نواز شریف ،ڈاکٹر اے کیو خان اور یوم تکبیر

29 مئی 2017
نواز شریف ،ڈاکٹر اے کیو خان اور یوم تکبیر

یہ کم وبیش16،17سال قبل کی بات ہے جنرل پرویز مشرف نے ’’خفیہ ایجنسیوں ‘‘ نیب اور دیگر اداروں کی مدد سے مسلم لیگ(ن) کی کوکھ سے ایک سرکاری مسلم لیگ جسے بعد ازاں مسلم لیگ(ق) کا نام دیا گیا جنم دیا مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹریٹ پر مسلم لیگ (ق) سے قبضہ کروایا، بیگم عابدہ حسین مسلم لیگ(ق) کے سیکریٹریٹ میں مرکزی سیکریٹری اطلاعات کے دفتر میں براجمان تھیں بیگم عابدہ حسین ذاتی طور پر میری بڑی عزت کرتی ہیں، میں نے اسی تعلق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے شکوہ کیا ’’ بیگم صاحبہ آپ یہاں بیٹھی اچھی نہیں لگتیں آپ نے نواز شریف کو مشکل وقت میں چھوڑ کر اچھا نہیں کیا ‘‘ تو انہوں کہا کہ وہ کون سی خوبی تھی کہ میں نواز شریف کو نہ چھوڑتی انہوں نے تو مجھے ’’بجلی چور‘‘ بنا دیا تھا‘‘ میں نے نواز شریف کا قصیدہ تو نہ پڑھا لیکن تین چار خوبیاں گنوا دیں۔ میں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسا وزیر اعظم بتا دیں جس نے صدر مملکت ، چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف کو گھر بھجوا دیاہو گو کہ آرمی چیف کو گھر بھجوانے کے نتیجے میں نواز شریف کو جیل جانا پڑا میں نے کہا کہ ’’ایسا وزیر اعظم کہیں سے ڈھونڈ لائیں جس نے امریکی صدر کی پانچ ٹیلیفون کالز کی پروا کئے بغیر بھارت کے 5ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں 6ایٹمی دھماکے کر پاکستان کو ایٹمی کلب بنا دیا ‘‘ تو بیگم عابدہ حسین نے برملااعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اتنا’’ جگرا‘‘ تو نواز شریف کا ہی ہو سکتا ہے لیکن میں اب دوبارہ ان کی جماعت میں شامل نہیں ہو سکتی۔20سال قبل جس روز وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس وقت معاملہ پر ان کی کابینہ منقسم تھی کچھ وزراء انہیں ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں لگائی جانے والی پابندیوں سے خوفزدہ کر رہے تھے جب کہ اس وقت کے آرمی چیف نے بھی وزیراعظم کو ایٹمی دھماکے کرنے کے ’’نفع و نقصان‘‘ کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا تھا روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی مرحوم وزیر اعظم محمد نواز شریف کا حوصلہ بڑھا رہے تھے اور انہیں بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ ’’نواز شریف دھماکہ نہ کیا تو قوم تمہارا دھماکہ کر دے گی‘‘ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے28مئی1998ء کی سہ پہر چاغی کے پہاڑوں میں دھماکہ کرنے کافیصلہ کر لیا تو ایٹم بم بنانے کا کریڈٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں شریک کچھ لوگوں نے ڈاکٹر اے کیو خان کو ایٹمی دھماکے سے دور رکھنے کی سازش کی دھماکے سے قبل چاغی جانے کے لئے انہیں ہوائی جہاز فراہم کرنے سے انکار کر دیا گیا لیکن پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے اصل’’ محافظوں ‘‘ نے انہیں ایٹمی دھماکے کے وقت چاغی کے پہاڑ تک پہنچا دیا ڈاکٹر اے کیو خان کے دست راست فاروق جو اب بھی اپنے ’’ناکردہ گناہوں ‘‘کی سزا بھگت رہے ہیں کا فون آیا کہ ڈاکٹر خان نے یاد کیا میں نوائے وقت کے دفاعی امور کے سینئر رپورٹرسہیل عبدالناصر کے ہمراہ ان کے دفتر پہنچا تو ڈاکٹر خان کو پہلی بار مضطرب پایاان کے چہرے سے پریشانی عیاں نظر آتی تھی انہوں نے بتایا کہ 28مئی1998ء کی سہ پہر ایٹمی دھماکہ ہورہا ہے لیکن کریڈٹ حاصل کرنے دوڑ میں شریک بعض لوگ جنہیں اس وقت کی حکومت کی آشیرباد بھی حاصل ہے انہیں چاغی سے دور رکھنا چاہتے ہیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایٹمی دھماکے کے موقع پر بھارت کی جانب سے ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر پاکستان نے ایٹمی میزائل اپنی سرحدووں پر نصب کر دئیے ہیں ہماری موجودگی میں ڈاکٹر اے کیو خان کی کوششیں رنگ لے آئیں، جہاز ملنے کی اطلاع پر ان کا چہرہ کھل اٹھا میں سہیل عبدالناصر کے ہمراہ راولپنڈی پریس کلب میں اپنے دفتر آگیا جہاں ہم دونوں نے کمرہ بند کرکے 28مئی1998ء کرنے کی ’’ایکسکلیوژو سٹوری ‘‘ فائل کی جو ہم دونوں کے صحافتی کیرئیر میں ایک بڑا سکوپ ہے یہ ایٹمی دھماکہ کے بارے میں سب سے زیادہ مصدقہ سٹوری تھی ڈاکٹر اے کیو خان سے میری یاد اللہ کم وبیش32سال سے ہے جب انہوں نے ’’کولڈ ٹیسٹ ‘‘ کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا انہوں نے پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا اعلان تو کر دیا اور بھارتی صحافی کلدیپ نائرکے ذریعے بھارت کو پیغام بھجوا دیا کہ بھارت ’’ایٹمی پاکستان‘‘ سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے اس ملاقات کے حوالے سے بڑا ہنگامہ بھی ہوا لیکن مشاہد حسین سید کو قومی فریضہ ادا کرنے کے ’’جرم‘‘ پر جلد ہی ’’رہائی ‘‘ مل گئی۔ 80سالہ ڈاکٹراے کیو خان کی داستان حیات ’’دیو مالائی ‘‘ شخصیت کی سی ہے جس نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے لئے اپنی ساری زندگی ایک ’’قیدی‘‘ کی طرح گذار دی اگر پاکستان یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل نہ کرتا تو کسی صورت ایٹمی قوت نہ بنتا ڈاکٹر خان نے ایٹم بم کی تمام ڈرائنگ محفوظ ہاتھوں کے سپرد کر دی تھی پھر کون انہیںایٹم بم کا خالق ہونے کے کریڈٹ سے محروم کر سکتا ہے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں ڈاکٹر اے کیو خان کی غلام اسحق کے سوا کسی حکمران سے نہیں بنی ان کا یہ کہنا ہے کہ اگر غلام اسحقٰ خان ڈاکٹر ا ے کیو خان پراجیکٹ سے منسلک نہ ہوتے اور اسے مالی وسائل کی فراہمی میں فراخدلی کا مظاہرہ نہ کرتے پاکستان کبھی ایٹمی قوت نہ بنتا پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا خواب ذوالفقار علی بھٹو نے دیکھا انہیں نشان عبرت بنا دیا گیا لیکن جنرل ضیاالحق نے افغان جنگ کی آڑ میں اسے مکمل کر لیا وزیر اعظم محمد نواز شریف نے امریکی صدر کی پانچ ٹیلی فون کالز کی پروا کئے بغیر ایٹمی دھماکے کر کے پوری دنیا سے پاکستان کو ایٹمی ملک تسلیم کروا لیا اسی طرح ڈاکٹر اے کیو خان کا جو کریڈٹ ہے اس سے انہیں محروم نہیں کیا جاسکتا ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی جو خدمات ہیں ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا 

