ریسکیو محافظ پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں صحت مندانہ سرگرمیوں کا انعقاد کریں

29 مئی 2017

راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے)ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیرنے تمام ریسکیو اینڈ سیفٹی آفیسرز پر زور دیا ہے کہ وہ ریسکیو محافظ پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں ایسی صحت مندانہ سرگرمیوں کا انعقاد کریں جن کے ذریعے انسانیت کے جذبے کو استعمال میں لا کر مستحکم، صحت مند ، محفوظ، اور خوشحال معاشرے کی ترقی و تعمیر یقینی بنائی جاسکے۔ اس موقع پر انہوں نے شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور اپنی اپنی یونین کونسل میں کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز میں شامل ہو کر اپنے علاقوں میں ایمرجنسی پری پیریڈ نیس اینڈ ریسپانس، ایمرجنسیز کی روک تھام، صحت مند اور محفوظ طرزِ زندگی، عمارات میں آگ سے بچاﺅ، ٹریفک حادثات کی روک تھام، صاف پانی اور ماحول اور ری سائیکلنگ کے ذریعے چیزوں کو کارآمد بنانے کےلئے اپنا کردار ادا کریں ان خیالات کا اظہار ڈی جی ریسکیو پنجاب نے ایمرجنسی سروسز اکیڈےمی کے منیجرز ٹریننگ سنٹر میں ریسکیو اینڈ سیفٹی آفیسرز کےلئے ریسکیو محافظ پروگرام کی تربیتی ورکشاپ کے دوران کیاواضح رہے کہ پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006کے مطابق پنجاب ایمرجنسی سروس نے صوبہ کی تمام یونین کونسل میں کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں (CERTs)کے قیام کےلئے ریسکیو محافظ پروگرام کاآغاز کیا ہوا ہے جس کے تحت تمام یونین کونسل میں 12ریسکیو رضاکاروں پر مشتمل افراد کی ٹیمیں تشکیل دی جارہی ہیں ان ٹیموں کے ممبران کو پہلے مرحلے میں بیسک لائف سیفٹی کے متعلق تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ کرٹس کے ممبران آگے آئیں اور معاشرے میں ایمرجنسیز کی روک تھام میں معاونت کرسکیں تربیت کی فراہمی کے بعد ، ان افراد کو مختلف صحت مندانہ سرگرمیوں بشمول شجر کاری، خطرات کی نشاندہی اور ایمرجنسیز اور ڈزاسٹرز کی روک تھام میں شامل کیا جائے گاڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ نوجوان ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں اور ہم نے رضاکاری کے جذبے سے سرشار نوجوانوں کو ریسکیو محافظ کے پلیٹ فارم سے اپنی گلیوں، محلوں اور اضلاع کا محافظ بنانا ہے سروس نے بروقت ایمرجنسی کیئر کے بنیادی حق کی فراہمی سے معاشرے میں احساسِ تحفظ پیدا کیا ہے اور اب نوجوانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایمرجنسیز اور سانحات کے متعلق روایتی سوچ کو تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ انہوں نے ٹیموں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے سکولز، کالجز، جامعات ، گھر ، کھیلوں کے میدان ، پارکس اور دیگر جگہوں کو صاف ستھرا رکھیں یہ مجموعی ذمہ داری ہے جسے معاشرے کے تمام سٹیک ہولڈرز نے مل کر نبھانہ ہے قبل ازیں ریسکیو اینڈ سیفٹی آفیسرز کو محافظ اپلیکیشن پر تربیت فراہم کی گئی کہ کس طر ح وہ اپنے اضلاع کے شہریوں کو ریسکیو محافظ پروگرام کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...