اوپن یونیورسٹی کی ایم فل اور پی ایچ ڈی ریسرچ سکالرز کے لئے ڈیٹا اینالیسسز کی ایک ہفتے دورانیہ کی تربیتی ورکشاپ

29 مئی 2017

اسلام آباد (اے پی پی) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے یو ایس ایڈ کے تعاون سے اپنے ایم فل اور پی ایچ ڈی ریسرچ سکالرز کے لئے ڈیٹا اینالیسسز کی ایک ہفتے دورانیہ کی تربیتی ورکشاپ منعقد کی تھی ¾ سکالرز کو معیاری اور بامعنی تحقیق کی طرف راغبکرنے کے لئے انہیں نویوسافت وئیر کے ذریعہ اعداد و شمار جمع کرنے کے نئے تکنیک سیکھائے گئے۔ایک ہفتہ دورانیہ کے اس تربیتی ورکشات میں ملک کے ہر حصے سے طلبہ و طالبات نے شرکت کی تھی۔اختتامی /تقسیم اسناد تقریب کی صدارت وائس چانسلر ¾ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کی ۔ رجسٹرار ¾ ڈاکٹر محمد نعیم قریشی ¾ ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن ¾ ڈاکٹر ناصر محمود ¾ ڈاکٹر نصراﷲ ¾ ڈاکٹر سا جد علی یوسفزئی ¾ ڈاکٹر ندیم ڈوگر )ریسورس پرسن (اور ورکشاپ رابطہ کار ڈاکٹر افشاہ ہما بھی اس موقع پرموجودتھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ¾ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ"ایم فل اور پی ایچ ڈی ریسرچ سکالرز کو بامعنی اور سماجی مسائل سے وابستہ تحقیق کے لئے جدید معلومات تک رسائی فراہم کی جائے گی ¾ اس سلسلے میں یونیورسٹی کیمپس میںبہت جلد "ڈیٹا ریسورس سینٹر"قائم کیا جائے گا ¾سکالرز کی حوصلہ افزائی کرنا اورریسرچ کے لئے انہیں مطلوبہ مواد تک رسائی فراہم کرنا ریسرچ کلچر کے فروغ کی بنیادی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے مزید کہا کہ اوپن یونیورسٹی ملک کو ایسے سکالرزفراہم کرنے کی قومی ذمہ داری بہ حسن و خوبی پوری کررہی ہے جو مجموعی اور انفرادی سطح پرلوگوں کی معیار زندگی میں بہتری اور مثبت تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے کے لئے محض اقتصادی ترقی ناکافی ہے ¾ اہداف کے حصول کے لئے ہمیں سماجی پہلو کی طرف بھی دیکھنا ہوگا جس میں اقدار ¾ رویہ اور سوچ شامل ہیں جب تک ہم اپنے اقدار ¾ رویوں اور احساسات کی سمت درست نہیں کرتے تب تک ہم مشکلات کا شکار رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریسرچ سکالرز کوسماجی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی تعمیر اور مثبت تبدیلی کے لئے تعلیمی اداروں اور تدریسی برادری کو آگے بڑھنا چاہئیے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ اوپن یونیورسٹی معاشرتی مسائل سے وابستہ تحقیق کی طرف طلبہ کو نہ صرف راغب کرتی ہے بلکہ معیاری ریسرچ کے لئے انہیں درکار سہولتیں بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کی پہچان ان کے ریسرچ کام سے ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اوپن یونیورسٹی نے گذشتہ سو ا دو سال کے مختصر عرصہ میں 11۔جرنلز شائع کی ہیں۔