حسین نواز نے جن پر اعتراض کیا ان کے ماضی سے پورا پاکستان واقف ہے: مریم اورنگزیب

29 مئی 2017

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نےکہا ہے کہ حسین نواز کی جانب سے جے آئی ٹی کے دو ارکان پر سپریم کورٹ میں اعتراض داخل کیا گیا ہے۔ یہ جے آئی ٹی کے پراسیس کو روکنے کے لئے نہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ اتوار کے روز جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہوتے۔ پورے پاناما کیس میں سیاست کے علاوہ کچھ نہیں، معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے کیونکہ پاکستان کی عوام نے میاں محمد نوازشریف کو تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب کیا ہے۔ جے آئی ٹی کے جن دو ارکان پر اعتراض کیا گیا ہے ان کے ماضی سے حسین نواز ہی نہیں پورا پاکستان واقف ہے۔ گذشتہ روز حسین نواز کو نوٹس ملا اور وہ اتوار کے روز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو گئے۔یہ پاکستان میں کرپشن کو مٹانے کا تاریخی عمل ہے حسین نواز کا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا مقصد تیسری مرتبہ منتخب وزیراعظم پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرنا ہے جے آئی ٹی کو حسین نواز کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت تک انتظار کرنا چاہئے تھا جبکہ سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ جن دو لوگوں پر حسین نواز نے اعتراض کیا ہے۔ ان دونوں اراکین کا تعلق نوازشریف کی بدترین مخالف سیاسی جماعت سے بنتا ہے۔ اس لئے دونوں اراکین کو خود چاہئے کہ اپنے آپ کو اس عمل سے علیحدہ کر لیں۔ ان خیالات کا اظہار مریم اورنگزیب اور پرویز رشید نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب سے پانامہ لیکس کا سلسلہ شروع ہوا وزیراعظم نوازشریف نے خود سپریم کورٹ کو کمیشن اور جے آئی ٹی بنانے کے لئے خط لکھے جبکہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران شریف فیملی نے بینچ کے ساتھ مکمل تعاون کیا جس طرح سپریم کورٹ نے جو چیز مانگی وہ پیش کی گئی ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد جے آئی ٹی بنی اور خود سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی۔ اس کے بعد جیسے جیسے گواہ پیش ہوئے تو اس کے اندر یہ بات سامنے آئی کہ سپریم کورٹ میں حسین نواز نے درخواست دی کہ کس طرح گواہوں کو دو لوگوں پر اعتراض تھا اور گواہوں کو دھمکایا گیا۔ سپریم کورٹ نے حسین نواز کی درخواست کی سماعت آج (پیر) کو رکھی ہے لیکن جے آئی ٹی نے گذشتہ روز نوٹس دیا اور اتوار کے روز حسین نواز کو بلایا۔ ان کا کہنا تھا جے آئی ٹی کو انتظار کرنا چاہئے تھا کہ یہ کیس سب جوڈس ہے درخواست گئی ہے اور اس پر سماعت مقرر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شریف فیملی پہلے دن سے جواب دے رہی ہے لیکن جے آئی ٹی کو چاہئے تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد مزید کارروائی کرتی۔ ہم سمجھتے تھے کہ افسران اپنے فرائض کو پوری طرح نبھائیں گے لیکن جس طرح گواہ پیش ہوئے اور تین گواہوں کے بعد یہ اعتراض لگا کر بہت زیادہ بغض سامنے آ گیا ہے اور کارروائی کی جا رہی ہے دو لوگوں پر قانونی اور آئینی حق کے مطابق حسین نواز نے سپریم کورٹ میں اعتراض کیا یہ اعتراض بھی کسی طرح پراسیس کو روکنے کے لئے نہیں اگر ایسا ہوتا تو حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے کیس میں سیاست کے علاوہ کچھ نہیں نہ کسی قسم کی کرپشن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے عوام نے میاں نوازشریف کو تیسری دفعہ وزیراعظم منتخب کیا ہے۔ پرویز رشید کا کہناتھا کہ اصولی طور پر جے آہی ٹی کے جن دو اراکین پر حسین نوازشریف نے اعتراض کیا ہے روایت یہی ہے کہ جب کوئی شخص انصاف کرنے والے یا تحقیقات کرنے والے افراد پر اعتراض کر دے تو وہ خود اپنے آپ کو اس عمل سے علیحدہ کر لیتے ہیں۔ جے آئی ٹی کے دونوں اراکین کو بھی یہی کرناچاہئے تھا کہ وہ خود یہ بات کہتے کہ چونکہ ہم پر حسین نواز نے عدم اعتماد کیا ہے لہٰذا جو بھی فیصلہ ہم کرینگے اس کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ اس لئے ہم اپنے آپ کو خود اس عمل سے علیحدہ کرتے ہیں۔ حسین نواز کا اعتراض حقائق پر مبنی ہے۔