نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے

30 جنوری 2015

بین الاقوامی بحرانوں میں اہم ترین بحران وہ خطرناک صورتحال ہے جو مستقبل میں مذاہب اور تہذیبوں کے باہمی تصادم کی صورت میں رونما ہوگی۔ اس تلخ حقیقت کا پس منظر ایک تلخ تاریخی سلسلہ ہے۔ یہ تلخ تاریخی سلسلہ ان بین الاقوامی گروہوں کی سازشوں سے شروع ہوتا ہے جو اپنی فکری اور اعتقادی برتری کیلئے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کیلئے آسمانی احکامات اور آسمانی تذکرہ کو اپنی مرضی کیمطابق تبدیل کرتے رہے ہیں اور انسانیت کو زیرستم رکھتے ہوئے اپنی مذہبی پیشوانیت اور دنیاوی اقتدار کو مضبوط کرتے رہے ہیں۔اہل علم و مطالعہ پر یہ حقیقت جلدہی منکشف ہو جاتی ہے کہ ایسے ظالم و جابر انسانیت سوز گروہ مقتدر قوتوں کو اپنے زیردست رکھنے کیلئے ملوکیت کے استحکام کو مزید استحکام فراہم کرتے ہوئے ہر حیلہ پرویزی استعمال کرتے ہیں۔ علم و قلم کو اپنی جادوئی چھڑی کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ پسماندہ اقوام کو رعب اور رغبت کے ہتھیار سے مسمار کرتے ہیں اور اگر کسی جانب سے آسمانی مزاحمت کا سامنا بھی ہو جائے تو چاند پر مسلسل تھوکنے کا عمل بھی بنام دانش و حکمت شروع کر دیتے ہیں‘ لیکن فطرت کی تعزیرات تو اقتدار کے نصف النہار سورج کو بھی اندھیروں کے بلا خیز نیزوں پر پرو دیتی ہیں۔
خالق انس و جان کا آخری ہدایت نامہ قرآن کی صورت میں فخر جن و انس سید مہر جہاںسرور عرشیاں حضرت محمد مصطفیؐ کی ذات باکمال پر نازل ہوا‘ یہ کتاب مقدس ہر زماںو مکاں کے انسانوں کیلئے کامل ہدایت کی تفصیلات کا مثیل و مثال مرقع ہے۔ اسکا ہر ہر حرف کائنات کے تمام علم و شعور کے بلند ترین مقامات کو روشنی عطا کرتا ہے۔ دنیائے دلیل و برہان میں حجت روشن ہے اور تشکیک کو بے یقینی کے دروازوں پر قفل آخر ہے۔ وہ گروہ یا انکے نمائندہ افراد جو علم برہانی اور شعور روحانی سے بے بہرہ ہیں۔ ان کاہمہ وقت کا کھیل یہی آیات ربانی کا تمسخر اڑانا ہے۔ وہ عام سادہ انسانی رویوں، بنیادی روپوں اور بنیادی اخلاقی ضابطوں سے پوری طرح سے باخبر‘ لیکن حسد کی آگ کا دھواں انکے قلبی ماحول پر طاری ہے اس لئے وہ اپنی ضد اور انا کی حفاظت کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی سازشی اکھاڑے کی تازہ ترین واردات ملت افغانیہ کے نام سے پورے عالم اسلام میں بربادی کی وہ خفیہ مبنی بر زلزلہ ہوش ربا عسکریت ہے جس سے ارض مقدس حرمین شریفین کے نواح کا جغرافیہ تک متاثر ہے۔اہل عجم اور اہل عرب کسی پنجہ آزمائی کیلئے نجانے کتنے اصلاحی اور عسکری گروہوں کو علاقائیت اور پھر عجم کے لالہ زاروں کی صدائے اتحاد بنام مصطفیؐبلند ہوتی ہے اور گرفتار ابوبکر و علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کو احساس افتراق جھنجوڑتا ہے اور تہران کو مشرق کا جنیوا بنانے کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے تو مغرب کی انسانیت مار کارروائی اس کیلئے ایک تفصیلی کتاب درکار ہے‘ لیکن یہ کتنی بڑی ناانصافی‘ ہٹ دھرمی اور پتھر صفت رویے ہیں کہ رسول آخرؐ ایک تہائی دنیا کے پیشوائے اعظم ہیں۔ اس دنیائے اسلام کا اپنے رسولؐ سے جذباتی لگائو کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی جان‘ مال‘ آبرو کو اپنے رسول مکرمؐ کی امانت سمجھتے ہیں۔ ان کے ایمان کا مرکز ذات رسالت پناہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے۔ ان کا عقیدہ برملاہے کہ …؎
