بجٹ حکومتی اخراخات‘ آمدن کا تخمینہ لگانے کی ناکام کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں

29 مئی 2017

فیصل آباد (احمد جمال نظامی سے) موجودہ حکومت کا پانچواں وفاقی بجٹ حقیقی معنوں میں حکومتی اخراجات اور آمدن کا تخمینہ لگانے کی ناکام کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں البتہ صحت‘ تعلیم اور توانائی کے شعبوں سے کہیں زیادہ ترقیاتی پروگرام کیلئے بھاری بھرکم رقم کا مختص کرنا اور اس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 40فیصد زائد رقم رکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت ملکی معیشت اور عام آدمی کی حالت زار سنوارنے کی بجائے محض آئندہ انتخابات پر اپنی نظریں مرکوز کئے ہوئے ہے ‘ جس سے غیر سمت سرمایہ کاری اور غیر حقیقی مصنوعی اقدامات سے مہنگائی اور بیروزگاری کیساتھ غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا جو پہلے ہی نوے کی دہائی کے بعد ان دنوں کئی گنا اضافے کیساتھ سامنے آ چکی ہے‘ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار تو دعوی کر رہے ہیں کہ کوئی چیز مہنگی نہیں کی نہ عام آدمی پر نیا ٹیکس لگایا قیمتیں بڑھانے والوں کیخلاف کارروائی کرینگے لیکن حکومت نے بجٹ میں 120ارب کے نئے ٹیکس لگائے ‘ جس کا شائد اسحاق ڈار کو اسی طرح علم نہیں جس طرح گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کے دوران ہال میں بجلی غائب ہونے پر انہیں علم نہیں تھا کہ گرمی کس شے کا نام ہے ‘ موجودہ بجٹ کے بارے میں حکومت ‘ حکومتی مداسرائی‘ حکومتی مفاد پرست ٹولہ اور حکومتی وزراء جو چاہے کہیں ‘ یہ بجٹ عوام ‘ تنخواہ دار طبقے‘ مزدور ‘ کسان‘ غریب آدمی اور سفید پوش طبقے کیلئے لائسنس ٹو کل ہے ‘ اس بجٹ میں معیشت کے تمام حقیقی زاویے اور اصول نظر انداز کر دیے گئے ، کمال حیرت ہے کہ حکومت جی ڈی پی وغیرہ کی ترقی کے دعووں کیلئے انحصار غیر ملکی جریدوں کی رپورٹس پر لے رہی ہے یا پھر ان تنظیموں کی نام نہاد سروے رپورٹس کا تذکرہ کیا گیا جن کی موجودگی پر ان رپورٹس سے پہلے کسی کو علم نہیں ‘ ہمارا موجودہ بجٹ جس سے تاریخی اور متوازن بجٹ قرار دیا جا رہا ہے اس میں صرف صحت ‘ تعلیم اور توانائی کے شعبوں کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا ‘ فوجیوں کی تنخواہ میں اضافے کے علاوہ 10فیصد الائونس کا اعلان بظاہر خوش آئند ہے بہت سارے حلقے اسے بھی حکومت کا ایک انتخابی حربہ قرار دے رہے ہیں ‘ وفاقی بجٹ میں حکومت نے اپنے طور پر سی پیک سے جڑے پراجیکٹ کیلئے 180ارب اور گوادر کی ترقی کیلئے 31منصوبوں کیلئے فنڈز رکھے ‘ لیکن افسوس اور حیرت کا مقام ہے گوادر بندر گاہ اور سی پیک کے تاریخی فوائد و ثمرات کے حامل منصوبوں کو بجٹ میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ‘ اس کا عام اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ گوادر بندر گاہ اور سی پیک کے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس کی تاریخی کامیابی کے بعد اس وقت تک تین براعظموں تک اپنے فوائد پہنچانے کا حامل منصوبہ جات کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں لیکن حکومتی بجٹ کسی بھی لحاظ سے صنعت ‘ تجارت اور زراعت کے علاوہ برآمدات کو سپورٹ نہیں کرتا اور اسی