داعش کا بڑھتا ہوا دائرہِ اثر

30 جنوری 2015
داعش کا بڑھتا ہوا دائرہِ اثر

میڈیا رپورٹس کے مطابق 21جنوری کو شاہدرہ کے علاقہ میں حساس اداروں نے چھاپہ مارکر تین دہشت گردوں کو پکڑا۔ انکے ڈیرے سے کچھ ہتھیار بمعہ گولہ بارود برآمد ہوئے۔ مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ ان تین دہشت گردوں میں ایک یوسف السلفی ، ایک حافظ طیب اور ایک ڈاکٹر فواد ۔ یہ ٹیم داعش کیلئے نوجوان ریکروٹ بھرتی کر رہی تھی ۔ یوسف السلفی پاکستانی نثراد شامی ہے اور داعش کا لوکل کمانڈر ہے۔ اس نے امریکہ سے رابطے اور فنڈز لینے کا بھی اعتراف کیا۔ حافظ طیب امام مسجد ہیں جو داعش کے مقامی نمائندے یا سہولت کار ہیں اور ڈاکٹر فواد بھی مقامی پاکستانی ہیں جو داعش کیلئے کام کرتے ہیں۔21جنوری ہی کو ملتان کے مختلف علاقوں میں خصوصاً اوور ہیڈ بریجز کی دیواروں پر داعش کا جھنڈا اور داعش کے حق میں وال چاکنگ کی گئی جو دوسرے دن انتظامیہ کو مٹانی پڑی ۔اسی دن راولپنڈی سے داعش کے 6افراد پکڑے گئے۔ ان واقعات کے دو دن بعد مانگا منڈی میں داعش کے دو افراد پکڑے گئے۔
گو ہماری حکومت تا حال داعش کے وجود سے انکاری ہے اور خدا کرے کہ یہ سچ ہو لیکن اوپر دیئے گئے چند واقعات یہ ثابت کرنے کے کافی ہیں کہ داعش کا وجود پاکستان میں موجود ہے اور وہ اپنی کاروائیوں میں مشغول ہیں۔ ہمارا روّیہ ریت میں سر دبانے والا ہے۔داعش یہاں اس لیے لائی گئی ہے کہ فوج کے ضرب عضب کے نتیجے میں مختلف دہشتگرد تنظیموں کے لوگوں کو نئے سرے سے منظم کر کے نئی زندگی عطا کی جائے۔دوسرا اس علاقے سے نوجوانوں کو بھرتی کرکے شام و عراق پہنچایا جائے جہاں اُنکی عسکری تربیت ہوگی اور وہ داعش آرمی کا حصہ بنیں گے۔ بعد میں یہی لوگ یہاں قیامت برپا کرینگے۔ یہاں ہمیں یہ امر نہیں بھولنا چاہیے کہ داعش اسوقت عراق و شام کے ایک بڑے حصے اور صحرائے سینا ۔شمالی افریقہ ۔لیبیا اور انکے کچھ حصوں پر قابض ہے جہاں سے ان ممالک میں اسلام کے نام پر دہشتگردی پھیلائی جا رہی ہے۔ ترکی اور سعودی عرب بھی ڈائرکٹ نشانے پر ہیں اور موقعہ ملنے پر حالات سے فائد ہ اٹھایا جائیگا ۔ افغانستان اور پاکستان فی الحال دور ہونے کی وجہ سے بلا واسطہ قبضے کی زد سے باہر ہیں لیکن یہاں پنجے گاڑنے کیلئے اڈے قائم کیے جارہے ہیں۔ ویسے کچھ اطلاعات ایسی ہیں کہ والہانہ طور پرداعش کو افغانستان اور فاٹا میں خوش آمدید کہا گیا ہے یہاں داعش کے لوکل کمانڈروں کے تحت تنظیمیں منظم کی جارہی ہیں اور آنیوالے وقتوں میں یہاںخراسان کے نام سے اسلامی ریاست قائم کی جائیگی ۔داعش نے تقریباًتین ہفتے پہلے فاٹا میں اپنا تنظیمی ڈھانچہ قائم کیا تھا جس میں اورکزئی ایجنسی میں سابق طالبان کمانڈر حافظ سعید خان کو داعش کا مقامی کمانڈر مقرر کیا گیا ۔حافظ سعید خان ایک سفاک اور بے رحم قسم کا دہشتگرد ہے جسکا تعلق اورکزئی ایجنسی کے علاقہ ماموزئی سے ہے۔
چند دن پہلے افغانستان میں مقیم امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے وارننگ دی ہے کہ داعش افغانستان اور پاکستان کے فاٹا کے علاقوں میں بہت سر گرم ہے اور یہاں سے جنگجو بھرتی کرکے عراق لے جائے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی اردو میں لٹریچر پھیلایا جا رہا ہے۔ سابق وزیر داخلہ جناب رحمن ملک صاحب نے بھی کچھ عرصہ پہلے بیان دیا تھا کہ پاکستان سے ایک ہزار لوگ بھرتی کئے گئے ہیں اور پچھلے سال ہنگو سے بھی ریکروٹ بھرتی کرنے کی اطلاعات ہیں۔ لال مسجدراولپنڈی کے خطیب مولانا عبدالعزیز صاحب بھی داعش کیلئے کام کر رہے ہیں۔ داعش بنیادی طور پر ایک بے رحم اور ظالم قسم کی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم خالصتاً ایک وہابی سنی تنظیم ہے اس لیے دوسرے تمام فرقوں کوکافرقرار دیتے ہیں۔ اُنکی عورتوں کو زبردستی جنسی غلام بنا لیا جاتا ہے اور مردوں بشمول بچوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایک تازہ اخباری اطلاع کے مطابق اب تک کئی ہزار لوگوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ لاکھوں کے حساب سے اہل تشیع ۔عیسائی۔ یزیدی اور دروز فرقوں کے لوگ گھر بار چھوڑ کر علاقے سے بھاگ چکے ہیں۔ 100کے قریب زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے امریکی اور یورپیوں کو بھی تہ تیغ کیا جا چکا ہے۔ لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ اس ظلم و سفاکیت کے باوجود داعش کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کی چھوٹی بڑی کئی دہشتگرد تنظیمیں اپنی مرضی سے داعش کا حصہ بن چکی ہیں جس سے اسکی عسکری طاقت تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے لیکن سب سے حیران کن امر یہ ہے کہ تقریباً 2ہزار یورپی نوجوان جنکا تعلق یورپ کے مختلف ممالک سے ہے اور اُن میں نوجوان لڑکیاں بھی شامل ہیں اپنے ممالک سے غیر قانونی طور پر بھاگ کر داعش میں شامل ہو گئے ہیں اور مزید حیران کن بات ہے کہ یہ تمام مسلمان نہیں۔ 5سو مزیدنوجوان لڑکیاں مغربی یورپ سے حال ہی میں شام پہنچی ہیں۔یاد رہے کہ داعش اس حد تک عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکی ہے کہ اس سے نمٹنے کیلئے حال ہی میں لندن میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں امریکہ اور برطانیہ سمیت 21ممالک شریک ہوئے اور فیصلہ کیا گیا کہ تمام ممالک ملکر اس ناسور کو ہمیشہ کیلئے ختم کریں۔
 ایک ماہ پہلے ہمارے فاٹا سے تعلق رکھنے والی6 مختلف دہشتگرد تنظیموں کے نمائندوں نے داعش کی سرپرستی قبول کرنے کا اعلان کیا تھا اُن میں ملا خالد خراسانی بھی شامل تھا اس سے یہ تاثر بھی ابھرا تھا کہ 16دسمبر 2014کو پشاور آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنیوالے دہشتگردوں کا تعلق ملا خالد خراسانی گروپ سے تھا اور وہ داعش کے لو گ تھے کیونکہ بہت سے بچوں کیمطابق دہشتگرد عربی بول رہے تھے لیکن سب سے تکلیف دہ بات فاٹا کے ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر ‘‘ گروپ کی ہے۔ اس گروپ میں زیادہ تر جنگجو خیبر ایجنسی کے قمبر خیل قبیلے سے ہیں۔ جنوری کے پہلے ہفتے جب اپریشن خیبرون کے تحت فوج نے اس علاقے میں کارروائی کی تو اس گروپ کا بہت نقصان ہوا لہٰذا دہشتگردی ترک کر کے حکومتی سر پرستی قبول کر لی۔ اس مقصد کیلئے 10جنوری 2015کو ایک گرینڈ جرگہ بلایا گیا جس میں تمام لوکل قبائل کے تقریباً تین ہزار لوگ شامل ہوئے ۔ علاقے کے سابق اور موجودہ ممبران اسمبلی بھی جرگہ میں موجود تھے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے ایجنسی کا پولیٹکل ایجنٹ محمد ناصر خان اور انتظامیہ کے دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ سب کے سامنے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے اور آئندہ کیلئے دہشتگردی کی ہر قسم کی کاروائیاں بند کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن نجانے پھر کیا مسئلہ ہوا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر یہ لوگ اپنے وعدے سے پھر گئے اور ان میں سے پچاس سخت قسم کے دہشتگردوں نے کمانڈر حیا خان اور وحید خان کی سر پرستی میں داعش میں شمولیت کا اعلان کر دیا اور جا کر داعش کے علاقائی کمانڈر سعید خان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یہاں یہ امر مزید تکلیف دہ ہے کہ اس علاقے میں دوسو غیر ملکی جنگجو بھی موجود ہیں جن میں ازبک، تاجک،عرب اور چیچن شامل ہیں۔ ان لوگوں کی سپورٹ علاقے میں تباہی کا موجب بن سکتی ہے۔