فتنہ دجال

30 جنوری 2015

مولانا قاری ظفر اقبال
سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ غیر معتدل علاقوں اور منطقوں کو علماء نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔  (الف) وہ علاقے جن میں رات اور دن کا چکر تو چوبیس گھنٹوں میں ہی پورا ہوتا ہے ، لیکن ان میں بعض نمازوں کے اوقات اپنی معروف علامات کے ذریعے پائے نہیں جاتے، مثلاً نمازِ عشاء میں شفق کا غائب ہونا اس کے وقت کی معروف علامت ہے، وہ نہ پائی جائے۔
(ب)وہ علاقے جن میں رات اور دن کا چکر چوبیس گھنٹوں میں پورا ہوتا ہے، اور اس میں تمام نمازوں کے اوقات اپنی معروف علامات کے ساتھ پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے بعض نمازوں کے درمیان پایا جانے والا وقفہ انتہائی مختصر ہوتا ہے۔ (ج)وہ علاقے جن میں رات اور دن کا چکر چوبیس گھنٹوں میں پورا نہیں ہوتا، بلکہ کسی موسم میں مسلسل کئی مہینوں تک رات رہتی ہے اور کبھی مسلسل کئی مہینوں تک دن رہتا ہے۔
پہلی قسم کے علاقوں میں جہاں غروبِ آفتاب کے بعد شفق غائب نہیں ہوتی، نماز عشاء کے حکم میں ہمارے فقہاء کے درمیان اختلافِ رائے ہے، بعض فقہاء کی رائے یہ ہے کہ اس قسم کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں پر نمازِ عشاء کی فرضیت باقی نہیں رہتی، کیونکہ نماز فرض ہونے کا سبب وقت داخل ہونا ہے، اور جب وقت ہی داخل نہ ہو تو نماز بھی فرض نہ ہو گی، اور بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ ایسے علاقوں میں رہنے والوں سے نمازِ عشاء کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی بلکہ انہیں چاہیے کہ وقت کا اندازہ کر کے نمازِ عشاء ادا کر لیا کریں، محقق علماء نے اسی دوسری رائے کو ترجیح دی ہے۔
دوسری قسم کے علاقوں میں ہر نماز کو اس کے وقت مقررہ پر ادا کیا جائے گا، خواہ دونوں نمازوں کے درمیان پایا جانے والا وقفہ کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو؟ البتہ اگر یہ وقفہ اتنا مختصر ہو کہ اس میں فرض نماز بھی ادا نہ کی جا سکتی ہو تو اس میں دو صورتیں ممکن ہیں، ایک تو یہ کہ انسان وقت داخل ہوتے ہی نماز شروع کر لے، خواہ نماز اپنے وقت میں مکمل ہو یا وقت گذرنے کے بعد مکمل ہو، اور دوسری صورت اندازے والی ہے کہ ان دو نمازوں کے درمیان وقت کا اندازہ کر لیا جائے اور نماز ادا کر لی جائے ، اس دوسری صورت میں اس کا حکم پہلی قسم کے علاقوں جیسا ہو جائے گا۔ جہاں تک تعلق تیسری قسم کے علاقوں کا ہے تو ان میں نماز کا حکم اس حدیث سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان میں اوقات کا اندازہ کر کے نمازیں ادا کرنا ضروری ہیں۔ یہی حکم ان علاقوں میں روزے کا بھی ہے، تاہم بعض علماء نے احتیاط کی غرض سے یہ رائے دی ہے کہ ایسے علاقوں میں رہنے والے لوگ اپنے قریب ترین معتدل علاقے کے اوقات کو سامنے رکھ کر روزہ رکھیں، اور جب قریبی علاقوں میں افطار کا وقت ہو جائے تو وہ بھی روزہ افطار کر لیں خواہ اس وقت دن ہی ہو، تاہم احتیاط اس میں ہے کہ بعد میں ان روزں کی قضا کر لیں۔ واللہ اعلم
(۸) دجال کا فتنہ چالیس دن تک رہے گا، جن میں سے پہلے تین دن غیر معمولی طور پر لمبے ہوں گے اور باقی دن معمول کے دنوں کی طرح ہوں گے۔ اس عرصے میں وہ پوری دنیا کو اپنے قدموں تلے روند ڈالے گا۔ وہ ہرجگہ پہنچے گا اور لوگوں کے سامنے اپنا پیغام رکھے گا ۔ یعنی چشم بددور خدا صاحب اپنی خدائی تسلیم کروانے کے لیے لوگوں کے دروازے کھٹکھٹائیں گے۔ جو لوگ ان کی اس احمقانہ حرکت پر گھر آئے مہمان کو خوش آمدید کہیں گے، خدا تعالیٰ ان سے خوش ہو کر ان پر انعام و اکرام کی بارش برسادیں گے، کیونکہ دنیا کا دستور ہے کہ خوشامدی لوگوں پر نوازشات ہوتی ہیں، جو لوگ ’’من ترا مُلّابگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ والی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں، ان کیلئے خوشامدی لوگوں کاوجودبہت ضروری ہوتا ہے، اور جو لوگ خدا  تعالیٰ کے اس دعوی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں گے اور ان سے عرض کریں گے قبلہ! آپ اپنی آنکھ تو ٹھیک کر نہیں سکتے، اپنی پیشانی پر لکھا ہوا لفظ کافر تو مٹا نہیں سکتے، خدائی کادعوی کس برتے پر کرتے ہیں؟ اس پر خدا صاحب ناراض ہو جائیں گے اور ان لوگوں کو قحط سالی میں مبتلا کر دیں گے، کیونکہ دنیا کا دستور ہے کہ طاقتور آدمی کبھی بھی دلیل کے ساتھ بات نہیں کرتا، اسے اپنی طاقت پر ناز ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنی طاقت دکھاتا ہے ، چنانچہ دجال بھی یہی کرے گا، اور چالیس دن کے مختصر سے عرصے میں پوری دنیا کا دورہ کر لے گا، اس کی تیز رفتاری کا یہ عالم ہو گا اور یوں محسوس ہو گا جیسے بادلوں کو ہوائیں اُڑا کر لیے جا رہی ہیں، اور دور حاضر کی جدید ایجادات کو دیکھا جائے اور فرض کیا جائے کہ اس وقت تک یہ چیزیں موجود بھی رہیں گی تو بات سمجھنا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