پٹرول بحران کے حل میں وفاقی حکومت کا کردار

30 جنوری 2015

پنجاب میں پچھلے چند دن عوام کو پٹرول حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر پٹرول پمپوں پر پٹرول کی فروخت یکسر بند رہی ۔ جو کھلے رہے وہاں لوگوں کا بہت زیادہ رش رہا۔ عوام کو پٹرول کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری تو ہے ۔مگر کیا اس بُحران میں حکومت کا بھی عمل دخل تھا؟ حکومت اس میں کسی حد تک ذمہ دارتھی؟ پچھلے ہفتے پیدا ہونیوالے پٹرول کے بحران کی وجوہات میں سے ایک بڑی اور اہم وجہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہے ۔ یہ حکومت وقت کا احسن اقدام تھا جس کا مقصد عوام کو ریلیف پہنچانا تھا۔ دو ماہ میں پٹرول کی قیمتوں میں 20 فیصد سے بھی زیادہ کی کمی آئی ۔ مہنگائی میں پسے ہوئے لوگو ں نے بھی اس خوش خبری پر مسرت کا اظہار کیا ۔اس کمی سے سی این جی کے صارفین نے گیس پر انحصار کرنا بند کردیااور گاڑیا ں پٹرول پر چلنے لگیں پٹرول کی قیمتیںاس حد تک کم ہو گئیں کہ بعض رکشہ چلانے والے بھی سی این جی کی قطارمیںلگنے کی بجائے پٹرول ڈلوانے کو ترجیح دینے لگے ۔اس سے پٹرول کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ایک معروف معیشت دان کے بقول تیل درآمد کرنیوالی کمپنیوں کو ہونے والا انونٹری نقصان بھی پٹرول بحران کی ایک وجہ تھا۔ فرض کریں کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل ہے اور پاکستان میں پٹرول کی قیمت سوروپے فی لیٹر ہے( یاد رہے کہ ایک بیرل میں تقریباً 159 لیٹر پٹرول ہوتا ہے۔ تیل برآمد کرنیوالی کمپنیاں خام حالت میں تیل امپورٹ کرتی ہیں۔ اسکے بعد آئل ریفائنریز اس تیل کو صاف کر کے پٹرول بناتی ہیں اور پھر یہ پٹرول عوام کو مختلف ذرائع سے فروخت کیا جاتا ہے(۔ اب اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت مزید کم ہو جاتی ہے اور حکومت تیل کی قیمت 100 روپے سے 90 روپے فی لیٹر کر دیتی ہے تو آئل امپورٹ کرنے والی کمپنیوں کو 10 روپے فی لیٹر کا نقصان ہے ۔ ان کمپنیوں نے تو پٹرول 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے دینا تھا ۔ مگر عالمی منڈی میںقیمت کی کمی کی وجہ سے ہونیوالے اقدامات سے ان کو نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس صورتحال کا سامنا حکومت پاکستان کو کرنا پڑا ۔ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل گرنا شروع ہوگئیں تو آئل امپورٹ کرنے والی کمپنیوں نے انونٹری لاس سے بچنے کے لیے آئل امپورٹ کرنے میں شدید کمی کر دی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں پٹرول کا بحران پیدا ہو گیا۔ یہاں  یہ بات  اہم  ہے کہ یہی کمپنیاں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کا فائدہ بھی اٹھاتی ہیں۔ جن کمپنیوں کو آج پٹرول کی قیمت میں کمی کی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے یہی کمپنیاں گزشتہ کئی برسوں سے ملک سے اربوں روپے کا منافع بھی کما چکی ہیں ۔ رائج الوقت قانون کیمطابق آئل امپورٹ کرنے والی کمپنیاں ہر وقت کم از کم 20 دن کا ذخیرہ رکھنے کی پابند ہیں مگر ان کمپنیوں نے ایسا نہیں کیا۔ اور نہ ہی اوگرا نے اس بات کو مانیٹر کیا جو کہ ایک خود مختار ادارہ ہے۔ پٹرول بحران کی شدت میںاضافہ ہواجب لوگوں نے بحران کا سن کر ہیجانی خریداری کرنا شروع کردی ۔ جو شخص روزانہ ایک لیٹر پٹرول بھرواتا تھا وہ بھی ٹینکی فل کروانے کیلئے قطار میں لگ گیاا و ر منافع خوروں نے بھی خوب ہاتھ رنگے ۔رہی سہی کسر افواہوں نے پوری کر دی ۔اسی اثنا میں پار کو ریفائنری بھی فنی وجوہات کی بنا پر بند ہوگئی۔ اس ساری صورتحال میں وفاقی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں یہ بات درست ہے کہ اوگرا تیل کے بحران کا ذمہ دار ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ اوگرا ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے جو فیصلے کرنے میں خود مختار ہے ۔ وفاقی حکومت نے اوگرا کی نااہلی کی وجہ سے پیدا ہونیوالے پٹرول کے بحران پر فوری اقدامات کرتے ہوئے نہ صرف تحقیقاتی کمیٹی بنائی بلکہ وزیراعظم نے اپنی تمام مصروفیا ت ترک کرتے ہوئے پاکستان واپسی پر صورتحال سے نمٹنے کیلئے اجلاس بلا ڈالا وزیراعظم نے پیدا ہونیوالے بحران پر ناگواری کا اظہارکیا اورمتعلقہ حکام کی سخت سرزنش کی ۔ انہوں نے عوام کو پٹرول کی فراہمی کے ذمہ دار افسران کو اپنے فرائض منصبی پر عمل درآمد میں سستی پرمعطل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ اس بحران پر قابو پانے کیلئے موثر انتظامی اقدامات اٹھاتے ہوئے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کی گئی جس سے پٹرول کی غیر قانونی خریدوفروخت پر قابو پانے میں مدد ملی۔
وزیراعظم نے قوم کو ریلیف دینے کیلئے بروقت فیصلے کیے اور آج صورتحال یہ ہے کہ ایسا بحران جس کے حل میں کم از کم دو تین ہفتے درکار تھے کافی حد تک قابو میں آ چکا ہے۔ تقریباً 28 ہزار ٹن پٹرول ملک میں سپلائی کیا جا چکا ہے اور آج دیکھا گیا ہے کہ پٹرول پمپوں پر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نہیں ہیںاور 80 فی صد پٹرول پمپ کھلے ہیں۔یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ وزیر پٹرولیم نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے عوام کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا اور بحران کے جلد حل کی یقین دہانی کرائی۔ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو۔ لیکن حکومتوں کی صلاحیتوں کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب وہ ایسی صورتحال سے احسن طریقے سے نمٹیں۔