آزادی اظہار کے نقاب میں چھپی جنگی جنونیت

30 جنوری 2015

پیرس کے شمال میں ’’امائینز‘‘کے نام سے ایک تاریخی قصبہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے،
یہاں مسیحیوں کے مذہبی مقامات اور گرجا گھر بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں، لیکن یورپی مسیحی سیاحوں کا سب سے زیادہ رش کا مقام کوئی گرجا گھر نہیں بلکہ شہر کے مرکزی چوراہے میں نصب ایک مجسمہ ہے۔ یہ مجسمہ ’’عظیم‘‘ صلیبی راہب پیٹر کا مجسمہ ہے۔راہب پیٹر تاریخ کا بڑا دلچسپ کردار ہے، آئیے! اس کردار کو جاننے کیلئے گیارہویں صدی عیسوی میں چلتے ہیں۔
فلسطین چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش تھا، اس لیے عیسائیوں کیلئے مقدس اور متبرک مقام اورمقدس زیارت گاہ کا درجہ رکھتا تھا۔لیکن دوسری جانب چونکہ خلیفہ دوم حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہی فلسطین اسلامی سلطنت کا حصہ بن چکا تھااوراسکے علاوہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول بھی تھا اور بڑے بڑے انبیاء ؑکے مزارات اقدس بھی یہیں تھے، اس لیے بیت المقدس کا شہر اور زمین مسلمانوں کیلئے عیسائیوں سے کہیں زیادہ متبرک اور مقدس تھی، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے متبرک مقامات کی ہمیشہ حفاظت بھی کی۔ چنانچہ غیر مسلم زائرین جب اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے یہاں آتے تو مسلم حکومتیں انہیں ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرتیں،مسلمانوں کے دور میں مسیحیوں کے گرجے اور دیگر عبادتگاہیں ہر قسم کی پابندیوں اور ٹیکسز سے آزاد تھیں، اسلامی حکومتوں نے مسیحیوں کو اعلیٰ مناصب پر فائز کر رکھا تھا لیکن خلافت اسلامیہ کے زوال اور انتشار کے دور میں ان زائرین نے اِن رعایات سے فائدہ اٹھانا شروع کردیا، زائرین کی تنگ نظری اور تعصب کی بدولت مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہونا شروع ہوگئیں، اُدھر متعصب زائرین جب اپنے آبائی وطنوں کو واپس لوٹتے تو مسلمانوں کی زیادتیوں کے فرضی افسانے گھڑ کر اہل یورپ کے جذبات کو بھڑکاتے۔ انہی زائرین میں راہب پیٹر بھی شامل تھا، جس نے گیارہویں صدی میں بیت المقدس کی زیارت کیلئے متعدد دورے کیے ، جب وہ پہلی مرتبہ آیا تو اُس نے بیت المقدس پر مسلمانوںکی حکومت کو بری طرح محسوس کیا۔ یورپ واپس جا کر پیٹر نے دیگر زائرین سے کہیں بڑھ کر فلسطین میںمسیحیوں کی حالت زار کے جھوٹے قصے اور کہانیاں گھڑیں اور اپنے یہ فرضی قصے کہانیاں ’’بیچنے‘‘ کیلئے سارے یورپ کا دورہ کیا۔ پیٹر کا یہ دورہ اسکی توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب رہا تھا، پیٹر کی جذباتی تقریروں نے لوگوں کے اندر مذہبی جنونیت کی کیفیت پیدا کر دی۔پیٹر نے یورپ میں یہ افواہ بھی خواص و عام میں پھیلادی کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ نزول فرما کر عیسائیوں کے تمام مصائب کا خاتمہ کرینگے لیکن انکا نزول اسی وقت ہوگا جب یروشلم کا مقدس شہر مسلمانوں کے قبضہ سے آزاد کرالیا جائیگا۔ پیٹر نے یہ بات عام کر دی تھی کہ اگر کوئی چور ، بدمعاش اور بدکردار بھی بیت المقدس کی زیارت کر آئیگا تو وہ جنت کا مستحق ہوگا۔ لہٰذا اس عقیدہ کی بنا پر بڑے بڑے بدکردار اور بدمعاش لوگ بھی زائرین کی صورت میں بیت المقدس آنا شروع ہوگئے۔ شہر میں داخل ہوتے وقت وہ ناچتے اور باجے بجاتے اور شوروغل کرتے ہوئے اپنی برتری کا اظہار کرتے اور کھلے بندوں شراب نوشی کے مرتکب ہوتے چنانچہ زائرین کی ان نازیبا حرکات اور انکی سیاہ کاریوں ، بدنظمی اور امن سوز سرگرمیوں کی وجہ سے ان پر کچھ اخلاقی پابندیاں لگا دی گئیں۔
