’’ہماری بحرانی کیفیت کا علاج اپنے اندرجھانکنے میں ہے ‘‘

30 جنوری 2015

امریکہ کے صدر اوباما کے حالیہ دورہ بھارت کے دوران ، بھارت کے ساتھ نئے تعلقات استوار ہو نے پر کئی طرح کے معاہدے اور خصو صی مراعات ملنے پر پاکستان میں ایک پریشان کن اور احتجا جی کیفیت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے حکومت پاکستان نے بھی اس دورہ کے اختتام پر مشیر قو می سلامتی اور خارجہ پالیسی سرتا ج عزیز صاحب کی طرف سے سرکاری بیان کا اعلان کیا ہے وہ بھی قارئین کی نظروں سے گزرا ہو گا ۔ امریکہ نے بھارت کو اگلے دس سال کیلئے اپنا نہ صرف جنوبی ایشیا میں بلکہ گلو بل سطح پر سٹریٹجک پارٹنر بنانے کا اعلان کر تے ہوئے بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بنانے میں اپنی مدد کا یقین دلایا ہے ۔ سویلین نیو کلیئر سہولتیں مہیا کرنے کے علاوہ بھارت کو عالمی نیو کلئیر سپلائر گروپ کا ممبر بنانے میں بھی اپنی بھر پور رضا مندی ظا ہر کی ہے یہ سب کچھ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کی کرشماتی میز بانی اور اپنے ہا تھوں سے صدر اوباماکو چائے کی پیا لی پلانے کا جا دو نہیں کہا جا سکتا بلکہ اس کے پیچھے بھارت کی کئی سالوں کی ایک مسلسل سفارتی کا وش سر گرم تھی۔ اس دورانیہ میں افسو س سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کی کسی بھی حکومت یا سیا سی پارٹیوں اور پاکستانی میڈیا نے کوئی قابل ذ کر ایسا مثبت کردار ادا نہیں کیا نہ ہی ہمارے بین الا قوامی سفارتخانوں نے کوئی ایسی کا وش کی کہ بین الا قوامی رائے کو اس تلخ حقیقت سے آشناء کیا جائے کہ امریکہ کی طرف سے ایسے یکطرفہ اقدامات جنو بی ایشیا میں مستقل امن کی بحالی کیلئے منفی بلکہ خطر ناک صورتحال پیدا کرسکتے ہیں جس سے پورے خطہ بلکہ جنو بی ایشیا مڈ ل ایسٹ اور وسطی ایشیا کے علاوہ مشرقِ بعید میں بھی موجودہ Balance of Power کو شدید نقصانات کے خد شا ت پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو ایسا اندرونی و بیرونی بحران پہلی دفعہ پیش نہیں آیا بلکہ قائد اعظم کی وفات کے بعد سے ہی پاکستانی قیادت میں جمہوریت کے مستحکم نہ ہو سکنے کے باعث کئی مواقع پر اندرونی انتشار اور عدم استحکام کے باعث بیرونی سازشوں نے فائدہ اٹھا تے ہوئے جو حشر بر پا کیا اُس کی پہلی مثال سقو ط ڈھاکہ اور پاکستان کے دو لخت کرنے کی صورت میں سامنے آئی تھی۔ ہم نے اُس عظیم سانحہ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور اپنے اندر ایمان ، اتحاد اور تنظیم کو فروغ دینے کی بجائے انتشاراور فرقہ واریت ، صوبائیت کرپشن و ذاتی مفا دات کو ریاست و قو م کے اعلیٰ ترین مفادات کو نظر اندازکر تے ہوئے آج دہشت گردی کا شکار ہو کر حالت جنگ میں ہیں جس کے نتیجہ میں پچاس ہزار شہریوں کی ہلا کت کے علاوہ دس ہزار بہادر فو جی دفاعِ وطن کیلئے شہادت کا جام نو ش کر چکے ہیں پھر بھی ہم اپنے خواب ِ گرا ںسے بیدار نہیںہوئے ۔