم خم نہیں رہا کہ امریکی صدر ایک پھیرا ادھر بھی لگا جاتا؟ امریکہ کا موجودہ صدر پاکستان کے پڑوسی ملک میں دو بار آیا، بڑے بڑے اعلانات اور معاہدے کئے اور پاکستان کو پیٹھ دکھا کر واپس چلتا بنا؟ پاکستان کو دہشت گردی کے جہنم میں جھونک کر آج دونوں دوست بن گئے؟ اسرائیل کے زیر شفقت پاکستان کو مار مار کر ادھ موا کر دیا لیکن پاکستان کے اکابرین آئے روز امریکہ دوڑے جاتے ہیں اور امریکہ کے حضور دوزانو ہو کر جنگ  کی اُجرت وصول پاتے ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستان کو کیا ملتا ہے سانحہ پشاور کا تحفہ؟ پاکستان صرف اپنے بچے اور پاک فوج کے جوان شہید کرانے کے لئے وقف کر دیا گیا ہے؟ کل جو بھارت کے مخالف تھے ،آج دوست بن گئے؟ پاکستان ’’مارو اور اُجرت لو ‘‘ سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا؟ اتنا اسلحہ خرید کر بھی پاکستان غیر محفوظ ہی رہے گا؟ سٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور روس دنیا کے ہتھیاروں کے93  فیصد حصے کے مالک ہیں۔ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 120 اور بھارت کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 110 ہو گئی ہے۔ امریکی تعلقات کو ایک نیا موڑ دینے کے لیئے نریندر مودی نے صدر اوباما کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کا تعطل ختم کر کے امریکہ سے دوستی کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا ثبوت دیا۔ امریکی صدر کا دوسری بار بھارت سے لوٹ جانا، پاکستان کی جمہوریت کے منہ پر شرمناک طمانچہ ہے۔