اس وقت عیسائی دنیا دو حصوں میں تقسیم تھی، ایک حصے کا تعلق یورپ کے مغربی کلیسا سے تھا جس کا مرکز روم تھا۔ دوسرا مشرقی یا یونانی کلیسا جسکا مرکز قسطنطنیہ تھا۔ دونوں چرچ کے ماننے والے ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ روم کے پوپ کی ایک عرصہ سے یہ خواہش تھی کہ مشرقی بازنطینی کلیسا کی سربراہی بھی اسے حاصل ہوجائے ۔ اس طرح وہ ساری عیسائی دنیا کا روحانی پیشوا بن جائیگا۔ اسلام دشمنی کے علاوہ اپنے عزائم کو پورا کرنے کیلئے اس نے اعلان کردیا کہ ساری دنیا کے عیسائی بیت المقدس کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں جو اس جنگ میں مارا جائیگا وہ جنت کا حقدار ہوگا، اسکے سب گناہ دھل جائینگے اور فتح کے بعد جو مال و زر حاصل ہوگا وہ ان میں تقسیم کر دیا جائیگا۔ نتیجتاً عیسائی دنیا مسلمانوں کیخلاف دیوانہ وار اٹھ کھڑی ہوئی۔ پوپ چونکہ مغربی کلیسا کا روحانی پیشوا تھا اس لیے اس نے مختلف فرقوں کی ایک کونسل بلائی اور اسکے سامنے مسلمانوں کیخلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔اس خوفناک پراپیگنڈا مہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ جوق در جوق سینٹ پیٹر کی قیادت میں فلسطین پر چڑھائی کی غرض سے روانہ ہوگئے۔یورپ کے عیسائی پہلے ہی مسلمانوں کیخلاف تھے اب ان حالات میں انکے اندر نفرت و حقارت کے جذبات نے مزید تقویت پکڑلی تھی۔ لاکھوں کی تعداد میں یورپ کے جنگی جنونی اسلامی دنیا کی جانب بڑھے اور تباہ کن جنگ میں دونوں طرف سے لاکھوں افراد مارے گئے، صلیبیوں نے مسلمانوں کا کھل کر قتل عام کیااورجنگ کے اختتام پر بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا، یوںبیت المقدس پر قبضے نے پیٹرکو یورپی صلیبیوں کا ہیرو بنادیا۔
قارئین کرام!! نو صدی پہلے کی طرح یورپ کے جنونی مسلمانوں کیخلاف ایک مرتبہ پھر اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور جنونیوں کی قیادت امریکہ یا برطانیہ نہیں کررہے بلکہ اِسکی قیادت فرانس کے جنونی کررہے ہیں۔ راہب پیٹر کے دیس میں مسلمانوں کیخلاف ملین مارچ اور وہ بھی گستاخانہ خاکے شائع کرنیوالے کے حق میں ، چہ معنی دارد؟ صاف محسوس ہورہا ہے کہ صلیبی جنگوں کا فتنہ ایک بار پھر فرانس سے اُٹھ رہا ہے، فرانس جہاں توہین آمیز اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کا عمل جاری ہے لیکن اِسے اظہار رائے کی آزادی کانام دیا جارہا ہے۔کم لوگوں کو علم ہے کہ آخر بیٹھے بٹھائے چارلی ایبڈو کو کیا سوجھی کہ گستاخانہ خاکے شائع کردیے تو جناب! یہ خاکے یونہی شائع نہیں کیے گئے بلکہ راہب پیٹر کی موت کے نوسو سال پورے ہونے پر چارلی ایبڈو نے باقاعدہ شرارت کے تحت گستاخانہ خاکے شائع کیے،جنونی ’’چارلی ایبڈو‘‘ صرف گستاخانہ خاکے ہی شائع نہیں کررہا بلکہ پیٹر راہب کی طرح مسلمانوں کیخلاف منفی پراپیگنڈا بھی کررہا ہے۔گزشتہ برس، غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام اور حال ہی میں حزب اللہ کیساتھ جھڑپ میں درجن بھر اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے تناظر میں دیکھا جائے تو نئی صلیبی جنگوں کا منظر نامہ واضح ہوجائیگا، کوئی مانے یا نہ مانے اہل یورپ کی مذہبی جنگی جنونیت دراصل صلیبی جنگوں کا احیاء ہے اور اپنی اس مذہبی جنگی جنونیت کو وہ آزادی اظہار کے نقاب میں چھپارہے ہیں۔