مقبوضہ کشمیر :12افراد کی شہادت پر مکمل ہڑتال، مظاہرے، جھڑپوں میں 50سے زائد زخمی، یاسین ملک گرفتار

29 مئی 2017

سرےنگر(آن لائن+اے این این+ نیٹ نیوز)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر سبزار احمدسمیت 12افراد کی شہادت پر مکمل ہڑتال کی گئی ۔اسموقع پر زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔سرینگرسمیت تمام بڑے قصبوں میں بازار اور کاروباری ادارے مکمل طور پر بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی۔ میڈیارپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے سبزار احمد کو اپنے دو ساتھےوں سمےت ضلع پلوامہ کے علاقے سےموہ ترال مےں اےک جھڑپ کے دوران شہےد کرنے کا دعویٰ کےا تھا۔ سبزار احمد کی شہادت پر مقبوضہ وادی مےں حالات انتہائی کشےدہ ہیں جبکہ کٹھ پتلی انتظامےہ نے سرینگر اور دیگر قصبوںمیں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے کرفیو اور سخت پابندیاں نافذ کردی ہیں۔ انٹرنےٹ سروس بھی دوبارہ سے معطل کردی گئی ہے تاکہ لوگ تازہ ترین صورتحال کے بارے مےں اےک دوسرے کو معلومات فراہم نہ کرسکےں ۔ درےں اثناءکٹھ پتلی انتظامیہ نے میر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ اور دیگر حریت رہنماﺅں کو احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنے کے لیے گھروں میں نظر بند کر دیا ہے جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سےد علی گےلانی پہلے سے سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پرنظر بند ہیں۔ یاسین ملک کوپولیس نے گرفتار کر کے سرینگر جیل منتقل کر دیا ہے۔حزب المجاہدین کے اہم کمانڈر اور برہان وانی کے جانشین سبزار احمد بھٹ کو ترال کے علاقے رتسونا میں ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں سپرد خاک گیا۔جبکہ دیگر شہدیءکو بھی آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا ۔شہداءکی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔سبزار بھٹ اور دیگر شہداءکی تدفین کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے اور قابض فورسز پر پتھراو¿ کیا۔جس کے جواب میں فورسز نے بھی لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ۔حالات میں کشیدگی اور جلاو¿ گھیراو¿ کے بعد فوج نے سری نگر میں کر فیو نافذ کر دیا جبکہ وادی کے دیگر علاقوں میں بھی غیر اعلانیہ کر فیو اور دفعہ 144نافذ رہا۔ اس دوران قابض فورسز نے سپیکر پر لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی تاہم اس کے باجود لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باہر نکل کر احتجاج کیا۔اس دوران کرال خرد،خانیار، رینا واڑی ،صفا کدل ،معراج گنج ،مائسما،بٹا مالو اور نو ہٹہ تھانوں کی حدود میں مکمل کر فیو رہا ۔کرفیو اور دفعہ 144کے نفاذ کے باوجود لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور قابض فورسز کی گاڑیوں پر پتھراو¿ کیا۔اس دوران بھارتی فوج کی جانب لاٹھی چارج ،آنسو گیس اور پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے50 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے فورسز اہلکاروں کی کاروائی کے دوران سرینگر میں 20سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔ ادھر بھارتی فوج نے ایک اور مجاہد کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔بھارتی فوج کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اتوار کی صبح کنٹرول لائن کے قریب پونچھ سیکٹر میں ننگی ٹکری کے علاقے میں دراندازی کی کوشش ناکام بنائی گئی ہے ۔اس دوران فورسز کی فائرنگ سے ایک مجاہد مارا گیا ہے ۔ تاہم مارے جانے والے کی شناخت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔سبزار بھٹ کی شہادت پر آج بھی مکمل ہڑتال ہوگی اور کل ترال چلو مارچ ہوگا۔بھارتی فوجےوں نے جمعہ کواڑی کے علاقے گل ہٹہ میں جن دو نامعلوم افراد کو شہےد کرکے مجاہدےن قراردےا ہے، مقامی لوگوں کے مطابق ان کی عمرےں 70اور 80سال کے درمیان ہےں جس کی وجہ سے ا±ن کے عسکرےت پسند ہونے پرشکوک و شبہات پیدا ہوئے ہےں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ دونوں لاشوں کو رات کے اندھیر میں دفنایا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں کافی عمر رسیدہ تھے اورا±ن کی عمر سے نہیں لگتا تھا کہ وہ عسکرےت پسندہو سکتے ہیں۔حریت رہنماﺅں اور تنظیموں نے سبزار احمد اور بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے دیگر افراد کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ جموںوکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے کہا یہ عظیم مجاہدین ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ شبیر احمد شاہ نے کہا کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے جو بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں ، تاریخ انہیں سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ شبیر احمد شاہ کی ہدایت پر بشیر احمد شاہ، منظور احمد خان، محمد شفیع لون اور دیگر پر مشتمل فریڈم پارٹی کے ایک وفدنے ترال جا کر مجاہدین کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا شہادتیں قوم کے جذبہ مزاحمت کو غیر متزلزل بناتی ہیں۔