حسین نواز کے اعتراضات مسترد، جے آئی ٹی کام جاری رکھے:سپریم کورٹ

29 مئی 2017 (18:26)
حسین نواز کے اعتراضات مسترد، جے آئی ٹی کام جاری رکھے:سپریم کورٹ

 سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی پر حسین نواز کے اعتراضات مسترد کر دیئے۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو قانون کے مطابق کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ جے آئی ٹی پر اعتراضات کے معاملے میں حسین نواز کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت کو ہدایت کرتے ہیں کہ قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھے۔ جے آئی ٹی پیش ہونے والے افراد کی عزت نفس کا خیال رکھے۔ حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اس کیس کی ویڈیو آڈیو ریکارڈ کی جارہی ہے۔ میرے موقف کے معاملے میں عدالت اسے دیکھ لے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ ٹیم کے ایک ممبر کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اپنا کام کرنا جانتے ہیں۔ معاملہ منطقی انجام تک ضرور پہنچے گا۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ معاملہ طول پکڑ جائے گا۔ چپڑاسی ہو یا وزیراعظم سب کے ساتھ عزت سے پیش آئیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ تحقیقات ٹیم میں تبدیلی کی عدالتی مثالیں موجود ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ تحقیقاتی ٹیم کی بدنیتی ثابت کریں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ٹیم کے ممبر بلال رسول کی تحریک انصاف سے قریبی وابستگی ہے۔ بلال رسول کی اہلیہ تحریک انصاف کی متحرک سپورٹر ہیں۔ ارکان نے غیر جانبداری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ ایک سنجیدہ ایشو ہے۔ ٹرائل کا سامنا کرنے والوں کو نااہلی یا سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے دریافت کیا کہ کیا وزیراعظم اپنی تحقیقات کیلئے ٹیم کا انتخاب خود کریں گے؟ جے آئی ٹی میں وزیراعظم کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔ تمام ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہیں۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی کے کسی بھی رکن کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی تعصب ہو گا تو ریکارڈ سے پتہ چل جائے گا۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ طارق شفیع کو 13 گھنٹے بٹھایا گیا۔ طارق شفیع کو کہا گیا کہ وہ اپنا بیان حلفی واپس لیں۔ عدالت نے کہا کہ مذکورہ شخص طارق شفیع کو تحقیقات کے لئے بلایا گیا تھا چائے پارٹی کیلئے نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کسی ٹھوس شواہد کے بغیر جے آئی ٹی کا کوئی رکن تبدیل نہیں ہو گا۔ شکوک کی بنیاد پر کسی کو ٹیم سے نکالا نہیں جا سکتا۔ اگر ایسا کہا تو پھر تحقیقات کیلئے آسمان سے فرشتے بلانے پڑیں گے۔ ہم ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں کسی کے خلاف بات کی جائے تو اسے جانبدار کہا جاتا ہے۔ پیش ہونیوالے کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو اس کی اہلیہ قائل نہیں کر سکی سب کہتے تھے عدالت کا ہر فیصلہ قبول ک ریں گے۔ ججز کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے سب معلوم ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ماموں، چاچو کے کیس سننے لگے تو پاکستان میں کوئی نہیں بچے گا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جانبداری ثابت ہوئی تو متعلقہ شخص جے آئی ٹی میں نہیں ہو گا۔ جانبداری ثابت ہونے کے لئے ٹھوس شواہد کا ہونا ضروری ہے۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تحقیقاتی افسران خدا نہیں، جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ تحقیقاتی افسران نہ فرعون ہیں نہ ہم ہیں جن سے تحقیقات ہو رہی ہیں وہ بھی فرعون نہیں۔ تمام سوالات عدالتی فیصلے میں واضح ہیں۔ کیا وکیل تحقیقاتی افسران کو بتائے گا کہ کون سا سوال پوچھنا ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ حسین نواز کو جے آئی ٹی نے کوئی سوالنامہ نہیں دیا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کیا حسین نواز کو نہیں پتہ کہ کون سی دستاویزات پیش کرنی ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر حسین نواز کیلئے گڈ لک۔ تحقیقات ہوا میں نہیں ہو رہیں حسین نواز کو پتہ ہونا چاہئے کہ اس کا دفاع کیا ہے۔ تمام دستاویزات حسین نواز کے پاس ہیں؟ حسین نواز دستاویزات دیں اور گھر جائیں۔