’’پاکستان کے خدشات ہمارے خدشات ہیں‘‘

30 جنوری 2015

مجھے نہیں معلوم میں نہیں جانتا نہ ہی بات کرنا چاہتا ہوں کہ امریکہ نے میرے ساتھ کیاکیا؟ میری صرف ایک ہی خواہش ہے۔ میں بھارت کو ایسے ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں کہ ایک دن ’’پورا امریکہ‘‘ انڈیا کا ویزہ لینے کیلئے قطار میں کھڑا نظر آئے ۔ اس نے ہاتھ ملانے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ ’’اوباما‘‘ نے لپک کر گرمجوشی سے گلے لگا لیا۔ سر سبز پر شکوہ ہائوس بے تکلف دوست کی طرح ٹہلتے ہوئے کیوں رک جاتے کبھی چل پڑتے درمیان میں بارہا دونوں کے سرگوشی کے انداز میں باہم جڑجاتے۔ اپنے ہاتھوں سے چائے بناکر دی۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ بچپن کے دوست برسوں بعد مل رہے ہوں۔ ایک وہی دوست جس کو کچھ عرصہ قبل بڑے دوست نے دو مرتبہ ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ قارئین کچھ دن اخبارات اور برقی چینلز 100 ساڑھیوں پر تکلف انداز گفتگو سے مرغن غذائوں تک خوب مواد نشر کرتے رہے مگر بات یہ ہے کہ دونوں ملک جمہوری روایات پر پختہ یقین رکھنے کے علاوہ عملاً بھی کاربند ہیں اس لئے یہ ملاقات دو اشخاص کے درمیان نہیں بلکہ دو ممالک کے مابین گہرے تعلقات کی ایک پرانی تاریخ ہے یہ ایک سربراہ کا دورہ تھا۔ اس ملک کے سربراہ کو جو فی الوقت ’’عالمی بالادست‘‘ قوت کے طور پر مسلمہ حیثیت کا حامل ہے۔ مزید براں ہر دورے کی اپنی نزاکتیں، حقائق ہوتے ہیں۔ بظاہرتو ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہاں اس صورت میں یقیناً خدشات ہیں جب اوباما اعلان کرے کہ جہاں خطرہ محسوس ہوا۔ امریکہ یکطرفہ کارروائی کریگا۔ مزید یہ کہ دنیا ترقی کیسے کریگی اس کا تعین چین نہیں امریکہ کریگا مزید ارشاد ہوجائے کہ بھارت حقیقی گلوبل پارٹز ہے اسکے بعد 6 سالہ تعطل ختم سول نیو کلیئر معاہدہ فائنل جو ہری ہتھیاروں پر ٹریکنگ ڈیوائس کی شرط بھی ختم کردی۔ ایٹمی تجارت شروع کرنے اور دفاعی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا اعلان۔ ہمیں کا ہے کو ڈرلگتا اگر بات یہیں پر ختم ہوجاتی پاکستان کیلئے چند کروڑ ڈالرز بھی منتوں ترلوں کے بعد اور وہ بھی عوام پر ناروا ٹیکس عائد کرنے کی اتحادی دوستی کیساتھ جبکہ ادھر چائے نے کمال دکھا دیا۔ ایک لمحہ میں 4کھرب روپے دینے کا اعلان اس موقع پر بھلا ’’مودی‘‘ بھارت کو کاروبار کیلئے دنیا کی بہترین جگہ بنانے کا اعلان کیوں نہ کرتا۔ بھارتی نیو کلیئر تنصیبات کا معائنہ ختم کرکے امریکہ نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا اب واضح طور پر پڑھا جارہا ہے کہ سرحد پار بینرز لہرارہے ہیں امن برائے فروخت برسوں پہلے تو اترسے کچھ ’’خواب‘‘ دیکھے تھے چند تو من وعن پورے ہوگئے (دہشت گردی، امریکی بمباری، مداخلت) ایک خواب مسلسل دیکھتی تھی مناظر وہی ہوتے مگر مقامات، آبادی مختلف ، (سب رودادکالم میں چھپ چکی ہے) ہوتے انڈین طیارے، ہمارے سروں کے اوپر سے گزرتے ارد گرد بم پھٹ رہے ہوتے تباہی ہی تباہی کے خوفناک نظارے ’’صدر اوباما‘‘ کا دوسری مرتبہ انڈیا آنا اور تعلقات کی وسیع تر معنوں میں تجدید۔ یقیناً کچھ نہ کچھ پک رہا ہے۔ یہ مشورہ مصائب ضرور معلوم ہورہا ہے کہ ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ گرمجوشی کا ماتم بندکردیں۔ دورے کا پوسٹ مارٹم کرنے کی بجائے اپنے پائوں مضبوط کریں۔ خود کی کمزوریاں دور کرنے پر توجہ دیں۔ مایوس نہیں ہونا چاہیے مایوس کی حالت قوموں میں مرونی کا باعث بنتی ہے سب لوگ مل کر ایسی پالیسی بنائیں کہ اس کا قیام ممکن ہو۔ ترقی کی راہ میں امن کی خراب صورتحال سب سے بڑی رکاوٹ ہے امن کے قیام کیلئے اگر، مگر، کیوں جیسی بندشوں کا حصار توڑنا پڑیگا۔ آج اگر ہم پر کوئی پابندی عائد ہورہی ہے ہماری تنظیموں کو خلاف قانون قرار دیا جارہا ہے تو سارا قصور مغرب کا نہیں 80% افعال، اعمال ہمارے پیدا کردہ ہیں۔ ایک طویل مدت تک ہم نے اپنے معاشرے کو کھلا چھوڑے رکھا۔ نہ کہیں آنیوالے کو چیک کیا اور نہ کسی باہر جانیوالے کاغذات پڑھے، ہمارے کاغذات پر باہر کی قومیت درآمد، برآمد ہوتی رہی تو یہ حالت تو ہونا تھی۔ لمحوں میں نہ قوم بنتی ہے اور نہ ہی جغرافیہ بگڑتا ہے۔ ایک دہائی پر محیط تاریخی غلطیاں ہیں جو ہمارے ہاتھوں سے تحریر کی گئیں۔ بہرحال ہمیں خارجہ پالیسی کو ٹھوس، عملی صورت میں پرکھنے کی ضرورت ہے اور ضرورت تو ہمیں ایک فل ٹائم چوکس وزیرخارجہ کی بھی ہے ایسے وزیر خارجہ کی جو دنیا کو بتاسکے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ فریق پاکستان ہے۔ مزید براں دہشت گردی کی جنگ پر جبراً مسلط کی گئیں۔ نقصان بھی سب سے زیادہ ہمارا ہوا پھر بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ غیر محفوظ ٹھکانے برداشت نہیں کرینگے۔ اسکے باوجود زیادہ گھبرانے یا رد عمل دینے کی ضرورت نہیں ہمیں چاہیے کہ خود کو اس مقام پر لانے کی جدوجہد کا آغاز کردیں کہ مودی والی خواہش ہماری بھی منزل بن جائے، خوش قسمتی کا در کھول دے۔ دنیا میں فی الوقت سب سے زیادہ فروخت ہونیوالی پروڈکٹ ’’امن‘‘ ہے عالمی ایجنسیاں طاغوتی طاقتوں کی بالادستی کیلئے دنیا کو جنگی شعلوں میں دھکیلنے کا کاروبار کرہی ہیں۔ امن بک رہا ہے اس کا تازہ مظاہرہ پچھلے دنوں بہت مرتبہ دیکھا۔ قارئین خطے اور عالمی سٹیج پر زیادہ موثر بھارتی قائدانہ کردار کی امریکی خواہش چند سطری الفاظ سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ ’’بھارت‘‘ ایک بڑی اقتصادی قوت کے طور پر تو دنیا سے معاہدے کر سکتا ہے مگر خطے میں اسکا پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات سے پاک تعلقات کا قیام موثر کردار کے ساتھ مشروط ہے۔ امن کی کھڑکی کھلنے کا انحصار بھارتی رویہ پر ہے۔ برصغیر کے بٹوارے کا دل سے تسلیم کیاجانا ضروری ہے۔ دوستی اور پائیدار امن کیلئے احترام اور برابری کی بنیاد پر پیش رفت کا آغاز انڈیا کی طرف سے ہونا چاہیے ’’خارجہ پالیسی‘‘ کی کلیدی چابی پاک چائنہ تعلقات سرلیول پر ہونی چاہیے سلامتی کونسل کی سیٹ کا سب سے بڑا زیادہ حقدار مسلم ممالک میں انڈیا اس ضمن میں کیسے حق جتا سکتا ہے ’’انڈیا‘‘ کبھی بھی رکن نہیں بن سکے گا۔ پاکستانی حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ امہ کی سطح پر متفقہ موقف اختیار کرکے کسی ایک مسلم ملک کو رکن بنوائیں دہشت گردی سے آگے بڑھ کر دونوں ممالک میں دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کی طرف بڑھنا چاہیے تعلقات کی راہ میں حائل غیر ضروری رکاوٹوں کیوجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہوئیں ان کو انڈیا دور کرے۔ صاف دل کے ساتھ ہمارے خدشات رفع کرے اور صاف دل کے ساتھ ہمارے خلوص کی قدر کرے۔