ملاوٹ انسانی صحت کی دشمن

30 جنوری 2015

ماریہ خالد (ایم اے او کالج لاہور)

پاکستان میں بڑھتی ہوئی ملاوٹ سے ہر کوئی باخبر ہے۔ روزبروز بڑھتی ہوئی اس برائی کا کوئی سدباب نہیں اور نہ ہی ہوتانظر آ رہا ہے۔ آج کوئی بھی چیز ملاوٹ سے پاک نہیں ہے۔ نہ کھانے پینے کی نہ پہننے اوڑھنے کی اور نہ ہی روزمرہ کے استعمال کی چیزیں۔ اس ملاوٹ کی حد یہاں آکر ختم ہو جاتی ہے کہ اب نو شہد بھی مکھی کے بجائے انسان بنانے لگے ہیں۔ ایک قدرتی تحفے کو ہم انسانوں نے اپنی ہٹ دھرمی لالچ کے باعث قدرتی نہیں رہنے دیا۔ بے شمار بے حس افراد اس گھناﺅنے دھند ہ میں شامل ہیں۔ یہ لوگ سکرین، چینی، پانی، گلوکوز اور مختلف کیمکلز کے استعمال سے شہد بناتے ہیں۔ لوگ جسے شفا سمجھ کر دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں اس کو گندگی سے بھری جگہ، گندے برتنوں اور غلاظت بھرے ہاتھوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ اصل شہد کی پہچان یہ ہے کہ جب اسے پانی میں ڈالا جاتا ہے تو یہ پانی میں مکس نہیں ہوتا اور پیندے میں بیٹھ جاتا ہے۔ میری عوام سے یہ گزارش ہے کہ وہ اس فرق کو محلوظ خاطر رکھیں اور دوا کے بجائے زہر نہ کھائیں۔ دودھ تو شروع سے ہی ملاوٹ کا شکار ہے ایک لیٹر دودھ میں دولیٹر پانی شامل کر دیا جاتا ہے دوکانوں میں تین طرح کے دودھ دستیاب ہوتے ہیں۔ سستا، مہنگا اور سب سے مہنگا۔ اب عوام کیا کرے کون سا دودھ لے اور کونسا نہیں؟ دودھ کے بعد دودھ دینے والی گائیں بھی ملاوٹ کا شکار۔ گوشت میں بھی پانی بھر دیا جاتا ہے۔ جس سے وزن میں بھاری اور میعار میں نہایت ہلکا بلکہ مضر صحت ہو جاتا ہے۔ اس ملاوٹ کی سب سے بڑی مثال بوائلر مرغی ہے جواب تین ہفتوں میں ہی تیار ہ جاتی ہے۔ جو مرغی خود اپنے پاﺅں پر صحیح سے کھڑی نہیں ہو سکتی وہ ہم انسانوں کو کیا صحت دے گی۔ جن کی فیڈ انہیں کے گندے بچے کھچے حصوں سے تیار ہوتی ہے۔ ذرا سوچیے کہ وہ کھا کر انسان موت کے منہ میں نہ جائے تو کہا جائے ایسی مرغی او اس کے انڈے دونوں مضر صحت ہیں۔ کھانا پکانے کے لئے جو مصالحے استعمال ہوتے ہیں وہ بھی لکڑیوں اور اینٹوں سے تیار کئے جا رہے ہیں۔ ہلدی کے لئے سوکھی لکڑیاں اور مرچ کے لئے پتھر پیس کر استعمال ہو رہے ہیں۔ کھیتوں میں فصلوں کو جلد تیار کرنے کے لئے جو کھاد ڈالی جاتی ہے اس سے سبزیوں او پھلوں کی ساری غذائیت خاک میں مل جاتی ہے اور انہیں کھا کر انسان ذرا سی بھی صحت نہیں بنا پاتا۔ اب بتائیے ان حالات میں عوام کیا کرئے کہاں جائے۔ میری حکومت سے یہ مودبانہ گزارش ہے کہ پاکستان میں خوراک کے میعار کو بہتر کیا جائے اور ملاوٹ کو جڑ سے ختم کیا جائے ۔