طرح بجٹ کے تمام جز گوادر بندر گاہ اور سی پیک منصوبوں کو مد نظر رکھ کر مرتب ہی نہیں کئے گئے جس سے یقینی طور پر اندرون ملک اور غیر ملکی سرمایہ کار جو گوادر بندر گاہ اور سی پیک منصوبے کے تناظر میں وفاقی بجٹ پر نظریں مرکوز کئے بیٹھیں تھے ان کو بڑی حد تک مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن چین اور پاک فوج ہر لحاظ میں گوادر بندر گاہ اور سی پیک کو تاریخی کامیابی سے ہمکنار کر کے رہیں گے ‘ مقام حیرت ہے کہ بجٹ سے پہلے پارلیمنٹ کے باہر کسانوں کے شدید احتجاج پر پولیس نے ان پر شدید تشدد کیا لیکن اس کے باوجود کسانوں ریلیف فراہم نہیں کیا گیا ‘ وزیر خزانہ فرماتے ہیں کہ پانچ سال کا میکرو اکنامک روڈ میپ تجویز کیا ‘ صوبائی حکومتوں کو کہیں گے کہ مہنگائی کو کنٹرول کریں ‘ الیکشن سے قبل میثاق معیشت ضروری ہے ‘ میثاق جمہوریت کے بعد پیپلز پارٹی ‘ مسلم لیگ (ن) اور تمام روایتی سیاسی جماعتوں نے جمہوری استحکام کے نام پر گٹھ جوڑ کر رکھا ہے ‘ اسی لئے پیپلز پارٹی کی حکومت نے پانچ سال مکمل کئے اور پانچ بجٹ پیش کئے یہ الگ بات ہے کہ ان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی عدالت عظمی سے نا اہل ہونے کے بعد پانچ متواتر بجٹ پیش نہیں کروا سکے تھے اور نہ ہی ان کا وزیر خزانہ مسلسل پانچ سال بر قرار رہ سکا تھا ‘ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے وفاق میں مخلوط حکومت قائم کی تھی جس کے تحت اسحاق ڈار اس دور میں بھی وزیر خزانہ بنائے گئے لیکن مسلم لیگ (ن) جلد ہی ججز بحالی کیلئے تحریک شروع کر تے ہوئے پیپلز پارٹی کی وفاقی کابینہ سے باہر آ گئی تھی لہذا اسحاق ڈار موجودہ حکومت کے مسلسل پانچ سال سے وزیر خزانہ ہیں اور وہ پانچواں وفاقی بجٹ پیش کر چکے ہیں ‘ لیکن ان کے ایک بجٹ کو عوامی ‘ سیاسی‘ سماجی ‘ تجارتی‘ کاروباری‘ صنعتی اور تمام معاشی و اقتصادی حلقوں کی طرف سے سراہا نہیں گیا ‘ وہ شائد اب میثاق معیشت کے نام پر تمام سیاسی جماعتوں کا گٹھ جوڑ چاہتے ہیں تاکہ عوام کی چیخیں بھی نکلیں ‘تو بھی کوئی سیاسی جماعت ’’جمہوری کے استحکام ‘‘ کیلئے میثاق جمہوریت کے تحت دشنام طرازی نہ کرے ‘ موجودہ بجٹ پر بھی غریب ‘ سفید پوش ‘مزدور اور تنخواہ دار طبقے کا شدید احتجاج جاری ہے ‘ مہنگائی کو کنٹرول میں کرنا گاڑی کے سٹیرنگ کو کنٹرول کرنے کی طرح نہیں کہ صوبائی حکومتوں کو کہا جائے گا اور وہ اس پر قابو پا لیں گے ‘ مہنگائی میں اضافہ حکومتی پالیسیوں اور بجٹ کے اثرات سے ہوتا ہے ‘اس کیلئے بجٹ سے قبل ذمہ داران کو حقیقت کا تعین کرتے ہوئے اسے تسلیم کرنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا اور اب تک تلخ حقائق کو تسلیم نہیں کیا جا رہا جس کے نتیجے میں یہ قیاس کرنا بے جا نہ ہو گا کہ آئندہ مہنگائی ‘ بیروز گاری اور غربت میں مزید اضافہ ہو گا جو بجٹ میں حقیقی ثمرات میں سے ہو گا ‘ پہلے ہی خطے غربت کی لکیر تلے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق ساڑھے پانچ کروڑ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے ‘ آئندہ ’’ بہترین بجٹ ‘‘ اس شرح میں مزید اضافہ کرے گا ‘لیکن اس اضافے کو اب کی طرح تب بھی کوئی تسلیم کرنے والا نہیں ہو گا ‘ موجودہ بجٹ عالمی مالیاتی اداروں کا ہی اکنامک کروز میزائل لگتا ہے ۔