گورنر چودھری سرور کا استعفیٰ

30 جنوری 2015

حکومتی گورننس سے غیر مطمئن اور حکومتی پالیسیوں پر کھلم کھلا اختلاف رائے کا اظہار کرنیوالے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور بالآخر اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ بدھ کی شب ایوان صدر میں بھجوایا اور جمعرات کے روز گورنر ہائوس میں پریس کانفرنس کرکے اپنے مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ انہوں نے 5 اگست 2013ء کو گورنر پنجاب کے منصب کا حلف اٹھایا تھا اور اس سے قبل انہوں نے اپنی برطانوی شہریت ترک کر دی تھی۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس اور فیس بک پروفائل میں اپنے پیغام میں مستعفی ہونے کی یہ وجہ بتائی ہے کہ انہوں نے ملک اور عوام کی بہتری اور ملک کے محروم طبقات کی خدمت کیلئے گورنر کا منصب قبول کیا تھا مگر وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس منصب کو عوام کی خدمت اور ملک کی بہتری کیلئے بروئے کار نہیں لا سکے اس لئے انکے گورنر کے منصب پر فائز رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔
برطانوی پارلیمنٹ کے تین بار رکن منتخب ہونے اور اس حیثیت میں مسلسل 12 سال تک فرائض سرانجام دینے والے چودھری محمد سرور اگر برطانوی معاشرے میں کمائی گئی اپنی نیک نامی، عزت، شہرت، دولت تج کر ملک واپس آئے ہیں تو یقیناً ملک اور عوام کی خدمت کے جذبے نے ہی انہیں برطانوی شہریت چھوڑنے کا اہم ترین فیصلہ کرنے پر مجبور کیا تھا جبکہ انکے بارے میں بادی النظر میں یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ وہ کسی خاص مقصد کیلئے برطانیہ سے امپورٹ کرکے گورنر کے منصب پر فائز کئے جا رہے ہیں۔ مگر انہوں نے گورنر کے منصب پر فائز ہونے کے بعد اپنی آزاد سوچ اور ملک اور عوام کیلئے دردمندی کے احساس کی بنیاد پر متعدد حکومتی پالیسیوں پر تنقید اور عدم اطمینان کا اظہار کرکے اپنے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے تاثر کی نفی کی اور عام آدمی کے ساتھ اپنا ربط برقرار رکھا۔ گورنر بننے کے بعد انہیں یہ بھی شدت سے احساس ہوا کہ یہ منصب تو محض نمائشی ہے اور حقیقی معنوں میں عوام کے مسائل حل کرنے کی وہ پوزیشن میں ہی نہیں اگر کسی بڑے منصب کا حصول ہی انکی خواہش ہوتی تو وہ اس منصب پر برقرار رہ کر پروٹوکول حاصل کرتے رہتے مگر عوام کی حقیقی معنوں میں خدمت نہ کر پانے کی کسک نے انہیں بالاخر گورنر ہائوس چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں جس دردمندی کے ساتھ سماجی مسائل کو اجاگر کیا اور عام آدمی کے مسائل کے حل کی راہ میں حائل مافیاز کا تذکرہ کیا اور اسکے ساتھ ساتھ حکومتی گورننس کی خرابیوں کا تذکرہ کیا وہ عوامی مسائل کے حل کے منشور کی بنیاد پر ووٹ لے کر منتخب ہونیوالے حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر سبکدوش گورنر چودھری محمد سرور کے بقول قبضہ اور لینڈ مافیا کے لوگ گورنر سے زیادہ طاقتور ہیں تو اس صورتحال میں عوام کی حکومت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔ نظام کی تبدیلی کے حوالے سے چودھری محمد سرور نے جن اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے وہ عمران خاں اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے ایجنڈے سے مماثلت رکھتے ہیں اس لئے ممکن ہے انہوں نے مستقبل میں ان میں سے کسی ایک پلیٹ فارم پر آنے کا سوچ رکھا ہو تاہم آئینی تقاضے کے تحت وہ دو سال تک عملی سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں نہ کوئی دوسرا سرکاری منصب قبول کر سکتے ہیں۔ بہرصورت ملک اور عوام کی خدمت کا جذبہ تو ان کے دل میں موجود ہے۔ خدا کرے کہ وہ محروم طبقات کی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکیں۔