رمضان ،قرآن اور تربیت انسان

29 مئی 2017
رمضان ،قرآن اور تربیت انسان

رمضان المبارک اپنی ساری برکتوں‘ رحمتوں، فضیلتوں اور مغفرتوں کیساتھ شروع ہوچکا ہے۔اللہ تعالی کے حضور دعا ہے کہ ساری امتِ مسلمہ کو اس ماہِ مقدس کا حق ادا کرنیکی توفیق دے۔اللہ پاک ہمیں اس مہینے میں ہر طرح کی برائی‘منافقت‘لالچ اور گمراہی سے بچنے کی توفیق دے۔ رمضان کی فضیلتیں اللہ پاک نے بیشمار بیان کی ہیں۔اتنی کہ اگر ہم سمجھ لیں تو پورا مہینہ ‘ہر گھڑی‘ہر وقت خود کو عبادت میں ہی مصروف رکھیں۔اللہ تعالی کا ارشاد ِ عالی شان ہے کہ اس مہینہ میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔اگر موجودہ دور کے حساب سے غور کریں تو ایک عام انسا ن کی اوسط عمر اتنی ہی بنتی ہے جتنا ثواب اس مقدس مہینے کی ایک رات کا بتادیا گیا۔ہزار مہینوں کے برابر ثواب کا سیدھا مطلب ہے کہ 83سال کی عبادت کا ثواب۔میرا بڑا پختہ یقین ہے کہ اللہ پاک نے اپنے گناہ گار بندوں کی بخشش کے لیے رمضان کا مہینہ بنایا ہے۔ اس میں نفل نماز کا ثواب فرض نماز کے برابر ہو جاتا ہے۔اور فرائض کا ثواب ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک جہاں نزولِ قرآن اور گناوں سے بخشش کا مہینہ ہے۔ وہیں یہ مہینہ اسلامی تہذیب کا مظہر ‘اخوت و ہمدردی‘ ایثار‘ قربانی‘ جود و کرم، صبر و تحمل اور معاشرے کی اصلاح کا بھی پورا پورا درس دیتا ہے۔ایک مسلمان جب صبح سحری کے وقت کھانا کھا کے نماز پڑھتا ہے۔ قرآن کی تلاوت کو اپنا معمول بنا لیتا ہے تو وہ لازمی طور پر سارا دن افطاری تک نہ صرف کھانے پینے سے بچتا ہے بلکہ وہ ہر قسم کے گناہوں سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔قرآن مجید میں روزے کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ تم تقوی اختیار کرو۔تقوی بندے کو رب کے قریب کرتا ہے۔ انسان کے اندر انسانیت کے جذبے کو بیدار کرتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے گناہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔نیکی کرنا بہت آساں لگنے لگتا ہے۔جب بندہ ہر وقت خود کو عبادت میں مصروف رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔اسے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی سے معمولی نیکی کا ثواب بھی اللہ پاک اس مہینے میں بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔تو بندہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنا زیادہ وقت اللہ کی یاد میں ہی گزارے۔ وہ اللہ کے بندوں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ رمضان کو تربیت کا مہینہ اسی لیے کہا جاتا ہے۔کہ اس میں انسان کے اندر نیکی کرنے کا جذبہ پیدا کیاجاتا ہے۔گناہوں سے بچنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔قرآن سے رشتہ مضبوط کرنیکا درس ملتا ہے۔صبح و شام مساجد میں درسِ قرآن کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔کسی دوسرے مسلمان کا روزہ افطار کرانے کو بہت زیادہ اجر وثواب کا مستحق بیاں کیا گیا ہے۔یہ سارے کام یہ ساری تیاریاں جہاں بندے اور اللہ کے درمیاں تعلق کو مضبوط کرتی ہیں۔ وہیں ایک انسان کا یہ عمل معاشرے کی فلاح کے کام بھی آتا ہے۔ زکوٰۃ‘ صدقہ اور دوسرے نیکی کے کاموں کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے۔