1363 ارب روپے سود والا بجٹ تاریخی نہیں قابل مذمت ہے: عوامی تحریک

29 مئی 2017

لاہور (خصوصی نامہ نگار) عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی قائم کی گئی بجٹ کمیٹی نے وفاقی حکومت کے 2017-18 کے بجٹ پر وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے کہا کہ 1363 ارب روپے سود کی ادائیگی والا بجٹ تاریخی نہیںقابل مذمت اور قابل گرفت ہے،قرضوں کی لعنت سے نجات حاصل کرنے کی بجائے حکومت نے مزید 800 ارب قرضہ لینے کا اعلان کر دیا،عوام کے خون پسینے کی کمائی کا جو پیسہ تعلیم، صحت، انصاف اور تحفظ کی فراہمی پر خرچ ہونا چاہئے تھا وہ پیسہ سود کی نذر ہو رہا ہے۔ قوم دعا گو ہے شریف برادران کا آخری بجٹ ہمیشہ کیلئے آخری ثابت ہو ۔وائٹ پیپر بجٹ کمیٹی کے سربراہ سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور اور ممبران بشارت جسپال، بریگیڈئر (ر) محمد مشتاق، فیاض وڑائچ، ڈاکٹر ایس ایم ضمیر، نور اللہ صدیقی کی طرف سے گزشتہ روز خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا کو جاری کیا گیا۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ قرضوں کا جی ڈی پی کی متعینہ حد 60 فیصد سے بڑھ کر 69 فیصد ہونا معیشت کی کمزوری اور ملک و قوم کے مفاد کے خلاف ہے، بجلی، یوٹیلٹی سٹورزاور نیشنل فوڈ سکیورٹی ریسرچ کیلئے رکھی گئی سبسڈی کو کم کرنے پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذکورہ شعبہ جات کی سبسڈی کم کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ سال بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی،غریب سستی اشیائے خورونوش کو ترسے گا اور ملاوٹ سے پاک غذا کا حصول خواب ہوگا۔ یوٹیلٹی سٹوروں کیلئے پچھلے سال سبسڈی 7 ارب تھی جسے 43فیصد کم کر کے 4 ارب کیا گیا جبکہ حالیہ رمضان پیکیج میں بھی 25 فیصد کمی کر کے اسے ڈیڑھ ارب روپے تک محدود کر دیا گیا اس کے علاوہ وہ کاشتکار جو سرکاری امدادی قیمت پر پاسکو کو گندم فروخت کرتے تھے اب ان میں سے 71 فیصدکسان سرکاری امدادی قیمت پر گندم فروخت نہیں کر سکیں گے ، وائٹ پیپر میں بتایا گیا کہ حکومت نے 4سالوں میں 6 ہزار 5 سو ارب سے زائد قرضے حاصل کیے اور اب آئندہ مالی سال میں مزید 800ارب کے قرضے لینے کا اعلان کیا گیا ہے، وائٹ پیپر کے مطابق حکومت نے پوری دنیا سے قرضوں کی بھیک ملنے کی امید پر ’’تاریخی ‘‘بجٹ کی بڑھک ماری،وائٹ پیپر میں بتایا گیا کہ حکومت نے چین سے 168ارب، فرانس سے 17ارب، کوریا سے 5ارب، ترکی سے 80 ملین،امریکہ سے 12ارب، جاپان سے 5 ارب، سکوک بانڈ کی فروخت سے 105ارب، اسلامک ڈویلپمنٹ بنک سے 165 ارب، ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے 128ارب اور بقیہ رقم آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے بطور قرض لینے کی امید باندھ رکھی ہے، بھاری قرضوں اور سود کی ادائیگی کے باعث آئندہ نسلیں کئی عشروں تک سودی شکنجے میں جکڑی رہیں گی۔