پاک فوج کا جنم

دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر برٹش انڈین آرمی کی تعداد22لاکھ سے گھٹا کر تقریباً چار لاکھ کر دی گئی۔ اس تعداد میں 60 ہزار برطانوی تھے اور باقی ماندہ ہندوستانی۔ آفیسرز کی کل تعداد 22 ہزار کے لگ بھگ تھی جس میں 3500 انگریز آفیسر ز تھے اور باقی ہندوستانی۔ مسلمان آفیسرز بہر حال ہندو آفیسرز سے بہت کم تھے۔ جب پاکستان کا قیام ناگزیر ہو گیا تو برٹش ہندوستانی فوج کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر ہند و آفیسرز نے ایک اور چال چلی جو با قاعدہ تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ وہ یہ کہ ہندوستان کا بٹوارہ تو قابل قبول ہے۔ بے شک پاکستان بھی بن جائے گا لیکن دونوں ممالک کا گورنر جنرل ایک ہی ہو۔ کمانڈر انچیف بھی ایک ہی ہو اور فوج بھی مشترک ہو۔ یہ تجویز قائد اعظم نے سرے سے ہی رد کر دی لیکن ہند و آفیسر ز نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
ان کوششوں کا اندازہ ان دو مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے کہ اوائل 1947ء میں برٹش سٹاف کالج کیمبرلے انگلینڈ میں کچھ ہندوستانی فوجی آفیسر ز زیر تربیت تھے ان آفیسر ز میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ وہاں ایک ہندو آفیسر میجر بھگت (وکٹوریہ کراس) نے ہندوستانی آفیسرز کی طرف سے شاہ برطانیہ کے لیے ایک یادداشت تیار کی جس میں اپیل کی گئی تھی کہ برٹش انڈین آرمی کو تقسیم نہ کیا جائے۔ میجر بھگت کی بدقسمتی کہ مسلمان افسران نے اس یادداشت پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور یوں یہ سازش ناکام ہوگئی۔ برگیڈ ئیر کری اپا جو بعد میں ہندوستانی فوج کا پہلا کمانڈر انچیف بنا بھی اس وقت سٹاف کالج کیمبرلے میں موجود تھا۔ وہ شاید وہاں انسٹرکٹر تھا۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ ہم فوجی ڈکٹیٹرشپ کے ذریعے تقسیم ہند ختم کر دیں گے۔ اسی طرح جب فوج کی تقسیم ہو گئی تو فوجی روایت کے مطابق دہلی آفیسر زمیس میں 6 جون کو ہندوستانی آفیسرز کی طرف سے پاکستان جانے والے آفیسرز کو الوداعی ڈنر دیا گیا۔
اس الوداعی ڈنر میں قائد اعظم بھی شریک تھے۔ ایک ہندو آفیسر قائد کے پاس آئے اور روایتی گپ کے بعد پُر زور اپیل کی کہ فوج کو تقسیم نہ کیا جائے۔ قائداعظم کو یہ ملکہ حاصل تھا کہ وہ بحث مباحثہ اور لمبی تشریح میں نہیں پڑتے تھے۔ مشکل سے مشکل مسئلے کا حل بھی چند الفاظ میں نکال لیتے تھے اور حل اس انداز میں بتاتے تھے کہ بحث میں پڑنے والا شخص لا جواب ہو جاتا، لہٰذا قائداعظم نے ہندو فوجی آفیسر کی بات غور سے سنی۔ جب وہ چپ ہوا تو قائد نے نرمی سے پوچھا، ’آپ یہاں کیا کرتے ہیں؟ ‘ہندو آفیسر نے اپنا عہدہ اور فرائض کی تفصیل بتائی۔ قائد اعظم نے سب سن کر نہایت تحمل مزاجی سے کہا، ’شاباش، تم ایک اچھے آفیسر کی طرح اپنے فرائض پر توجہ دو دوسروں کا کام دوسروں کے لیے چھوڑ دو۔‘یہ کہہ کر قائد دوسری طرف متوجہ ہو گئے اور یہ آفیسر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ پھر کسی آفیسر کو اس موضوع پر بات کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔
 دوسری جنگ عظیم کے دوران بھارتی وزارت دفاع میںمحکمہ جنگ کا سیکریٹری ایک متعصب ہندو مسٹر چندو لال ترید یوی تھا۔ یہ آفیسر پروفیشن کے لحاظ سے بڑا قابل تھا یہاں تک کہ اس وقت کے وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی اسے ذاتی طور پر جانتے تھے اور اس کی خوبیوں کے معترف تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ چند ولال واحد ہندوستانی آفیسر ہے جو اعلیٰ سطح پر جنگی امور کا ماہر ہے۔ چونکہ تمام فوجی معاملات اور پلاننگ انھی کے تحت آتی تھی اس لیے جب ہندوستانی فوج کی تقسیم کا فیصلہ ہوا تو اس نے بڑی مہارت سے پاکستان کے حصے میں آنے والی فوجی یونٹوں کو ہندوستان کے جنوب اور مشرقی حصے میں پھیلا دیا تا کہ پاکستان پہنچنے کے لیے انھیں لمبے سفر اور مختلف مسائل سے دو چار کر دیا جائے جبکہ سکھ یونٹس پنجاب میں جمع کر دیں تا کہ جب ہجرت ہو تو یہ یونٹس اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کریں اور مسلمانوں کا جی بھر کر قتل عام کر سکیں۔ ان یونٹوں کے پاس اپنے ہتھیار رہنے دیے گئے جبکہ پاکستان کے حصے میں آنے والی اکثر یونٹوں سے ذاتی ہتھیار یہ کہہ کر جمع کرلیے گئے کہ یہ لوگ امن و امان خراب نہ کریں۔ ان لوگوں کو بغیر ہتھیاروں کے دور دراز علاقوں سے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں روانہ کر دیا گیا جن پر مشرقی پنجاب میں سکھ سولجرز نے دل کھول کر حملے کیے اور ان کا بے بہا جانی نقصان کیا۔ ہندوستان سے آنے والے سویلین مسلمان قافلوں پر بھی وسیع پیمانے پر حملے کیے گئے اور اس بے دردی سے خون بہایا گیا کہ انسانیت کانپ اٹھی۔
پاکستان آرمی کا پہلا کمانڈر انچیف جنرل میسروی لکھتا ہے، ’میں نے مشرقی پنجاب میں ایک چھوٹی سی نہری پل پر ہر طرف لاشیں ہی لاشیں دیکھیں۔ معصوم بچوں کے سر کچل کر مارا گیا۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ ان کی ٹانگوں سے پکڑ کر ان کے سرپل کی دیوار کے ساتھ زور سے مارکر کچل دیے گئے تھے۔ جوان عورتوں میں سے کسی کا جسم سلامت نہ تھا حتی کہ ان کے جسموں کو ڈھانپنے تک کی زحمت بھی گوارا نہ کی گئی۔ بوڑھے مردوں اور عورتوں کے پیٹ میں سنگینیں اور کر پانیں مار کر قتل کیا گیا تھا۔ رات کے اندھیرے میں ٹارچ کی روشنی میں دل دہلا دینے والا منظر تھا۔‘ (جاری)

ای پیپر دی نیشن