ریلوے ایمر جنسی ٹریک پٹرولنگ پولیس کی مشکلات

30 جنوری 2015

صابر بخاری

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی انتھک کاوشوں کے سبب پاکستان ریلوے بہتری کی طرف گامزن ہے گاڑیوں کی ٹائمنگ میں کافی بہتری آگئی ہے۔ راقم نے گزشتہ دنوں بذریعہ ٹرین ملتان سے لاہور آنا پڑا۔ ابھی ٹرین سٹیشن سے چند کلو میٹر چلی تھی کہ ممتاز آباد کی گنجان آبادی میں ایک دس سالہ معصوم بچہ ٹرین کے نیچے آکر جاں بحق ہوگیا۔معصوم بچے کی اس ناگہانی موت سے ٹرین میں ہر بندہ اشکبارتھا۔ اہل محلہ نے بتایا کہ یہ گنجان آباد علاقہ ہے۔ بچے اکثر کھیلتے ہوئے اور بڑے انجانے میں ٹریک پر چلے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اکثر بچے اور کبھی کبھار بڑے بھی اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں ملک کے مختلف حصوںمیں ٹرین کے نیچے آکر متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ خواجہ صاحب اگر شہری علاقوں میں ریلوے ٹریک کے اردگرد موٹروے کے اردگرد لگی خار دار تاروں کی طرح کی دیوار بنادی جائے تو بچے، بڑے، بزرگ، جانور ریلولے ٹریک پر جانے سے بچ جائیں گے اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے محفوظ رہیں گی۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ ریلوے پولیس جو محکمہ ریلوے کے انڈر ہے انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ریلوے پولیس ملازمین کی تنخواہیں بہت کم ہیں بلکہ تقریباً تمام فورسز سے کم ہیں۔ ایمرجنسی ٹریک پٹرولنگ جو صادق آباد، سکھر، جیک آباد، سبی سمیت دوسرے علاقوں میں ہیں وہاں ریلوے پولیس ملازمین ڈیوٹی دے رہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق آوٹر سگنل جو تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہوتا ہے اس کے باہرٹریک کی حفاظت ضلعی پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ضلعی پولیس اس مد میں فنڈز بھی لے رہی ہے۔ریلوے پولیس ملازمین کو ان کے حقوق نہیں دیے جارہے پولیس اہلکار سردی گرمی میں دور دراز کے علاقوں سے آکر ٹریک کی پیدل چل کر حفاظت کرتے ہیں مگر ان کو نہ تو رہائش دی جارہی ہے نا کھانے پینے کا بندوبست ہے کوئی الاونس بھی نہیں دیا جارہا ۔تنخواہ پہلے ہی کم جو رہائش، کھانے پینے پر خرچ ہوجاتی ہے ان کو گھر کا کچن چلانے میں دشواری کاسامنا ہے ۔ریلوے پولیس آٹو میٹک رائفل استعمال کررہی ہے جس کا استعمال دوسری فورسز نے ختم کردیا ہے اور ایسا اسلحہ مال خانہ میں جمع کرادیا ہے مگر ریلوے پولیس ابھی بھی کررہی ہے۔ ایم پی فائیو رائفل بھی ناکارہ ہے۔ ایمرجنسی ٹریک پٹرولنگ پولیس اہلکاروں کے پاس بھی زنگ آلود اسلحہ ہے جو کسی کام کا نہیں۔ریلوے ترجمان کے مطابق اکثر آبادیاں ریلوے ٹریک کے بہت قریب آگئی ہیں۔ان تجاوزات کیخلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔کوٹ لکھپت سے شاہدرہ تک فینسنگ کا کام ہو چکا ہے۔ڈی آئی جی ریلوے شارق جمال کے مطابق ریلوے پولیس اہلکاروں کو الاونس دیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ریلوے پولیس کی تنخواہیں سب فورسز سے کم ہیں مگر چار مراحل سے گزر کر ریلوے پولیس کی تنخواہیں بھی باقی فورسز کے برابر ہو جائیں گی۔ریلوے پولیس نے جو نیا اسلحہ خریدا ہے اس میں جی تھری ،ایس ایس جی اور دوسرا جدید اسلحہ بھی شامل ہے ۔