ہر صاحبِ حیثیت بندہ زیادہ سے زیادہ مال و دولت غرباء میں تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جہاں گھروںمیں روزے داروں کے لیے اچھے پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ وہیں نادار اور غریبوں کے لیے رمضان میں سحری و افطاری کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ جو بندہ خود کو اپنے نفس کو برائی سے روک لیتا ہے اور پھر اپنے اہل و عیال کی بہترین تربیت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا حق دار ہوسکتا ہے۔اور ایسے لوگوں کو ہی اللہ پاک نیکی کے کام کرنے کی توفیق دیتا ہے۔یہی لوگ اصلاح ِ معاشرہ میں اپنا کردار اچھے انداذ میں ادا کرسکتے ہیں۔ایسے لوگوں کی زبان میں تاثیر پیدا ہوتی ہے۔جن کا ہر عمل خالصتاً اللہ کے لیے ہی ہوتا ہے۔اللہ ان کے کاموں میں آسانی پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔لوگوں کے دلوں میں ان کا احترام پیدا کرنے لگتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ رمضان صدقہ کا بھی مہینہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دودو چیزیں صدقہ کرتا ہے جنت کے فرشتے اسے آٹھوں دروازوں سے آواز دیںگے کہ تو ہمارے دروازے سے جنت میں داخل ہوجا۔ اللہ اللہ کیا شان ہے اس مبارک مہینے کی۔موسموں کی شدت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک انسان جب اللہ کے حکم کے آگے جھک جاتا ہے تو پھر اللہ بھی فرماتا ہے کہ بندے سن لے روزہ میرے لیے ہے اور اس کا اجر بھی میں ہی دوں گا۔انسان کی ساری عبادتیں اللہ کے لیے ہی ہوتی ہے۔مگر روزے کے بارے میں یہ حکم دے کہ اللہ پاک نے اس مقدس مہینے کی فضیلتوں اور برکتوں کا بہت خوبصورتی سے احساس دلایا ہے۔مشقت جتنی زیادہ ہو اجر بھی اسی حساب سے بڑھ جاتا ہے۔ سخت گرمیوں کے روزے رکھنا بہت مشکل کام ہے مگر ہمیں یقین رہنا چاہیے کہ ہمارا اللہ بڑا رحمن ہے وہ دراصل ہمارے لیے بخشش کا سامان پیدا کررہاہے۔ اسے ہماری بھوک پیاس سے کیا لینا دینا۔ بلکہ وہ اس مہینے میںہماری تھوڑی عبادت کو زیادہ سے زیادے اجر و ثواب میں تبدیل کردیتا ہے۔ وہ تو ہمارے اندر دوسروں کی بھو ک پیاس کا احساس پیدا کرناچاہتا ہے۔دوسروں کی تکلیفوں کا احساس کرانا اور انسانیت کا رشتہ مضبوط کرنا ہی دراصل روزے کے بنیاد ہے۔یہی نقطہ ہمیں سمجھنا ہے۔اللہ کرے ہم صیح معنوں میں رمضان گزار سکیں۔ جب رمضان کا ذکر آتا ہے تو قرآن کریم کا ذکر بھی ساتھ ہی آتا ہے بلکہ اللہ پاک ارشاد کرتا ہے کہ ہم نے قرآن جو ساری دنیا کے لیے باعث ہدایت ہے اسی مبارک مہینے میں نازل کیا ہے۔قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو خاموش رہا کرو اور توجہ سے سنا کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔آج اگر ہم قرآن پاک کو سمجھ کے پڑھنا شروع کردیں تو ممکن ہے ہم نہ صرف خود کو بہتر کر لیں۔اپنے مسلم بھائیوں سے اچھا سلوک کرنے لگیں بلکہ ساتھ ہی دنیا میںعزت سے جینے کا گُر بھی سیکھ لیں۔ساری اسلامی دنیا میں عبادتیں عروج پر ہیں۔صدقہ و خیرات بھی بہت زیادہ دیا جارہا ہے۔مگر بحیثیت مسلم قوم ہم کہاں کھڑے ہیں۔اس پر بھی ہمیں غور کرنا چاہیے۔اس کے لیے ہمیں قرآن کو سمجھ کے پڑھنا پڑے گا۔اس پر غور کرنا پڑے گا اور اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لانا ہوں گی۔رمضان اور قرآن ایک مسلمان کو معاشرے کا اچھا شہری بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خ