کندھ کوٹ: 12سالہ لڑکی سے ریپ کرنے والے ملزموں کو18 لاکھ جرمانہ معاملہ حل کرا دیا: وڈیرے کا دعویٰ

29 مئی 2017

کندھ کوٹ (اے این این) سندھ کے سینئر سیاست دان اور بااثر وڈیرہ سردار تاج محمد ڈومکی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 12 سالہ خادمہ کے گینگ ریپ کے مسئلے کو حل کراتے ہوئے اصل ملزمان پر 18 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔ کندھ کوٹ میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار تاج محمد ڈومکی نے کہا کہ لڑکی کے والد کی جانب سے ایف آئی آر میں کیے گئے دعوے کے مطابق لڑکی کا گینگ ریپ نہیں ہوا تھا لیکن انفرادی طور پر ریپ کیا گیا تھا۔ تاج محمد ڈومکی نے کہاکہ اگر وہ اس معاملے پر مداخلت نہ کرتے تو لڑکی عدالتوں سے کبھی بھی انصاف حاصل نہیں کرسکتی تھی۔ قبل ازیں ایف آئی آر میں راحیب سورہیانی اور اس کے دوبیٹوں اور بھتیجوں سمیت سات افراد نامزد تھے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے 11 مئی کو اس واقعے کا ازخود نوٹس لیا تھا جبکہ واقعہ کراچی میں ملیر کینٹ کے علاقے میں پیش آیا تھا۔ کندھ کوٹ پولیس کے افسر محمد موسی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سات میں تین ملزمان ثاقب، شرجیل اور اپنو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس سردار تاج محمد ڈومکی کی جانب سے دعوی کیے گئے جرگے سے بے خبر ہے۔ خیال رہے کہ کندھ کوٹ کی ہی 12 سالہ لڑکی کراچی میں واقع ان کے گھر میں ملازمہ تھی جہاں اطلاعات کے مطابق انھیں نشہ آور چیز پلا کر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