پانی کی آلودگی

30 جنوری 2015

آصف ذوالفقار
پانی خدا کی دی گئی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت اور عطیہ ہے مگر حضرت انسان کے طریقے، استعمال اور دیگر ضروریات اور وسائل کے استعمال نے اس نعمت کو ہی جان لیوا بنا دیا ہے۔ زندگی کی بنیادی ضروریات ہونے کے باوجود ہم اس پر خرچ کرنے سے گھبراتے ہیں اور پھر اس کے بُرے اثرات کو دور کرنے کے لئے اپنے تمام تر وسائل خرچ کر دیتے ہیں۔ آج کی اس ترقی یافتہ دنیا کو خوراک کے مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کی آلودگی کا ہے۔ پانی کی آلودگی ہر طرح سے انسانی صحت اور جان کی دشمن ہے یہ ناصرف انسانوں کے لئے بلکہ جانوروں اور پودوں کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ سوریج سسٹم کے نقائص تو اپنی جگہ مگر شہری آبادیوں سے دور ندی، نالے، نہریں، دریا، جھیلیں اور سمندر بھی آلودگی سے پاک ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ آلودگی انسانوں کی ہی پیدا کردہ ہے مگر یہ کسی بھی صورت انسانوں کے لئے فائدہ مند نہیں ہو سکتی ہے۔ جدید صنعتی دور نے پانی کی آلودگی کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہی درحقیقت آلودگی کی پیداوار کے باعث نہیں۔ کچھ شک نہیں کہ پانی کی آلودگی کو کم کرنے کے لئے بہت سارے اقدامات کئے جا رہے ہیں مگر یہ ادارے ابھی تک تسلی بخش نتیجہ دینے سے قاصر ہیں۔ آج ایک عام آدمی گھر بیٹھا پینے کے صاف پانی کو ترس رہا ہے درحقیقت انسان صنعت کی پیداوار اور منافع دیکھ رہا ہے مگر اس کے نقصانات کو نظر انداز کر رہا ہے حالانکہ ہر وقت تدارک کرنے کی صورت میں کچھ منافع میں تو کمی ہو سکتی ہے مگر کئی قیمتی حیات محفوظ ہو سکتی ہیں۔ سرکاری سطح پر صحت جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد صحت پر خرچ کیا جاتا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ پانی صاف کرنے کے چند منصوبے ہیں جو کہ بڑے شہروں کے کچھ علاقوں میں ہیں۔ ہمارے ملک کا سیوریج سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے جو کہ صاف پانی میں شامل ہو کر اسے بھی آلودہ کر دیتا ہے اور دیہاتوں میں سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے استعمال شدہ پانی فصلوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ گندے پانی سے پھیلنے والی جان لیوا بیماریاں جیسا کہ ملیریا، گلے، معدے کی بیماریاں، یرقان، پولیو، قے کا آنا، سانس کی تکلیف اور کینسر جیسی موذی بیماریاں انسانیت کی تباہی کا سامان لئے رواں دواں ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ منحصر درمیانے اور لمبے عرصے کی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر زندگی کی فضا میسر آ سکے۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک نایاب تحفہ ہو گا۔ حقائق بتاتے ہیں کہ 62 فیصد شہری آبادی صاف پانی پینے سے قاصر ہے تو دیہی آبادی تو اس شرح سے کوسوں دور ہے۔ دنیا میں ہر 100 فوت ہونے والوں میں سے پاکستان میں 40 فیصد گندے پانی کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اڑھائی لاکھ بچے سالانہ پانی کی قلت یا گندا ہونے کی وجہ سے مر جاتے ہیں جبکہ ان مسائل کے حل کیلئے تجویز کردہ تمام منصوبے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں ان کی وجہ صرف ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن ہے۔ انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشن اس سلسلے میں کام تو کر رہی مگر اس ادارے کو چاہئے کہ دیگر علاقائی اداروں، تنظیموں اور این جی اوز کے ساتھ مل کر مزید فعال منصوبے بنائے جائیں اور ہر ملک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق انفرادی حیثیت سے ٹارگٹ بنائے جائیں اور مقامی حکومتوں کے تعاون سے ان کو فعال کیا جائے، چھوٹے چھوٹے منصوبوں کو بڑے مقاصد کے لئے سیٹ کیا جائے اور جہاں زیادہ ضرورت ہو وہاں زیادہ فنڈ خرچ کئے جائیں۔