نقل مکانی سب سے بڑا مسئلہ

30 جنوری 2015

طیب علوی (ایم اے او کالج لاہور)

انسان کے اس دنیا میں ظہور کے ساتھ ہی نقل مکانی کا وجود بھی ہوا جیسے جیسے انسان کی ضرورتیں بڑھتی گئیں انسان نے اپنے بہتر مستقبل کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی شروع کر دی دریاوں اور ساحلی علاقوں جہاں انسان کے رہن سہن کی چیزیں موجود تھیں آبادیاں بنتی گئیں۔ دنیا کی تقریباً تمام تہذیبیں نقل مکانی کے بعد وجود میں آئیں آریائی و سطی ایشیا سے یہاں نقل مکانی کر کے آئے منگول منگولیا سے اٹھے اور تمام دنیا پر چھا گئے۔ آج کے دور میں جو نقل مکانی ہو رہی ہے وہ بہت سے مسائل کا موجب بن رہی ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں لاہور اسلام آباد کراچی پشاور فیصل آباد گوجرانوالہ کی آبادی ہوشربا حد تک بڑھ چکی ہے اور آبادی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا اس کی سب سے بڑی وجہ دیہاتی اور ملک کے پسماندہ علاقوں سے بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک کے بڑے شہروں کی طرف عوام کی نقل مکانی ہے۔ اس نقل مکانی نے شہروں میں بہت سے مسائل کو جنم دیا ہے جن میں بیروزگاری لاقانونیت آلودگی ٹریفک کے مسائل اور دہشت گردی جیسے مسائل کا جنم ہوا ہے کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں غیر قانونی ہاوسنگ سکیمیں دھڑا دھڑا بن رہی ہیں جو ٹریفک اور ٹرانسپورٹ اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہر چوک میں ٹریفک جام عام نظر آتا ہے۔ صرف کراچی کی بات کی جائے تو لاکھوں افغانی و غیر ملکی وہاں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں جن کی بدولت کراچی شہر کا سکون غارت ہو کر رہا گیا ہے ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری چوری ڈکیتی راہزنی میں بھی غیر قانونی عناصر ہی ملوث پائے جاتے ہیں۔ دوسری نقل مکانی ایسے لوگوں کی ہے جو روزگار کی تلاش میں بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور پھر وہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ لاہور اور کراچی میں ہر دوسرا شخص باہر کے علاقوں سے تعلق رکھتا ہے۔ لاہور کے گرد غیرقانوی آبادیاں کچی اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ اےک نئے شہر کا گمان ہوتا ہے۔ حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی نقل مکانی نے دیہاتی و کمرشل پلاٹوں کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے شہر میں کرایہ دار ریہائشیوں کی تعداد بھی شہری آبادی کے اےک چوتھائی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ملک کے دور درار علاقوں میں روزگار کا نہ ہونا ہے جاگیردارانہ نظام نے بھی لوگوں میں شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ بہتر طرز زندگی اور بنیادی سہولیات جو ان پسماندہ علاقوں میں ناپید ہیں اس کی وجہ سے بھی لوگوں کی بہت بڑی تعداد بڑے شہروں کا رخ کرتی ہے۔ معاشی اور قانونی تحفظ بھی لوگوں کو بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی پر مجبور کرتا ہے۔نقل مکانی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی طرف ہماری کوئی خاص توجہ نہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو نقل مکانی بھی ملک کے بڑے مسائل میں ایک اہم مسئلہ ہے جس کی روک تھام کے لیئے اگر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بڑے شہروں میں اور بھی سنگین مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ نقل مکانی کی وجہ سے ہم اےک طرح سے اپنی تہذیب اور تمدن سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں ہمیں اپنی روایات سے جڑا رہنا اچھا نہیں لگتا ہم شہروں کی طرف نقل مکانی اس لیے بھی کر رہے ہیں کہ دیہات کے رہن سہن کو ہم”معیوب“ تصور کرتے ہیں اور اپنے شایان شان نہیں سمجھتے۔ لیکن اس حقیقت کو یکسر بھول جاتے ہیں کہ انہی دیہات کے ساتھ ہمارا ماضی جڑا ہوا ہوتا ہے لیکن حال اور مستقبل کو ہم محفوظ بنانے کے لیے نقل مکانی تو کر لیتے ہیں ساتھ ہی ماضی کا خون بھی کر دیتے ہیں۔