طلسماتی لیول پلینگ فیلڈ 

مسلم لیگ ن کے عہدیداروں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو 2017ءمیں پانامہ کا بہانہ بنا کر اقامہ میں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا گیا۔ وہ عدلیہ کے بعض کرداروں اور بعض طاقتور شخصیات کو اس سازش کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ آج میاں نواز شریف کو جو سہولتیں دی جا رہی ہیں وہ ان زیادتیوں کا مداوا ہے جو اچھی بھلی چلتی حکومت کو چلتا کرنے کے لیے کی گئی تھیں۔ کسی بھی غلطی کے مداوا کا یہ انداز پاکستان میں پہلی دفعہ متعارف کروایا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ میاں نواز شریف کے خلاف جو مقدمات قائم کیے گئے تھے جن میں ان کو سزائیں بھی ہو چکی ہیں ان کو ریورس گیئر لگایا جائے۔ میاں صاحب کو عدالتی پراسس سے پاک صاف کرکے اقتدار ان کے حوالے کر دیا جائے۔ اگر یہ ٹرینڈ سیٹ کر دیا گیا تو پاکستان کی ماضی کی ساری غلطیوں کا مداوا کرنا پڑے گا اور سب سے بڑے کیس پر بھی نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو جو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا اسے تاریخ عدالتی قتل قرار دے چکی ہے اور قتل کے مقدمہ میں عدالتی تاریخ کی واحد اور یکتا مثال ہے کہ 109 کے ملزم کو سزائے موت دے دی گئی۔ اس بارے میں سزا دینے والے بعض ججز اور عدلیہ کے تمام کردار واضح کر چکے کہ بھٹو کو ناحق پھانسی دی گئی۔ اب میاں نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا اگر ازالہ کیا جا رہا ہے تو کم از کم ذوالفقار علی بھٹو کو ناحق سزا دینے پر ریاست کو معافی تو مانگنی چاہیے۔ اور پھر بےنظیر بھٹو کے خلاف آئی جے آئی بنا کر اسکے مینڈیٹ کو تبدیل کرنے کی کوشش پر بھی معافی ہونی چاہیے۔ وہ باپ بیٹی تو اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ تو ممکن نہیں لیکن تاریخ کو تو درست کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آج کے طلسماتی لیول پلینگ فیلڈ کے بارے میں سوچ کر پریشانی ہوتی ہے کہ اگر ازالوں کا رواج پڑ گیا تو جو کچھ آج ہو رہا ہے اس کا بھی مداوا ہو سکتا ہے۔ فرض کریں اگر دو اڑھائی سال بعد حالات پلٹا کھاتے ہیں اور پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ دو آڑھائی سال یا تین سال کے بعد لازمی کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کی کل کو میاں صاحب کے ساتھ ان بن ہو گئی اور بات مداوے پر گئی تو پھر کیا ہو گا۔ ابھی تو ہر چیز میاں صاحب کے لیے سر تسلیم خم کی جا رہی ہے لیکن اگلے سائیں جب پاو¿ں کے نیچے سے قالین کھینچتے ہیں تو وہ سمجھ بھی نہیں آنے دیتے کہ ہوا کیا ہے۔ اور آخر اس مرض کی دوا کیا ہے جیسا کہ آج کل قاسم کے ابو کے ساتھ ہو رہا ہے۔ نواز شریف تو اسے لاڈلا بنا کر اقتدار میں لانے والوں کے احتساب کی بھی بات کر رہے ہیں۔ ہر لمحے کوئی نہ کوئی نیا سکینڈل کوئی نہ کوئی نیا کردار اور کوئی نہ کوئی نیا کیس سامنے آ رہا ہے۔ دوسو سوا دوسو کیسوں کی بجائے اگر دو چار ہی مضبوط کیس بنائے جاتے اور وہ اتنے مضبوط ہوتے کہ ان کا ایک ایک ثبوت عوام کے سامنے رکھا جاتا تو شاید اس کا اثر کچھ اور ہوتا۔ وہ قاسم کے ابو کو زیادہ ڈمیج کر سکتا تھا۔ اب کرداروں کی تخلیق اور کیسوں کی بھر مار سے لوگ سمجھ رہے ہیں کہ قاسم کے ابو کو ہر صورت فارغ کرنا مقصود ہے۔ زیادتیوں کا تاثر زیادہ گہرا ہوتا جا رہا ہے اور کل کو الیکشن ہو جاتے ہیں تو عوام کوئی بھی رنگ دکھا سکتے ہیں۔ لوگ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ایک جماعت کے ساتھ ساری جماعتوں کا اتحاد ہو رہا ہے۔ سیاسی قوتوں کو اکٹھا کر کے ایک کی جھولی میں ڈالا جا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کو تنہا کر دیا گیا ہے جبکہ تحریک انصاف کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا جا رہا۔ ایک جماعت کو تمام سہولتوں کے ساتھ مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت اور دوسری جماعت کے کاہنہ نو میں بھی جلسہ پر گرفتاریاں۔ تحریک انصاف کے وکیل کو خیبر پختون خواہ میں جلسہ پر بھی کیس کا سامنا جبکہ جلسہ میں شرکت کرنے والے 37 مقامی راہنماو¿ں پر مقدمات اور گرفتاریاں۔ اس سے زیادہ لیول پلینگ فیلڈ اور کیا ہو گی یہ الگ بات ہے کہ ابھی تک انتخابات بارے کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔ اگر الیکشن ہو گئے تو پھر عوامی فیصلے کو مولڈ کرنا اتنا آسان نہ ہو گا۔ ویسے بھی اب نگران اپنے قدم جما چکے ہیں اور معاملات کو چلا رہے ہیں۔ بہتری تک ان کو چانس دینا تو بنتا ہے۔
٭....٭....٭