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں وہ
جو اس رسول محتشم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں نہایت مبنی برغلط خودساختہ معلومات کو تحقیق کا درجہ دیتے ہیں اور پھر تمسخر‘ مضحکہ و توہین کے دروازے کھول کر سب و شتم اور غلط ترین الزام تراشی پر اتر آتے ہیں۔ یہ معاملہ کہ وہ سب وشتم کرتے ہیں۔ نہایت خطرناک ہے۔ اگر خدانخواستہ‘ خاکم بدہن مسلمان جوابی طورپر بالکل اور بالکل اسی انداز کو مغرب کے توہین بازوں کی طرف لوٹا دیں‘ تو دنیاء مغرب میں ہیجان برپا ہوگا۔ انکے تیور اور زبان آتش بداماںہو جائینگے۔ مشرق اور دنیائے اسلام کے باسی انسان ہیں اور مغرب کے باسی بھی اسی طرح کے غیرحیوانی عقل و شعور کے مالک ہیں‘ لیکن اہل مغرب ایک عام انسان کی لغزش لسانی اور خطائے قلم کو تو سزاکا مستوجب قرا ردیں۔ ایک انسان کے جذبات متاثر ہوں تو ذمہ دارکو نیم مردگی25سال کی سزادیں‘ لیکن اگر اربوں مسلمانوں کے جذبات پامال ہوں‘ ان سے حق و فکر اعتقاد جبراً چھین لیا جائے اور مسلسل انکو روحانی شدید اذیت کاصدمہ در صدمہ دیا جائے تو کوئی زبان‘ قانون اور احساس متحرک نہیں ہوتا اور اگر کوئی احتجاج کرے تو اسے بھی قابل تعزیز ٹھرایا جائے۔فکر و شعور کی قدریں زمین درگور ہو گئی ہیں۔ صاحبان عقل و شعور‘ نشہ ٔتہذیب مغرب میں مغمور‘ حقائق بیتی سے معروز آنکھیں کھولو‘ دل کو ٹٹولو‘ امت مسلمہ محصور ہے‘ مجبور ہے‘ دلگری کا یہ عالم ہے…؎
نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی
گھٹ کے مر جائوں یہ مرضی میرے صیاد کی ہے
انسان تو انسان ہے‘ مغرب کا انسان اور مشرق کا انسان فطرتی طریقوں سے جنم لیتا ہے اور فطرتی طریقوں پر ہی آخری سانس لیتا ہے‘ لیکن یہ فرد انصاف کہاں مرتب ہوتی ہے کہ اگر مغرب میں کسی جانور کی حق تلفی نظر آجائے تو قانون و عدالت سب ہی متحرک ہو جاتے ہیں اور مشرق میں انسانی جذبات کو اول تا آخر مجروح کر دیا جائے تو اسے بین الاقوامی ضابطوں کی حفاظتی چادر میں پناہ میسر نہ آسکے۔1۔ اہل نظر پر روشن ہے کہ ہولی کاسٹ کے انکار کو اسرائیلی پارلیمنٹ (Knessct)نے 8 جولائی 1986ء کو جرم قرار دیا ہے2۔ جرمن کریمنل کوڈ کے سیکشن 179 کے تحت مرحومین اور وفات شدگان کی توہین کرنے والوں کو سزا تجویز کی گئی ہے۔ 3۔ یہی مغرب کا ایک خطہ آسٹریلیا ہے جہاں پر آسٹریلین کریمنل کوڈ ایکٹ 1995ء میں جرائم کی تفصیلات کو بیان کرکے انکی سزائوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اس قانون کے سیکشن 268-23 کے مطابق جسمانی و ذہنی اذیت کا باعث بننے والے غیرانسانی اعمال پر 25 سال سزا دی جا سکتی ہے۔مغربی دنیا میں انسان اخلاقی ضابطوں کی ایک طویل فہرست نظر آتی ہے۔