سی پیک شاہرات، موٹر وے پولیس کا اضافی نفری، 11 ارب سے زائد کا مطالبہ

29 مئی 2017

اسلام آباد(مسعودماجدسید؍خبر نگار)موٹر وے پولیس نے سی پیک کے تحت شاہرات کا انتظام سنبھالنے کے لئے مزید نفری کے ساتھ وفاقی حکومت سے 11.822ارب روپے دینے کا مطالبہ بھی کردیا۔نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس کا موقف ہے کہ اس فورس کا قیام 1997میں ہوا اسے ابتداًء صرف ایم ٹو اسلام آباد لاہور 365کلومیٹر شاہراہ کی ٹریفک کو کنٹرول کر نے کیلئے قائم کیا گیا اب اس فورس کو مستقبل میں ایم فور، لیاری ایکسپریس وے، اور کوئٹہ SARANAMاین 25کی ایک اور بیٹ بھی دی جارہی ہے ۔ اس وقت موٹروے اینڈ نیشنل ہائی ویز پولیس محدود وسائل کے باوجود اپنی بہترین خدمات اور کارکردگی کے باعث ملک کی اہم موٹر ویز اور نیشنل ہائی ویز پر ٹریفک نظام کو بہتر بنانے میں مصروف عمل ہے۔صرف 365کلومیٹر ایم ٹو پر ٹریفک کو باقاعدہ بنانے کے بعد اس کے دائرہ کار میں مزید اضافہ کردیا گیا ، ملک کے طول و عرض کی کل 680کلومیٹر کی موٹر ویز اور 2182کلومیٹر کی نیشنل ہائی ویز کی سڑکیں بھی اسے دیدی گئی ہیں ۔ موٹر وے پولیس نے اضافی شاہرات پر اضافی ذمہ داریاں لینے سے قبل وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں مزید انسانی وسائل، گاڑیاں، جدید آلات،اراضی، دفاتر، عمارات اور دوسرے لاجسٹک وسائل دئیے جائیں ان کیلئے 11.822ارب روپے کی رقم بھی ڈیمانڈ کی ہے اور مزید مطالبہ کیا ہے کہ پہلے موٹر وے کے پاس 2862کلومیٹر کی شاہرات تھیں جن پر ہماری پٹرولنگ اور کنٹرول جاری تھا لیکن اب سی پیک منصوبوں کی وجہ سے اسکے دائرہ اختیار میں 4017کلومیٹر کی مزید شاہرات دی جارہی ہیںجن کو پورا کرنے کے لئے وسائل اور نفری دونوں درکار ہیں اسلئے 7143یونیفارم اور 1821بغیر یونیفارم سمیت کل 8964اضافی نفری و سٹاف بھی بھرتی کیاجاے ٔ گا۔اس سلسلے میں موٹر وے پولیس نے بیشتر اوقات اپنے مطالبات وزارت مواصلات کو پیش کئے ہیں لیکن ان پر تاحال کو ئی شنوائی نہیں ہو ئی ہے۔لیکن اب سی پیک منصوبے اگلے دوسالوں میں مکمل ہو نے ہیں جن سے ملک بھر کی تمام شاہرات پر ٹریفک کا دباؤ بھی بڑھے گا اور اسلئے تربیت موٹر وے اینڈ نیشنل ہائی وے فورس و جدید آلات و وسائل بھی وقت کی اہم ضرورت ہوں گے۔