خودکش دھماکہ اور ہائر ایجوکیشن کمشن وفد کا دورہ لندن

29 مئی 2017

ماہ صیام کے آغاز سے صرف 4 روز قبل مانچسٹر ارینا میں ہونے والے میوزیکل کانسرٹ میں کئے خودکش حملے میں 22 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 12 بچوں کی عمریں 16 برس سے کم تھیں جبکہ اس خودکش حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔
اس حملے کی شناخت اور وجوہات معلوم کرنے کے لئے سکاٹ لینڈ یارڈ اور دیگر برطانوی سکیورٹی ایجنسیاں مخصوص حکمت عملی کے تحت اپنا تحقیقاتی عمل تاہنوز جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم مشتبہ خودکش حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے۔ خودکش حملہ آور 22 سالہ سلیمان مجیدی مانچسٹر میں ہی پیدا ہوا اور یہاں کی سیلفرڈ یونیورسٹی میں ہی وہ زیرتعلیم رہا۔ اس کے والدین کا تعلق لیبیا سے ہے جو کرنل قذافی کے دور حکومت کے خلاف تھے چنانچہ ان حالات میں وہ لیبیا سے بھاگ کر برطانیہ چلے آئے اور پھر یہاں پناہ حاصل کر لی....؟
مانچسٹر میں ہونے والے اس حالیہ خودکش حملہ سے پہلے جولائی 2005ءمیں لندن میں Under Ground Train پر بھی ایک خودکش حملہ ہو چکا ہے جس میں 4 خودکش حملہ آوروں نے ایک منصوبہ بندی کے تحت اپنے آپ کو اڑا لیا تھا۔ اس خودکش حملے میں 7 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ خودکش حملہ آور صدیق خان‘ شہزاد تنویر اور حبیب احسن کے والدین پاکستانی تھے۔
لندن میں ہونے والے اس دہشت گرد حملے کے بعد پھر ایک بڑا حملہ جون 2007ءمیں سکاٹ لینڈ کے گلاسگو انٹرنیشنل ائرپورٹ پر کیا گیا جس میں دو انتہائی تعلیم یافتہ خودکش حملہ آوروں ڈاکٹر بلال اور انجینئر خالد احمد نے اپنی گاڑی جو بارود سے بھری تھی۔ ائرپورٹ کے اندر لے جانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے اور یوں ایک حملہ آور اپنی ہی گاڑی میں لگی آگ سے ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرے حملہ آور کو زندہ پکڑ لیا گیا جو آج بھی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔
حالیہ مانچسٹر حملے نے برطانوی حکومت کو ہی ہلا کر نہیں رکھ دیا مسلمانوں کو ایک اضطرابی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔ برطانیہ کی تمام مسلم سماجی‘ مذہبی‘ سیاسی تنظیموں نے اس افسوسناک خودکش حملے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے ایسے ان تمام مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے جن کا تعلق کسی بھی حوالے سے دہشت گردی سے ہو۔
بعض سکیورٹی حلقے اس خودکش حملے کی کڑیاں کسی اور Network سے بھی ملا رہے ہیں اور اس سلسلہ میں ابھی مزید گرفتاریوں کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔ برطانوی حلقوں میں سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ سلیمان عبیدی نے دہشت گردی کا ارتکاب خود کیا یا اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا....“ تحقیقاتی اداروں کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق اس بات کو یقینی نہیں کہا جا سکتا کہ سلیمان مجیدی نے خودکش حملہ تنہا کیا یا حملے کی منصوبہ بندی کے لئے اس نے کسی تنظیم یا آرگنائزیشن سے مدد حاصل کی؟ ان حالات میں برطانوی سکیورٹی کو فوری طور پر Critical لیول پر لے جایا گیا ہے۔ یہاں اپنے قارئین کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کریٹیکل لیول ہوتا کیا ہے؟ اور اس لیول کا تعین کون کرتا ہے۔
سکیورٹی مفہوم میں انتہائی نازک‘ ایسے حالات جس میں قومی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہو اسے کریٹیکل کا درجہ دیا جاتا ہے۔
جس کا فیصلہ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ اور مشترکہ دہشت گردی اسکواڈ کے ماہرین کرتے ہیں۔ تحقیقاتی عمل چونکہ جاری ہے اس لئے فی الحال یہ کہنا کہ برطانیہ میں دہشت گردی کا جال بچھانے والے کون ہیں قبل از وقت ہو گا۔ تاہم سکیورٹی حوالے سے برطانوی وزیر داخلہ Embeard نے برطانیہ میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لئے مزید سکیورٹی بڑھانے اور سکیورٹی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے بعض اقدامات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی خاطر فوج کے 3 ہزار سے زائد این سی اوز اور افسران برطانوی شاہرا¶ں پر تعینات کئے جا رہے ہیں یہ اقدام وزیراعظم May کے اس انتباہ پر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ مانچسٹر ایسے خودکش حملے کے بعد ایسے حملے برطانیہ کے کہیں بھی دوسرے شہروں میں ہو سکتے ہیں چنانچہ اس خطرے کا درجہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ اہم عمارتوں کی نگرانی کے لئے ممکنہ طور پر فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قومی سلامتی کے لئے کئے گئے اس فیصلے کے تحت وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ 10 ڈا¶ننگ سٹریٹ پر اب فوج کا پہرہ ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے خودکش حملے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اسے درندگی اور ایک غیر انسانی فعل قرار دیا ہے۔
پاکستان کے ہائی کمشنر سید ابن عباس نے لندن میں سفارتخانہ کے سبزہ زار پر پاکستان سے خصوصی طور پر اعلیٰ تربیتی پروگرام کے تحت آئے اعلیٰ سرکاری وفد‘ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک سے آئے ماہرین تعلیم اور
Higher Education Commision
کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد کے اعزاز میں دیئے عصرانہ کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مانچسٹر کے دہشت گردی کے واقعہ پر گہرے غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے بچوں اور ان کے عزیزوں کے لئے ایک منٹ کی رسم خاموشی ادا کی۔
سید ابن عباس نے کہا کہ دہشت گردی کے شکار ہونے والے بچوں‘ ان کے والدین اور عزیز و اقارب کا درد ہم بخوبی محسوس کر سکتے ہیں۔ اس کڑے وقت میں ہم برطانوی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی اور حکومت پاکستان اپنے برطانوی دوستوں کے اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے برطانیہ اور پاکستان حالت جنگ میں ہیں۔ اسلئے مضبوط دوستانہ تعلقات اور دوطرفہ حکمت عملی کی بنیاد پر یہ جنگ ہمیں جیتنا ہے۔ ہائی کمشنر نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کرتے ہوئے مانچسٹر پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ خدمات اور ہنگامی طور پر فوری امداد بہم پہنچانے والے اداروں کی کارکردگی کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ قبل ازیں ہائر ایجوکیشن کمشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے بھی دہشت گردی کے اس واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی فعل قرار دیا۔ برطانیہ اور پاکستان کے مابین اعلیٰ تعلیمی وفود کے تبادلے اور جدید تربیتی کورسز کے حوالہ سے برٹش کونسل اسلام آباد کی سربراہ محترمہ نشاط نے بھی خیالات کا اظہار کیا۔ عصرانہ میں دیگر غیر ملکی مہمانوں کے علاوہ سابق برطانوی وزیر تعلیم و وزیر داخلہ Charles Clorel نے بھی شرکت کی۔