حضرت عبدالقادرجیلانیؒ

30 جنوری 2015

صاحب زادہ ذیشان کلیم معصومی
 سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی ؒکی ولادت باسعادت یکم رمضان ۱۷۴ھ جیلان میں ہوئی اور جس شب آپ کی ولادت ہوئی اس رات قصبہ جیلان میں جتنی حاملہ عورتوں نے بچوں کو جنا وہ سب کے سب لڑکے پیدا ہوئے اور یہی لڑکے آگے چل کر وقت کے کامل ولی بھی ہوئے سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی ؓمادر زاد ولی تھے آپ کے والد گرامی حضرت ابو صالح سید موسیٰ جنگی  دوست نے حضور غوث اعظم  کی ولادت کی شب مشاہدہ فرمایا کہ سرور کائنات حضرت محمد مصطفی ؐ بمعہ صحابہ کرام  ؓآئمتہ الہدیٰ اور اولیاء کرام ان کے گھر جلوہ افروز ہیں اور یہ ارشاد ہوتا ہے کہ اے ابو صالح اللہ نے تم کو ایسا فرزند عطا فرمایا کہ جو ولی ہے ،وہ میرا اور اللہ کا محبوب ہے اور عنقریب اس کی اولیاء اللہ اور اقطاب میں وہ شان ہو گی۔ حضرت ابو صالح موسیٰ جنگی دوست کو خواب میں شہنشاہ دوعالم آقائے کائنات ؐ کے علاوہ دیگر انبیاء کرام نے بشارت دی کہ تمام اولیاء کرام تمہارے بیٹے کے مطیع ہوں گے۔
سیدنا حضرت غوث اعظم ماہ رمضان میں دن کے وقت اپنی والدہ کا دودھ نہیں پیتے تھے گویا آپ شیر خواری کے عالم ہی میں روزہ دار تھے اور وقت افطار اپنی والدہ کا دودھ پیتے ۔آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت صومعی بہت عبادت گزار خاتون تھیں حضور سیدنا غوث اعظم ؒ کے نانا حضرت عبداللہ صومعی اپنے وقت کے باکرامت ولی تھے ۔آپ کی پرورش ابتداء ہی سے دینی ماحول میں ہوئی ابھی آپ چھوٹے تھے کہ آپ کے والد ماجد کا انتقال ہو گیا ۔ والد کے انتقال کے بعد آپ کی ابتدائی تربیت آپ کی والدہ نے فرمائی۔ جب آپ کچھ بڑے ہوئے تو علوم دینیہ کی تکمیل کے لئے بغداد تشریف لے گئے او ر بقیہ ساری زندگی بغداد شریف میں بسر فرمائی۔ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کا جس دور میں ظہور ہوا یہ وہ دور تھا کہ ہر طرف فتنوں کا سیلاب تھا لوگ فسق و فجور ،بدعات اور دیگر برائیوں میں مبتلا ہو چکے تھے ۔ سیدنا غوث اعظم ؓ نے زمانے کو فلسفہ کا جواب علمی مشاہدہ اور خداداد صلاحیتوں اور تصرفات سے دیا ایک مرتبہ آپ مسئلہ تقدیر پر لوگوں کے سامنے وعظ فرما رہے تھے اور لوگوں کو بتا رہے تھے کہ مشیت الہی ٰ کے بغیر کوئی شے نقصان نہیں پہنچا سکتی ابھی آپ کا یہ موضوع جاری تھا کہ اسی دوران ایک خطرناک ازدھا نمودار ہوا مگر آپ اس سے ذرا برابر بھی خوف ذدہ نہ ہوئے اور اپنی گفتگو کو جاری رکھا حتیٰ کہ وہ ازدھا آپ کے جسم کے گرد لپٹنا شروع ہو جاتا ہے لوگ اس خوف ناک منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں مگر آپ پر کسی بھی قسم کا خوف طاری نہیں اور اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھا آخر وہ ازدھا اپنا منہ آپ کے چہرہ مبارک کے سامنے لاتا ہے آپ استقامت کا پہاڑ تھے کسی طرح بھی جب آپ نے جنبش نہ کی کچھ دیر بعد وہ ازدھا نیچے اترنا شروع کر دیتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے جب آپ کا وعظ ختم ہوا لوگوں نے اس خوفناک واقعہ کی حکمت پوچھی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں چونکہ مسئلہ تقدیر پر بیان کر رہا تھا اور وہ ازدھا میرے وعظ کی عملی تشریح بن کر آیا تھا اگر ازدھا نہ آتا تو میراوعظ محض دلائل تو ہوتے  مگر قادر مطلق   خدا کی مشیت   پر اطمینان قلب حاصل نہ ہوتا۔  سیدنا حضرت غوث اعظم ؓ کی کرامات تصرفات اور علمی مشاہدات کے سامنے کوئی بھی دم نہ مار سکا بڑے سے بڑا فلسفی آپ کے تصرف کو دیکھتا تو دم بخود رہ جاتا اگر کوئی لا علاج مریض آپ کی خدمت میں آتا تو ہاتھ پھیرتے ہی وہ تندرست ہو جاتا کوئی اپاہج آتا تو صحیح سلامت ہو جاتا ۔ اہل دنیا نے دیکھا کہ آپ نے لوگوں کے دلوں سے چوں وچرا کی تاریکی نکال کر قلب وجگر کو ازسر نونور ایمان سے روشن اور تابندہ کر دیا برائیوں کا خاتمہ ہی نہیں کیا بلکہ دین کا بیڑہ پار لگا  کر آپ نے  محی الدین کا لقب پا لیا۔ آپ کے دست حق پرست پر بے شمار لوگوں نے اسلا م قبول کیا اور لاکھوں انسانوں نے توبہ کی اور تائب اسلام ہوئے آج بھی کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں صدیاں بیت جانے کے بعد بھی آپ کے فیض کا دریا جاری وساری  ہے۔ آپ کی زبان پر کبھی جھوٹ نہیں آیا آپ نے جو فرمایا حق فرمایا آپ نے فرمایا کہ جس کسی مصیبت میں مجھ سے فریاد کرے میں اس مصیبت کو اس سے دور کر دوں گا اور جو کوئی کسی سختی میں میرا نام لے کر مجھے پکارے اسے کشائش دوں گا ۔ صدیاں گزرگئیں وہ کون سا مسلمان ہے جو آپ کے دام زلف کا اسیر نہیں۔ وقت کے مجددین ،محدثین ،صوفیائے کاملین اور تمام سلاسل طریقت کا جید مشائخ عظام وسلاطین سب آپ کے در کے بھکاری نظر آتے ہیں ۔ اما م المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒہوں یا امام ربانی مجدد الف ثانی ؒسلطان اولیاء حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری ہوں یا غوث العالمین حضرت غوث بہا ء الدین زکریا ملتانی ،حضرت قطب الاقطاب بختیار کاکی ہوں یا حضرت بہاء الدین نقشبند بخاری ؒ، حضرت مخدوم علی احمد صابری کلیری ہوں یا حضرت سلطان باھو ،حضرت مولانا عبدالرحمن جامی ہوں یا امام اہل سنت الشاہ احمد رضا بریلوی ہوں ہر کوئی بارگاہ غوثیت میں اپنی گردن جھکائے آپ کا شیدا نظر آتا ہے ۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی  آپ کی عظمت بیان فرماتے ہوئے یوں فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو قطبیت کبریٰ اور ولایت عظمیٰ کا مرتبہ عطا فرمایا یہاں تک کہ تمام عالم کے فقہاء علماء طلباء اور فقراء کی توجہ آپ کے آستانے کی طرف ہو گئی ۔اللہ نے آپ کے ذریعے علامات قدرت وامارت ور دلائل وبراہین کرامت آفتاب نصف انہار سے زیادہ واضح فرمائے۔ اور تمام اولیاء کرام کو آپ کے قدم مبارک کے سائے تلے دے دیا۔ امام ربانی سیدنا حضرت مجدد الف ثانی ؓ نے بارگاہ غوثیت میں یوں نذرانہ عقیدت کے پھول نچھارو کئے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ اسی راہ سے گزرنے والوں کے پیشوا ہیں گویا حضرت علی ؓ کا قدم سرکار دوعالم ؐکے قدم مبارک پر ہے اور سیدہ حضرت فاطمہ ؓ زہرہ اور سیدنا امام حسن ؓو سیدنا امام حسین ؓ بھی اسی مقام پر ان کے ساتھ شامل ہیں۔ ان کے بعد یہ منصب بارہ اماموں تک پہنچتا رہا، یہاں تک کہ  حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی   نے یہ مقام  پایا ۔ سلسلہ سہروردی کے ہندوستان میں پیشوا کامل حضرت غوث بہا ء الدین زکریا ملتانی آپ کی ولایت کے بارے یوں فرماتے ہیں کہ
دستگیر بے کساں وچارہ بے چارگاں شیخ عبدالقادر است
ہندوستان کے بے تاج بادشاہ، خواجہ غریب نواز  حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری بارگاہ غوثیت میں اس طرح فریاد کرتے ہیں کہ
یا غوث معظم نور ہدیٰ مختار نبی مختار خدا
سلطان دوعالم قطب علی حیران زجالت ارض وسماء
ترجمہ !یا غوث اعظم ؓ آپ ہدایت کے نور اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ کے محبوب مقبول اور پسندیدہ دوجہاں میں بادشاہ بلند مرتبہ کے قطب ہیں اور زمین و آسمان آپ کی عظمت وشان پر حیران ہیں۔سب اہل ایمان اللہ کے اس ولی کی عظمتوں کو خراج تحسین ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر کرتے ہیں غوث اعظم نے عمل وسیرت و کردار سے لوگوں کے دلوں پر حکمرانی فرمائی۔  ہمارے ایمان  کا تقا ضہ ہے کہ ہم پیران پیر روشن ضمیر سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی مقدس تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے  ولی ء کامل  کی صحبت میں رہ کر اپنی زندگی کو اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلائیں اللہ کا ذکر کثرت سے کریں اور اپنے اعمال و عقائد کو درست کریں ۔ اپنے   اولیاء کرام کی مبارک حیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ، جنہوںنے لاکھوں  بھٹکے ہوئے لوگوں کو اپنے اخلاق سے اپنے پیار سے دین حق کی راہ پر گامزن کیا انہی اولیاء کاملین  کی ہدایت پر چلتے ہوئے ہمیں چاہیئے کہ اپنے درمیان فرقہ واریت  کو رد کر کے بھائی چارے، اخوت اور  رواداری  کیلئے اپنے سینے فراخ  کر دیں۔ اللہ کریم ہمیں ان کی تعلیمات مقدسہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین