اوباما تاج محل کیوں نہ دیکھ سکے؟

30 جنوری 2015
اوباما تاج محل کیوں نہ دیکھ سکے؟

دنیا کی طاقت کا دم بھرنے والے صدر باراک اوباما سرزمین بھارت کی آزاد فضائوں کا قبضہ چھوڑ کر واپس جا چکے ہیں۔ نئی دہلی کے در و دیوار ایک عرصے تک انکی یادوں کو موضوع گفتگو بناتے رہیں گے لیکن امریکی خاتون اول مشعل اوباما اپنے دل میں رکھی حسرتوں کی پوٹلی کھولے بغیر ہی وائٹ ہائوس چلی گئی ہیں۔ مشعل اوباما 2010ء میں بھی محبت کے استعارے تاج محل کے سامنے تصویر بنوانے کی تمنا لے کر واپس گئی تھیں لیکن اس بار بھی انکی حسرت پوری نہ ہو سکی۔ اصل کہانی کی طرف جانے سے قبل تاج محل کے تاریخی پس منظر کا مختصر ذکر کچھ یوں ہے کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تاج محل تعمیر کروایا تھا۔ آج سے ساڑھے تین سو سال قبل تاج محل کی تعمیر پر ساڑھے چار کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ 20 ہزار معماروں نے اس میں حصہ لیا جبکہ 25 سال کی مدت میں اس محبت بھرے محل کو تعمیر کیا گیا۔ ہر سال 30 لاکھ افراد اس کا دیدار کرنے آتے ہیں۔ مغلیہ دور کے فن تعمیر کے عظیم شاہکار کے بارے برطانوی سیاح ایڈورڈ یپر نے 1874ء میں کہا تھا کہ ’’دنیا کے باشندوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جنہوں نے تاج محل کا دیدار کیا اور دوسرے وہ جو اس کے دیدار سے محروم ہیں۔‘‘ لیکن طاقت کے باوجود مشعل اوباما اور صدر اوباما دیدار سے محروم گروہ میں شامل ہیں۔ اوباما کے دورہ تاج محل میں بھارت کی سپریم کورٹ آڑے آئی ہے۔ تاج محل کو فضائی آلودگی سے بچانے کیلئے بھارتی سپریم کورٹ نے حکم صادر کیا کہ یہاں پر آنے والے تمام سیاح تاج محل سے 500 میٹر دور شلپ گرام کمپلیکس پر اتریں گے اور یہاں سے انہیں گیٹ کی طرف سے الیکٹر ک گاڑیوں میں اندر پہنچایا جائیگا لیکن اوباما کی سکیورٹی پر معمور افسران اسلحہ سے لیس گاڑی تاج محل کے مشرقی گیٹ سے اندر لے جانے کی اجازت چاہتے تھے جسے اترپردیش کی سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا۔ اوباما کے سکیورٹی سکواڈ کے ذمہ داران تاج محل کی فضائوں کو بھی اپنے کنٹرول میں رکھنے پر بضد تھے، ان کا مؤقف تھا کہ بیٹری سے چلنے والی گولف کارٹ میں تاج محل گھمانے سے صدر کی جان کو خطرات لاحق ہیں اس لئے انہیں تاج محل میں بم پروف گاڑی اور انکے حفاظتی بیڑے میں شامل الیکٹرانک سکیورٹی ایکوپمنٹس والی 50 گاڑیاں اندر لے جانے کی اجازت دی جائے۔ دہلی کے اصحاب نے کافی پائوں مارے لیکن سپریم کورٹ کے آگے ان کا بس نہیں چلا۔ حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر صدر اوباما اور انکی اہلیہ مشعل اوباما سعودی عرب میں پڑائو ڈالنے کا بہانہ تراش کر چلتے ہوئے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سعودی عرب میں اچانک جانا پڑا اور بھارت کا شیڈول پہلے سے طے تھا اس لئے اس کو مختصر کر دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکی خاتون اول نے اپنے پتی کے ساتھ وہاں صرف تصویر بنوانی تھی۔ شب بسری کا پروگرام تو نہیں تھا۔ دہلی میں موجود سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن منور سلیم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اصل حقیقت یہی ہے کہ مودی سرکار اوباما کے ساتھ کروڑوں ڈالر کی جپھی ڈالنے کے باوجود بھارتی قانون کے سامنے بے بس نظر آئے۔ مودی سرکار نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ انہوں نے پروٹوکول کے سارے ضابطے تو نظر انداز کئے لیکن ایک ارب 20 کروڑ بھارتیوں کے دیش میں بنے قانون کو توڑنے کی اجازت نہیں ملی۔ منور سلیم نے کہا کہ ہم بھارتیوں کو خوشی ہوئی کہ ہماری عدالتیں چھوٹے بڑے میں تفریق کئے بغیر انصاف فراہم کر رہی ہیں۔ یہی زندہ قوموں کا دستور ہوتا ہے۔ دوسری طرف ہم پاکستانی ہیں سپریم کورٹ کے احکامات کے پرخچے اُڑانے سے بھی باز نہیں آتے۔ سپریم کورٹ کے ہزاروں فیصلے ایسے ہیں جنہیں توڑ کر ہمارے ارباب اختیار فخر محسوس کرتے ہیں۔ صدر اوباما کا طیارہ جب فضائوں سے گزر اہو گا تو ہمارے صدر اور وزیراعظم اپنی اپنی کمین گاہوں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر دوربین سے اس کا دیدار بھی کیا ہو گا۔ گورنر پنجاب محمد سرور نے درست کہا ہے کہ اوباما کا پاکستان نہ آنا ہماری سفارتی ناکامی ہے لیکن بادشاہ مزاج وزیراعظم سے یہ بھی برداشت نہیں۔ سابق بُش نے اپنے دورہ بھارت کے موقع پر چند گھڑیاں ہمارے ہاں گزاری تھیں، صدر مشرف کے کندھے سے کندھا ملا کر وہ کھڑے بھی ہوئے اوباما بھی اپنے قدموں سے ہمارے گھر کو زینت بخش سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے اس کو کسر شان جانا اور چلتے ہوئے تب بھی صرف یہ اعلان مقصود تھا کہ دہشت گردوں کو کچلنے کیلئے ہمیں آپ کی فضائیں اور زمینی راستے چاہئیں۔ اگر یہ لالچ انہیں نہ ہوتا تو وہ تب بھی ہمیں صرف فضا میں اپنے طیارے کا دیدار کروانے پر اکتفا کرتے۔ ہمیں نوشتہ دیوار پر نظریں گاڑنی چاہئیں جس پر لکھا ہے کہ غلام قومیں معاشرے میں ترقی نہیں کر سکتیں، ہم تو پھر بھی بھارت سے اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس وقت 43 کروڑ بھارتی محض 23 روپے یومیہ پر گزارہ کر رہے ہیں اسکے باوجود مودی نے اوباما کی سکیورٹی پر 1000 کروڑ روپے خرچ کئے لیکن انہیں اپنے ملک کے قانون کو توڑنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ 120 کروڑ بھارتیوں کے نمائندے کی حیثیت سے مودی نے جب امریکہ کا سفر کیا تھا تب اسے ایسا پروٹوکول ملا نہ ہی ہندوستان کی سکیورٹی کو امریکی فضائوں پر قابض ہونے کی اجازت دی گئی لیکن اوباما کی حفاظت کیلئے 1500 امریکی کمانڈوز ایک ہفتہ قبل ہی دہلی کو حصار میں لے چکے تھے۔ 15000 کیمرے نصب گئے، فضا میں اُڑنے والے ہر پرندے کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، دہلی کی گلیوں میں پھرنے والے کتے تو رہے ایک طرف‘ گائو ماتا کو بھی زنجیر سے باندھ دیا گیا۔ مودی نے گائو ماتا کو قید کروا دیا لیکن مہمان معزز ذی وقار کو تاج محل دکھانے کیلئے قانون توڑنے کی انہیں جرأت پھر بھی نہیں ہوئی۔ یہی زندہ قوموں کا چلن ہوتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی ترقی میں یہی فرق ہے۔ ہمارے حکمران بھی قانون پر عمل پیرا ہو جائیں تو پاک سرزمین سے بھی ترقی کے نقوش ابھرنا شروع ہو سکتے ہیں لیکن اس کیلئے حکمرانوں کو اپنی مصلحتوں سے نکلنا ہوگا اوراپنے ذاتی مفادات کی قربانی دینا ہوگی۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...