حضورؐ عالی شان بچوں کے درمیان

30 جنوری 2015

مولانا امیر حمزہ
 حضرت ابوہریرہؓ    سے روایت ہے کہ ننھے حسنؓ اپنے نانا جانؐ کے کندھو ں پر سوار ہیںاور ان کی رال بہہ  رہی ہے۔ وہ تفصیل میں نہیں گئے کہ کہاں بہہ رہی تھی۔  بلا شبہ وہ رال  بہہ کر حضورؐ کی کالی زلفوں کے ساتھ لگتی ہو گی۔ کبھی آپؐ کے کان مبارک کے ساتھ لگ جاتی ہو گی۔ اور اسی طرح کبھی حضورؐ کی گردن مبارک پر رال گرتی ہو گی۔ حضورؐ چلے جا رہے ہیں۔ ننھے حسنؓ کی رال بھی بہے جا رہی ہے۔ نانا کی نواسے  کے ساتھ یہ کمال محبت ہے ۔ عرب میں بھلا یہ کہاں رواج تھا کہ کوئی سردار بازار میں چل رہا ہو ، اس کا نواسہ اس کے کندھوں پر سوار  ہو۔ جی ہاں! یہ  شاہ عرب   ہمارے حضورؐ ہیں اور وہ اپنے نواسے کو کندھے پر سوار کیے یوں جا رہے ہیں جیسے عام آدمی جاتا ہے۔  قربان ایسے سردار دو جہاںؐ پر کہ جو ننھے بچے سے یو ں پیار کا عملی اظہار کیے مدینے میں چلے جا رہے ہیں۔ اور قربان اس ننھے سوار پر بھی جو جنت کے جوانوں کے سردار بن گئے۔  ( مسند احمد بن حنبل: ۸۷۷۹)
زبان اور ہونٹوں کے بوسے
بچہ جب تھوڑا سا سمجھ کے قابل ہوتا ہے، ہنسنا اور کھیلنا شروع کرتا ہے، تو ماں  بچے کا دل بہلانے کے لیے اسے چومتی ہے، باتیں کرتی ہے۔ پھر  بچہ بھی کھلکھلاتا ہے۔ اس کا کھلکھلانا اتنا بھاتا ہے کہ ماں اس کی زبان کو چومتی ہے۔ الغرض ! ماں اور بچے کا یہ باہمی پیار دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ ماں اور بچے کی محبت کی معراج ہے ۔
قارئین کرام ! ہمارے حضور نبی کریمؐ اپنی اولاد سے سب سے بڑھ کر محبت کرنے والے تھے۔ یہ صحابہؓ کی گواہی ہے۔ جی ہاں ! مائوں سے بڑھ کر محبت کرنے والے۔ سارے جہانوں کے لئے رحمت بن کر آنے والے۔ اپنی اولاد کے لیے کس قدر محبت کرنے والے تھے، یہ نظارہ حضرت حسنؓ کے ساتھ دیکھنے میں آتا ہے۔
نواسی اور نماز
اللہ کے رسولؐ کی سب سے بڑی بیٹی حضرت زینبؓ تھیں۔ ان کی شادی حضرت ابو العاص بن ربیع امویؓ سے ہوئی تھی۔ حضرت ابو العاصؓ حضرت زینب  کی خالہ کے بیٹے تھے۔ اللہ نے دونوں کو بیٹی عطا فرمائی جس کا نام امامہ  تھا۔ حضرت ابو قتادہ انصاریؓ بتلاتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ  نماز ادا فرما رہے تھے اور (اپنی ننھی سی نواسی) امامہ کو اٹھائے ہوئے تھے۔ جب آپؐ سجدہ کرتے تو زمین پر پاس بٹھا دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھا لیتے۔  
قارئین کرام! محدثین نے حضورؐ کی اس نماز کو فرض کہا ہے۔ بعض نے نفل کہا ہے۔ فرض نماز ہو یا نفل، اندازہ کریں کہ حضورؐ  کو اپنی نواسی سے کس قدر محبت ہے۔ اگر ننھے حسنؓ اپنے نانا جان کی کمر مبارک پر بیٹھے کھیل رہے ہیں جب حضورؐ  سجدے میں گئے تھے، تونواسی بھی کم نہیں۔ حضورؐ  نے انہیں بھی اٹھا رکھا ہے، اپنے ساتھ چمٹا رکھا ہے، سجدے میں جاتے ہوئے پاس بٹھا لیا ہے۔ ننھی نواسی اپنے نانا جان کو دیکھ رہی ہے کہ وہ مجھے بٹھا کر سجدے میں چلے گئے ہیں، اور جب اٹھے ہیں تو ساتھ ہی اُٹھا لیا ہے۔
پیارے بچو! جب حضرت حسنؓ اور حسینؓ کا تذکرہ ہوا کہ وہ نماز میں حضورؐ  کی کمر مبارک پر سوار تھے تو بچیوں نے سوچا ہو گا کہ وہ بازی لے گئے۔ مگر پیارے نبی حضورؐ  نے معاملہ برابر کر دیا۔ ننھی امامہ کے ساتھ بھی نماز کے دوران میں پیار کر لیا۔ اب بچیاں بھی کہہ سکتی ہیں کہ ہم بھی کم نہیں ہیں، حضورؐ  نے امامہ کو گود میں اٹھا کر ہمارا سر بھی فخر سے بلند کر دیا ہے۔صدقے قربان جائوں حضورؐ  کے عدل و انصاف پر کہ زندگی کا ہر گوشہ توازن لیے ہوئے ہے۔لاکھوں درود ایسے پیارے حضورؐ  پر! کروڑوں سلام ایسے پیارے رسولؐ  پر!! ( بخاری: ۶۱۵۔ مسلم: ۳۴۵۔ موطأ: ۸۹۳)