رمضان بازاروں میں سبسڈی کیلئے 92 کروڑ 80 لاکھ جاری، بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز نہیں دیئے گئے

29 مئی 2017
رمضان بازاروں میں سبسڈی کیلئے 92 کروڑ 80 لاکھ جاری، بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز نہیں دیئے گئے

لاہور ( معین اظہر سے) پنجاب میں رمضان بازاروں میں اشیاء خوردونوش کی سبسڈی کیلئے 92 کروڑ 80 لاکھ روپے جاری کر دئیے گئے ہیں جبکہ یہ رقم تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے اکائونٹ میں جاری کی گئی ہے تاہم بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کو فنڈز جاری نہیں کئے گئے اور ارکان صوبائی اسمبلی بیورو کریسی کے ساتھ اپنے علاقوں میں قائم رمضان بازاروں کے دورے کریں گے، حکومت پنجاب نے 9 ارب روپے کے رمضان پیکج کا اعلان کیا ہوا ہے لیکن رمضان المبارک کے شروع ہو تے ہی ابھی صرف اشیاء کی سبسڈی کیلئے 92 کروڑ روپے جاری کئے ہیں تاہم رمضان بازاروں کے علاوہ اشیاء کی قیمتیں کنٹرول کرنے کیلئے شروع کئے گئے اقدامات پہلے رمضان کے روز کمزور نظر آئے اور دکاندار منہ مانگی قیمت وصول کرتے رہے ۔ تاہم بعض رمضان بازاروں سے بھی بعض جگہوں سے غیر معیاری اشیاء فروخت ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اضلاع کو اشیاء کی سبسڈی کیلئے جو رقم جاری کی گئی ہے۔ اسکے مطابق راولپنڈی کو 2 کروڑ 30 لاکھ، فیصل آبادکو 8 کروڑ ، ملتان کو 20 کروڑ ، 80 لاکھ، گوجرنوالہ کو 7 کروڑ ، سرگودھا کو 1 کروڑ 80 لاکھ، ساہوال کو ایک کروڑ 60 لاکھ، ڈی جی خان کو ایک کروڑ 30 لاکھ، بہاولپور کو 76 لاکھ ، شیخوپورہ کو 5 کروڑ ، قصور کو 6 کروڑ ، ننکانہ صاحب کو 9 کروڑ 50 لاکھ، اٹک کوایک کروڑ 20 لاکھ، جہلم کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چکوال کو ایک کروڑ 70 لاکھ، ٹوبہ ٹیک سنگ کو ایک کروڑ ، جھنگ کو 1 کروڑ 50 لاکھ ، چنیوٹ کو ایک کروڑ 60 لاکھ، لودھراں کو 50 لاکھ، وہاڑی کو 62 لاکھ، گجرات کو 4 کروڑ ، لیہ کو ایک کروڑ 70 لاکھ ، بھکر کو ایک کروڑ 80 لاکھ، راجن پور کوایک کروڑ 10 لاکھ، بہاولنگر کو ایک کروڑ 30 لاکھ، رحیم یار خان کو 2 کروڑ 70 لاکھ ، مظفر گڑھ کو 1 کروڑ 50 لاکھ، میانوالی کو ایک کروڑ ، خوشاب کو 80 لاکھ، اوکاڑہ کوایک کروڑ 30 لاکھ، پاکپتن کو 80 لاکھ، سیالکوٹ کو ایک کروڑ 80 لاکھ، ناروال کو 45 لاکھ ، منڈی بہاوالدین کو 2 کروڑ ، حافظ آباد کو 65 لاکھ، لاہور کو 3 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں تاہم بعض ذرائع نے کہا ہے کہ یہ پہلی قسط جاری کی گئی ہے مزید رقم چند روز میں جاری کر دی جائیگی ۔ذرائع کے مطابق بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کو رقم نہیں دی گئی ہے یہ رقم اراکین صوبائی اسمبلی کی سفارش پر ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے خرچ کی جارہی ہے محکمہ خزانہ کے ذرائع نے کہا کہ ڈی سی انتظامات کررہے ہیں ان کو کہا گیا ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ وہ پلاننگ کر رہے ہیں اسلئے رقم ڈی سی کے اکائونٹ میں جاری کی گئی ہے، اس میں بلدیاتی نمائندے انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، ان کے مطابق آٹے کی سبسڈی کیلئے رقم محکمہ خوراک کو جاری کی جارہی ہے ۔