امریکی صدر کا دورہ بھارت

30 جنوری 2015

امریکہ کے صدر باراک اوباما نے حالیہ دنوں ہندوستان کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا۔ اپنے دورے صدارت کے دوران اُنکا یہ ہندوستان کا دوسرا دورہ تھا جو کہ بہت سے حوالوں سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اپنے اس دورے کے دوران وہ ہندوستان کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر مہمانِ خصوصی بھی تھے جو کہ ازخود ایک انتہائی اہم امر ہے۔ گذشتہ سال ہندوستان میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی بر سرِ اقتدار آئی اور اُسکے ایک انتہا پسند رہنما نریندر مودی وزیرِ اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ نریندر مودی کا ماضی مذہبی انتہا پسندی اور پاکستان دُشمنی سے مزین ہے جسکی بنا پر اُن کے اقتدار میں آنے کے بعدہندوستان سے کسی خیر سگالی یا خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ پاکستان دُشمنی کے ایجنڈے کی بنیاد پر اقتدار میں آنے والی جماعت اور رہنما سے کسی بھلائی کی توقع رکھنی بھی نہیں چاہیے۔ باوجود اس کے کہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر وزیرِاعظم نواز شریف نے بھارتی وزیرِ اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ ہندوستان نے اس کا جواب خارجہ سیکٹریز کی سطح کے مذاکرات ملتوی کر کے دیا۔ گذشتہ کئی ماہ سے ہندوستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر فائر بندی کی شدید خلاف ورزیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں کئی بے گناہ پاکستانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چُکے ہیں۔ پاکستان میں کئی سالوں سے جاری داخلی عدم استحکام میں بھی بھارت پوری طرح ملوث ہے جس میں بلوچستان میں براہِ راست مداخلت کے ثبوت بھی موجود ہیں۔ نریندر مودی کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد اس کشیدگی میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کیطرف سے آئے روز پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان پر دبائو بڑھانے کیلئے ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔ اس تناظر میں امریکی صدر کا دورہ اور بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس دورے کو ہندوستانی میڈیا بہت بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاع اور باہمی تجارت سمیت بہت سے معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے ہیں جن میں سول نیوکلیئر معاہدہ سب سے اہم ہے۔ اس معاہدے پر اتفاق تو آج سے تقریباً چھ سال قبل ہوا تھا مگر بعض فنی مشکلات کے باعث اس پر عمل در آمد نہ ہو سکا۔ اب اس سلسلے میں ہندوستان کی طرف سے بعض اعتراضات کے بدلے امریکی یقین دہانیوں کے بعد اس پر عملدرآمد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سفارتی محاذ پر امریکی صدر کی طرف سے سلامتی کونسل کی مستقل رُکنیت کیلئے بھی ہندوستان کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے جس کے کیلئے ہندوستان گذشتہ کئی سالوں سے کوشاں ہے۔ باہمی تجارت کے ضمن میں بھی اسے کئی گنا بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس تمام پیش رفت کے تناظر میں پاکستان کے دفتر خارجہ کیطرف سے بھی حسبِ توقع ایک مفصل ردِ عمل سامنے آیا ہے جس میں سول نیوکلیئر توانائی اور سلامتی کونسل کی مستقل رُکنیت جیسے معاملات پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی مستقل حلیف یا حریف نہیں ہوتا اور اس سلسلے میں ہر کسی کو اپنے مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تعلقات بڑھانے کا حق حاصل ہے۔ بھارت امریکہ شراکت داری بھی اگر اسی حد تک رہے تو کوئی ممانعت نہیں لیکن پاکستان کے ساتھ ہندوستان کی ایک تاریخی عداوت اور دُشمنی ہے جس سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان نے کبھی بھی پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا اور ہمیشہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کا ایک بُنیادی نقطہ ہے جس پر اقوامِ متحدہ کی قرار دادیں موجود ہیں مگر ہندوستان نے آج تک اُن پر عمل نہیں کیا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کرنے والا ملک سلامتی کونسل کا مستقل رُکن کیسے بن سکتا ہے۔ خطے میں نیوکلیئر دوڑ شروع کرنے والے ملک سے اس معاملے میں تدبر کی اُمید رکھنا بھی بے کیف ہے۔ اسی طرح جنگی جنون میں مبتلا شدت پسند ہندوستانی قیادت سے کسی بصیرت اور بھلائی کی توقع کرنا بھی بیوقوفی سے کم نہیں۔ امریکہ کو بھارت سے تعلقات بڑھاتے وقت اُن لاکھوں کشمیریوں کا بھی خیال کرنا چاہیے جو اس دورے کے موقع پر سراپا احتجاج تھے۔ دراصل بڑھتی ہوئی پاک چین دوستی اور اقتصادی تعاون امریکہ اور بھارت دونوں کو قبول نہیں اور اسے روکنے کیلئے یہ دونوں ممالک ہر وقت کوشاں ہیں۔ افغانستا ن کا ہمسایہ نہ ہونے کے باوجود ہندوستان کو افغان امن اور ترقیاتی عمل میں اپنا پارٹنر قرار دینے کا امریکی صدر کا اعلان بھی انوکھی منطق ہے۔ اس ساری صورت ِ حال میں ہمیں اپنے کارڈز انتہائی دانشمندی سے کھیلنے کی ضرورت ہے تا کہ اس اتحاد کا بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔ پاکستان شروع سے امریکی بلاک کا حصہ رہا ہے جس کی بدولت ہم نے بے پناہ نقصان بھی اُٹھایا ہے مگر امریکہ نے ہمیشہ اپنا مطلب نکالنے کے بعد ہمیں تنہا چھوڑا ہے ہمیں آئندہ بھی اسی رویے کی توقع رکھنی چاہیے۔ باہمی اتحاد اور بہتر داخلی صورت حال ہی ہمیں مضبوط کر سکتی ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ ہم یکسو ہو کر دُشمن کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کریں۔ آپس کے گروہی، لسانی، سیاسی اور مذہبی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ہی اس ضمن میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