کیا میاں نوازشریف کی یکطرفہ خواہش سے مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے؟

30 جنوری 2015
کیا میاں نوازشریف کی یکطرفہ خواہش سے مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے؟

وزیراعظم کا بھارت سے باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات اور مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل کرنے کی خواہش کا اظہار

 وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کا خواہشمند ہے۔ بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل حل کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔یہ بات اہم ہے کہ دونوں ممالک اپنے تمام حل طلب مسائل جن میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے خطے میں پائیدار امن کیلئے حل کریں۔
بلاشبہ پاکستان اور بھارت کے مابین بنیادی اور بڑا تنازع پچھلے 67 سال سے مسئلہ کشمیر کی صورت میں موجود ہے‘ باقی سب مسائل ثانوی ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں تین جنگیں ہو چکی ہیں‘ پہلی جنگ اس وقت ہوئی جب دونوں ممالک کی معیشت ابھی سنبھلی بھی نہیں تھی‘ دوسری اور تیسری جنگ میں دونوں ممالک کی معیشت ڈوب گئی۔ پاکستان اور بھارت جنگوں کے علاوہ بھی حالتِ جنگ میں ہوتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر سیزفائر ہے۔ ’’سیزفائر‘‘ کا مطلب ہی عارضی جنگ بندی ہے۔ دونوں ممالک کے مشترکات میں پسماندگی‘ تعلیمی انحطاط اور عام آدمی کیلئے صحت و روٹی روزگار کی سہولیات کا فقدان ہے۔ دونوں ممالک کی نصف کے قریب آبادی خط غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ اتنی ہی آبادی کیلئے پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں۔ دشمنی کے باعث دونوں ممالک ہمیشہ سے جدید ترین اسلحہ کے حصول کیلئے سرگرداں رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ بلاشبہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ بھارت نے شروع کی۔ اس نے روایتی اور غیرروایتی اسلحہ کے انبار لگائے‘ وہ 1973ء میں ہی ایٹمی طاقت بن گیا تھا۔ بھارت کی یہ تیاریاں صرف پاکستان کیخلاف تھیں اور ہیں‘ پاکستان کو مجبوراً بھارت کی جارحیت سے محفوظ رہنے کیلئے اپنے بجٹ کا بڑا حصہ دفاع کیلئے مختص کرنا پڑتا ہے۔ اگر دونوں ممالک امن و آشتی سے رہیں تو دونوں کے ہاں خوشحالی و ترقی کا سفر شروع ہو سکتا ہے۔ پسماندگی کے خاتمہ اور صحت و تعلیم کی سہولتوں کی دستیابی سے عوام کی زندگیوں میں سکون آسکتا ہے مگر علاقائی امن اور دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کی زندگیوں کی آسانی کی راہ میں مسئلہ کشمیر سنگ گراں ہے۔ یہ مسئلہ بھارت کا پیدا کردہ ہے اور وہی اسکے حل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بھارت 67 سال سے اقوام متحدہ میں موجود قراردادوں پر عمل کرنے پر تیار نہیں جن میں کشمیریوں کو استصواب کا حق دیا گیا ہے۔ ان قراردادوں کو بھارت نے تسلیم کیا اور عالمی برادری کو ان پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسکے کچھ عرصہ بعد ہی بھارت نے مذکورہ قراردادوں پر عمل سے راہ فرار اختیار کی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے زیر تسلط کشمیر پر قبضہ مضبوط بنانے کے اقدامات کئے جس میں اہم ترین اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانا اور 7 لاکھ فوجیوں کی تعیناتی شامل ہے جو کشمیریوں پر بربریت روا رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف کی یہ بجا مگر معصومانہ خواہش ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ خواہش قیام پاکستان کے بعد ہر پاکستانی حکمران نے کی مگر بھارت کی طرف سے اسے کبھی پذیرائی نہیں ملی۔ عالمی دبائو پر وہ مذاکرات کی میز پر ضرور آتا ہے مگر موقع ملتے ہی کوئی نہ کوئی بہانہ گھڑکے یا ڈرامہ بازی کرکے مذاکرات کی میز الٹا دیتا ہے۔ اس نے 2008ء میں ممبئی حملوں کا الزام پاکستان پر لگا کر جامہ مذاکرات کو ختم کیا اور پاکستانی وزیر خارجہ کو رسوا کرکے دہلی چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ گزشتہ سال مودی  نے خارجہ سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی‘ یہ شاید وقتی طور پر وزیراعظم نوازشریف کو اپنی حلف برداری تقریب میں شامل ہونے کا تحفہ تھا تاہم مذاکرات کے آغاز سے قبل حریت رہنمائوں پاکستانی ہائی کمشنر سے معمول کی ملاقات کو جواز بنا کر ان مذاکرات سے انکار کر دیا۔ آج پاکستان کا پورا زور مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر ہے جبکہ بھارت اس طرف آنے کو تیار نہیں۔ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل پر سنجیدہ نہیں‘ وہ اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور کبھی کبھی عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتا ہے۔ مذاکرات کے کئی ادوار ہو بھی چکے ہیں مگر وہ بے سود اور لاحاصل رہے۔ جب وہ اٹوٹ انگ کی بات کرتا ہے تو مذاکرات کو منافقت کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔
مسئلہ کشمیر کے حل میں بھارت جتنا غیرسنجیدہ ہے‘ ہمارے ماضی و حال کے حکمران بھی اتنے ہی غیرسنجیدہ ثابت ہوئے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی نظر میں اگر مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات میں پنہاں ہے تو اس حوالے سے انکی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ ہماری وزارت خارجہ اور مشیر خارجہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات بھارت نے منسوخ کئے‘ لہٰذا  اس کی طرف سے ہی مذاکرات کیلئے پیش رفت ہونی چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کا حل بھارت کی نہیں‘ پاکستان کی ضرورت ہے۔ بھارت کو کسی بھی طریقے سے مسئلہ کشمیر کے حل پر آمادہ کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ اسکی نظر میں حل مذاکرات ہیں تو یہ اس پر بھارت کو لائن پر لائیں‘ یہ کہنا درست نہیں کہ مذاکرات کا سلسلہ بھارت نے توڑا تھا‘ وہی اس سلسلے کو جوڑے۔
مسئلہ کشمیر ہمارے حکمرانوں کی غیرسنجیدگی کا مظہر‘ ہماری سفارت کاری کی کمزوری اور کشمیر کمیٹی کی عدم فعالیت بھی ہے۔ اس کمیٹی کے چیئرمین جن حضرت کو بنایا گیا‘ انکے بڑے پاکستان کے قیام کو گناہ قرار دیتے تھے‘ گزشتہ آٹھ سال سے وہ  کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ پیپلزپارٹی کی گزشتہ اور مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اسکے چیئرمین سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے میں کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ وہ حضرت سوائے مسئلہ کشمیر کے دیگر موضوعات پر خوب بولتے ہیں۔
بھارت کی جارحیت کیخلاف پاکستان کی سفارت کاری بھی کمزور ثابت ہوئی ہے۔ مودی کے امریکہ میں داخلے پر پابندی تھی‘ امریکہ مودی کو ہزاروں مسلمانوں کاقاتل سمجھتا تھا‘ مودی وزیراعظم بنے تو ان کو واشنگٹن بلا کر بھرپور پذیرائی کی گئی۔ یہ بھارت کی سفارت کاری ہی کا کمال ہے کہ اوباما بھارت آنے سے قبل اور بھارت میں موجودگی کے دوران پاکستان کے بارے میں معاندانہ رویے کا اظہار کرتے رہے۔ وزیراعظم نوازشریف امریکہ گئے تو اوباما نے انہیں چند منٹ کی ملاقات کا بھی شرف نہ بخشا‘ جب بھارت آئے تو اپنے فرنٹ لائن اتحادی کی طرف پشت کرکے واپس چلے گئے۔ اس سے بھارت کی کامیاب اور ہماری کمزور خارجہ پالیسی کا اظہار ہوتا ہے۔  
بھارت کے رویے کا جواب اسی کے رویے سے بھی نہیں دیا جاتا‘ وہ ڈرامہ بازی کو حقیقت کا رنگ دے کر دنیا کو گمراہ کررہا ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث تھا۔ 2007ء کو سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ہوا جس کا بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا‘ بعدازاں کرنل پروہت نے اعتراف کیا کہ یہ ’’را‘‘ کی کارستانی تھی۔ اس پر گزشتہ روز مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے آواز اٹھائی کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے منصوبہ سازوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔ حوالگی کا مطالبہ انہوں نے بھی نہیں کیا۔ اس معاملے کو پالیسی کا حصہ بنا کر بھارت کا اصل اور دہشت گردانہ چہرہ دنیا کے سامنے لایا جانا چاہیے تھا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھارت کے افغانستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت کے ثبوت بقول سیکرٹری دفاع جنرل خٹک کے امریکہ کو پیش کر دیئے ۔ اسکے بعد یہ معاملہ وزارت خارجہ نے اٹھایا نہ اسے پرویز رشید نے میڈیا میں ایشو بنانے کی کوشش کی۔ یہ معاملہ میڈیا میں پوری تیاری سے اٹھایا جاتا تو بھارت عالمی برادری میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔ بھارت لغو پروپیگنڈے سے پاکستان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا جبکہ ہم سچائی کو بھی درست طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کرنے سے قاصر ہیں‘ اسکی وجہ حکومت اور وزارت خارجہ کی غفلت اور نااہلی ہے۔
بھارت کو بھارت کی زبان میں جواب دیکر عالمی سطح پر اپنا مضبوط مؤقف باور کراکے ہی مسئلہ کشمیر کے حل میں پیشرفت ہو سکتی ہے۔ حکومت کو مسئلہ کشمیر پر دیرینہ مؤقف برقرار رکھتے ہوئے خود جاگنا ہوگا اور فعال سفارت کاری کے ذریعے بھارت کے پروپیگنڈے کا توڑ کرتے ہوئے دنیا پر پاکستان کا مؤقف واضح کرنا ہو گا جو بجا ‘اصولی اور بالکل جائز ہے۔