جب ایران اور لیبیا نے پاکستان کی طرف سے انہیں ایٹمی قوت بنانے میں مدددینے کا اعتراف کیا گیا تو اس کا سارا ملبہ ڈاکٹر اے کیو خان پر ڈال دیا گیا ان سے ان کے ’’ ناکردہ گناہوں‘‘ کا اعتراف کروا ان کی تذلیل کی گئی جنرل پرویز مشرف نے ان کو ان اعزازات سے محروم کردیا جو ان کو قومی خدمات پر دئیے گئے تھے میں آج یہ بات برملا کہتا ہوں پاکستانی قوم نے ڈاکٹر اے کیو خان کی قدر نہیں کی زندہ قومیں اپنے قومی ہیروز کی قدر کرتی ہیں نواز شریف حکومت نے اسلام آباد ایکسپریس وے پر نصب چاغی پہاڑ کے ماڈل کو سڑک کی کشادگی کی آڑ میں فاطمہ جناح پارک میں ٹھکانے لگا دیا ہے 28 مئی 2017ء کو جہاں وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ترانے بجائے جا رہے ہیں وہاں ڈاکٹر اے کیو خان کے بھی گیت گائے جانے چاہئیں یوم تکبیر پر پورا’’ ہل سائیڈ ‘‘روڈ پھولوں سے سجا دینا چاہیے تھا اس شاہراہ پر ایٹمی قوت کا خالق ’’حفاظتی ‘‘ تحویل میں ہے اسے اپنی مرضی کی زندگی گذارنے کی اجازت نہیں ۔آئیے ہم یوم تکبیر کے موقع پر ڈاکٹر اے کیو خان کو تنہائی کا احساس نہ ہونے دیں پورے پاکستان کے عوام کو ڈاکٹر اے کیو خان کے گیت گاتے ہوئے ’’ہل سائیڈ‘‘روڈ کا رخ کرنا چاہیے تھا جہاں ڈاکٹر اے کیو خان ’’حفاظتی تحویل ‘‘ میں ہیں ڈاکٹر اے کیو خان کی متاع حیات وہ میڈل ہیں جو ان کے ڈرائنگ روم میں سجے ہوئے ہیں یا جو کتب ان کے کارناموں کا احاطہ کرتی ہیں۔ ڈاکٹر خان کے دوست مارگلہ کی پہاڑیوں میں ڈیرے ڈالے بندر ہیں جو ہر روز ڈاکٹر اے کیو خان کو بلا روک ٹوک سلام کرنے آجاتے ہیں شنید ہے ’’یوم تکبیر‘‘ پربھی پہاڑوں سے باجماعت اتر کر بندروں نے پاکستان
کے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر خان کو سلامی پیش کی ڈاکٹر اے کیو خان نے ہر روز ان مہمانوں کی سواگت کا اہتما م کر رکھا ہوتا ہے ڈاکٹر خان کسی دوست کے گھر یا تقریب میں جا نہیں سکتے دوست ان کے لئے دعوت کا اہتمام کر کے ان کی رہائش گا ہ پر لے آتے ہیں کوئی وزیر یا کوئی بڑا لیڈر ان سے ملنے نہیں جاتا بلکہ ان سے ملنے سے گریز کرتا ہے شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے لوگ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق کی ’’قربت‘‘ کی وجہ سے امریکہ سرکار کو ’’ناراض‘‘ نہیں کرنا چاہتا۔ بھارت ایک بڑا ملک ہے اس نے اپنے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالکلام کو مسند صدارت پر بٹھایا ہم نے ڈاکٹر خان کو ’’زندان‘‘ میں ڈال دیا کچھ لوگوں کے جرائم پر پردہ ڈالنے لئے ڈاکٹر خان کو پوری دنیا کے سامنے ’’ مجرم‘‘ کے طور پیش کیا گیا میاں نواز شریف کو دنیا کی کوئی طاقت ایٹمی دھماکے کرنے کے کریڈٹ سے محروم نہیں کر سکتی انہیں ڈاکٹر اے کیو خان کی عزت اور وقار کی بحالی کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں اور ان کے تمام اعزازات بحال کرکے ان کو207ہل سائیڈ روڈ کے ’’قید خانہ ‘‘ سے نجات ملنی چاہیے۔