پانامہ کیس: حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش

29 مئی 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وزیراعظم محمد نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے اتوار کو پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئیجوائنٹ انوسٹی گےشن ٹےم کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے اس موقع ان کے وکیل بھی موجود تھے ۔ حسےن نواز سے جوائنٹ انوسٹی گےشن ٹےم نے پونے دو گھنٹے تک سوال و جواب کا سلسلہ رکھا۔حسین نواز نے جوائنٹ انوسٹی گےشن ٹےم کے سامنے پےشی سے قبل صحافےوں سے بات چےت کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے پیش ہونے کیلئے 24 گھنٹے کا وقت دیا تھا جبکہ کوئی سوالنامہ بھی نہیں دیا گیا ‘ کسی مفروضے پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ وہ بیان ریکارڈ کرانے کے بعد صحافےوں سے بات چیت کئے بغیر چلے گئے۔ تاہم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے قبل حسین نواز نے مےڈےا کے سوالات کے جواب مےں کہا کہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کےلئے گزشتہ روز نوٹس ملا تھا۔ اپنے وکیل کے سامنے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے لئے آےا ہوں انہوں نے کہا کہ وکیل کو روکا گیا تو میڈیا کو آگاہ کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے پیش ہونے کے لئے محض 24 گھنٹے کا وقت دیا۔ مجھے ابھی تک کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا۔ جے آئی ٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کروں گا۔ ابھی کسی مفروضے پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز تقریباً سوا 2 گھنٹے تک پانامہ کیس کی جے آئی ٹی کے سوالوں کے جواب دیتے رہے‘ حسین نوازکو 30 مئی تک متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔ ذرائع کے مطابق حسین نواز جے آئی ٹی کو دیئے گئے بیان سے متعلقہ دستاویزات جمع کرائیں گے۔ جے آئی ٹی کے ارکان کی طرف سے حسین نواز سے نیلسن اور نیسکول کمپنیوں سے متعلق سوالات بھی کئے ۔ حسین نواز سے مے فئیر فلیٹس سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔حسین نواز سے ان کی کمپنیوں کی بیرون ملک سرمایہ کاری سے متعلق سوالات بھی کیے گئے، ذرائع کے مطابق حسین نواز کے ہمراہ ان کے وکیل سعد ہاشمی تھے اور حسین نوا زکی طرف سے دیئے گئے بیانات کے نکات سعد ہاشمی نے درج کئے۔