عجیب اتفا ق ہے کہ 16دسمبر1971کو سقوط ڈھاکہ کی قیامت بر پا ہوئی اور 16دسمبر 2014کو ایک دفعہ پھر پشاور کے آرمی پبلک سکول کے 150 معصوم بچوں اور اُن کے اساتذہ کی دہشت گردوں کے ہاتھوں بربریت اور تاریخ انسانی کی بد ترین درند گی کے بعد قو م کو ایک ایسا بجلی کا جھٹکا لگا جس نے اُس کو حالات کے جبر کے تحت متحد ہو کر پاکستان کو دہشتگردی کیخلاف جدو جہد پر مجبور کر دیا جسکے نتیجہ میں فوری طور پر ملک کی سیاسی اور فو جی قیادت نے پوری قوم کے ساتھ مل کر تمام سیا سی پارٹیوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کر کے پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئین میں ترمیم کر تے ہوئے قا نون سازی کی تاکہ اندرونی و بیرونی دشمنوں کیخلا ف متحدہو کر جنگ لڑی جائے 21ویں آئینی تر میم کا قا نون اس بات کا کھلا اور واضع اعتراف بلکہ ثبوت تھا کہ پاکستان میں حالات معمول کیمطابق نہیں ہیں غیر معمو لی حالا ت میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے جن میں فوری انصاف مہیا کر نے کے علاوہ بر سوں سے التواء میں پڑے ہوئے مقدمات کا فوری فیصلہ اور مستقبل میں حالت جنگ کیمطابق انقلا بی اقدامات کر نے کیلئے قو می ایکشن پلان تیار کیا گیا جس کیلئے زندگی کے ہر شعبہ میں فوری اصلا حات اور انقلا بی تبدیلیاں لا نے کیلئے پارلیمنٹ اور کا بینہ بیس مختلف کمیٹیاں و فاقی اور صو بائی سطح پر قائم ہوئیں جن میںہر قسم کے ماہرین بشمول فو جی قیادت کے زندگی کے ہر شعبہ کے اعلیٰ ترین چو ٹی کے افراد کا انتخا ب کیا گیاچنانچہ ملکی سطح پر حالتِ جنگ سے نپٹنے کیلئے جوبیس کمیٹیاں بنائی گئیں اُن میں سے ایک بنیادی کمیٹی فوری انصا ف مہیا کر نے کیلئے آرمی ایکٹ میں تر میم کر کے فو جی سپیشل عدالتیں قائم کر نے کا اقدام بھی کیا گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ اب جن سیاسی جماعتوں نے آل پارٹی کانفرنس اور پارلیمنٹ میں ان اقدامات کی منظوری دی تھی وہی پارٹیاں اب اپنے سابقہ فیصلوں سے انحراف کر تے ہوئے ان عدالتوں کے قیام کیخلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے سامنے پٹیشنز فائل کر چکی ہیں جن کا اب عدالتِ عظمیٰ موزوںفیصلہ دیگی۔ اندریں حالات قوم کو اس فیصلے کا انتظار کر نا چاہیے ۔اس مو قع پر یہ کہنا قو می مفاد میں لا زم ہے کہ ان حالت جن میں سے ہم آجکل گزر رہے ہیں اُنکی بنیادی وجوہات کا جائز ہ لیا جائے جب تک کسی مر ض کی بنیادی تشخیص نہ کی جائے اُسکے بغیر مر ض کا علا ج ممکن نہیں ہوتا اس لیے جب ہم اپنی موجودہ افسوسنا ک صورتحال کا رونا روتے ہیں تو کبھی بھارت پر الزام لگا تے ہیں کبھی امریکہ کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں اور اسی طرح یہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو اپنی افسوسنا ک صورتحال کا ذمہ دار قرار دیکر ہم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو سکتے ہیں یہ انصا ف کے تقا ضوں کے منا فی ہے چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری قوم اور قو می قیادت جس میں سول اور فو جی دونوں شامل ہیں اپنے اندرونی حالات اور کمزوریوںو کوتاہیوں کی طرف توجہ دیں۔
چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے جہاں ہم غیروں کا گلہ اور شکایت کرتے ہوئے اُ ن پر الزام تراشی کر تے ہیں وہاں ہم اپنے اندر بھی نظر ڈال کر اپنے اصلاح حوال کا اہتمام کریں اگر اہم حالت جنگ میں ہیں تو ہمیں حالت جنگ کے اقدام کر نے پر بعض پابندیاں قبول کر نی ہونگی ۔ ورنہ ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس کے انجام کا پوری قوم کو خمیازہ بھگتنا پڑے ۔