الطاف حسین کا آئی ایس آئی پر غصہ

30 جنوری 2015
الطاف حسین کا آئی ایس آئی پر غصہ

مظالم کیخلاف آواز بلند کرتے رہیں گے کسی صوبائی یا وفاقی ایجنسی یا اہلکار نے غیر قانونی حرکت کی تو اپنے کئے کا جوابدہ ہو گا۔ 36 کارکنوں کے قتل کا ذمہ دار وزیر اعلیٰ سندھ ہے۔آئی ایس آئی نے ابھی تک ایم کیو ایم کو قبول نہیں کیا: الطاف حسین کا پارٹی قیادت سے علیحدگی اور آج قوم سے آخری خطاب کا اعلان۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکن کی ہلاکت کے بعد الطاف حسین کی اپیل پر پہیہ جام ہڑتال رہی۔ ایم کیو ایم کے قائد نے اپنے 36کارکنوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار وزیر اعلیٰ سندھ کو قرار دے دیا۔ دوسری طرف انہوں نے اپنے تازہ بیان میں آئی ایس آئی کے حوالے سے کہا کہ اس نے ایم کیو ایم کو ابھی تک قبول نہیں کیا۔ انکے بقول موجودہ آئی ایس آئی چیف نے نہ جانے انکے بارے میں کیا ٹھان رکھی ہے۔ کراچی میں رینجرز آپریشن بوجوہ وہ مقاصدحاصل نہیں کر پا رہا جس کی توقع تھی تو اس میں بھی سندھ کی حکومت اور سیاسی جماعتوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ خود ایم کیو ایم بھی عرصہ دراز سے سندھ حکومت کا ہی حصہ رہی ہے ۔ ہر جماعت نے مسلح ونگز بنائے ہوئے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کی علیحدہ مسلح تنظیمیں ہیں اور ان کیخلاف آپریشن کرنیوالوں کو قدم قدم پر رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بہتر ہے کہ پہلے ہماری تمام سیاسی مذہبی و لسانی جماعتیں اپنے اندر مسلح ونگز ختم کریں اور پھر جرائم پیشہ افراد کیخلاف آپریشن میں تعاون کریں تو کراچی میں ناجائز اسلحہ کے بل بوتے پر قتل غارت کرنیوالوں کی بیخ کنی میں آسانی ہو گی۔ الطاف حسین نے پارٹی قیادت سے علیحدگی کا ایک بار پھر اعلان کرتے ہوئے کہاکہ وہ ملک میں تبدیلی نہیں لا سکے۔ تاہم کارکن ان کے سوا کسی اور کی قیادت پر تیار نہیں امید ہے کہ وہ انہیں ایک بار پھر اپنا بیان واپس لینے پر مجبور کر دیں گے۔