مسلمانوں کے خلاف پھیلتی منافرت

29 مئی 2017

یہ چشم کشا حقیقت سب پر عیاں ہو چکی ہے کہ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہونے جا رہی ہے۔ راقم نے 24اپریل کے کالم میں تحریر کیا تھا ”امریکہ اور یورپ میں مسلمانوں کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کرنے کے بعد اپنا اگلا ہدف مسلم دنیا کو قرار دیا تھا“۔ اس جامع حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے افغانستان، عراق، لیبیا، شام، مصر کو بری طرح برباد کرنے کے بعد امریکہ یورپ اور دیگر ممالک نے مسلم اقلیت کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ امریکہ سمیت یورپی ممالک پر نظر ڈالیں تو ہر سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر دکھائی دے رہی ہے۔ ہر جانب سے مسلم کش نعرے سنائی دے رہے ہیں۔ سول سوسائٹی کے رویے بھی نفرت کا شکار ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر امریکی اور یورپی سیاسی رہنما اسلام کو اپنے مستقبل کے لئے خطرے کا ڈھول بجا کر گروہی کامیابیاں حاصل کررہے ہیں۔ جیسا کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ، فرانس میں لی پین اور نیدرلینڈ میں قوم پرست وائلڈرز کی مقبولیت ثبوت ہیں۔فرانس میں لی پین مسلم دشمنی کے باعث دوسری بڑی سیاسی قوت بنیں جبکہ نیدرلینڈ میں وائلڈرزمسلم مخالف مہم کے باوجود قطعی کامیابی تو حاصل نہ کر سکے مگر مسلم کش تقاریر کے باعث وہ مقبول عوامی رہنما مانے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے بتایا کہ امریکی صدر دمشق پر مزید حملوں کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کے کانگریس کو خط لکھے گئے خط میںہے کہ بشارالاسد کو سزا دینے کےلئے مزید حملے کئے جائیں گے جس کے ردعمل کے طورپر ایرانی صدر حسن روحانی اور سوویت یونین کے صدر پیوٹن نے باہم ٹیلی فونک گفتگو میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس ارادے کا اظہار کیا کہ آئندہ امریکہ کی جانب سے ریڈ لائن کراس کرنے پر موثر جواب دیا جائے گا۔ امریکی انسٹی ٹیوٹ اور سوشل پالیسی اینڈ انڈر سٹینڈنگ کی جانب سے سروے کے مطابق امریکہ میں مقیم 60%مسلمان حکومت کی پالیسی اور معاشرے میں پھیلے رویوں کے باعث امریکہ چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔سروے کے مطابق ہر پانچواں مسلمان امریکہ چھوڑنے کی منصوبہ بندی میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ مسلمانوں کے مطابق ان کے ساتھ معاشرے میں مذہبی امتیازی سلوک زور پکڑ رہا ہے۔ مذکورہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی کامیابی کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت میں شدت آرہی ہے۔ انتہا پسند گروپوں سے مسلمانوں کو خدشات لاحق ہیں۔ نفرت ہر سطح پر دکھائی دیتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ خلائی شٹر کے ذریعے سفر کرنے والی مسلم خاتون بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکی۔ چھبیس سالہ منور حسین اگلے سال تجارتی خلائی جہاز میں شامل ہونے والے نوے ممالک کے ہزاروں حریفوں کو شکست دے کر ایئر سپیس میں جگہ حاصل کی لیکن وہ اپنے ساتھ برتنے والے امتیازی سلوک پر شاکی ہیں۔
فرانس کے مسلم عالم دین ہانی رمضان کو جبرا ملک بدر کر دیا۔اسلام کی تبلیغ و اشاعت ان کا جرم بتایا گیا۔ فرانسیسی حکام نے انہیں ایک کانفرنس میںجاتے ہوئے گرفتار کرکے سوئزرلینڈ کی سرحد کی جانب دھکیل دیا۔ یاد رہے کہ ہانی رمضان پر بطور معلم سکول میں تعلیم دینے پر پابندی عائد تھی۔ حکومت فرانس کے مطابق وہ سکول میں مسلم قومیت کا پرچار کر تے تھے اور انہی انتہا پسند نظریات کی بنا پر حکومت فرانس کےلئے مشکلات اور مملکت کو خطرات سے دو چار کر رہے تھے۔۔ اسی طرح امریکہ کی پہلی مسلم خاتون جج کی لاش دریائے ہڈسن سے برآمد ہوئی۔ شیلا عبدالسلام پہلی امریکی مسلمان جج ہونے کے ساتھ ساتھ کورٹ آف اپیل میں منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون جج بھی تھیں۔ شبہ کیا جاتا ہے کہ یہ بھی مذہبی منافرت کا شاخسانہ تھا۔ کہنے کو تو یورپ امریکہ میں مذہبی معاملات پر غیر جانبداری کے قوانین ہیں مگر کچھ عرصہ سے یورپین عدالتوں نے کاروباری اداروں کو چھوٹ دے رکھی ہے کہ اپنی صوابدید کے مطابق حجاب والی خواتین کو ملازمت پر رکھیں یا فارغ کر دیں۔ جس سے یورپین مسلمانوں میں بے چینی اور ہیجان کی کیفیت طاری ہے۔ اسی طرح امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر آکلینڈ میں رہنے والی خاتون صفا ءبخاری کا کہنا ہے کہ حجاب پہننے پر ہراساں کیا جاتا ہے مگر انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ میری بیٹی بڑی ہوگی تو اس وقت تک مسلم خواتین کے حجاب پہننے کو یہ معاشرہ قبول کر لے گا۔
یورپ اور امریکہ کے علاوہ یہ وبا ہر جانب دکھائی دیتی ہے۔بھارت جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی ہے۔جہاں مودی مسلم کش کارناموں کے باعث پہلے حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور اب ریاستی اسمبلیوں میں مسلم کش اقدامات کی بدولت قطعی کامیابی حاصل کی۔ایک اطلاع کے مطابق سیکولر بھارت کے سب سے بڑے جمہوری ایوان راجیہ سبھا نے اینمی پراپرٹی ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے پاکستان ہجرت کرنے والے ہزاروں مسلمانوں کی جائیدادیں جبرا ضبط کرلیں ہڑپ کرلیں۔اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے انسانیت کی تضحیک کی انتہا کردی۔
ایک کشمیری نوجوان کو جیب کے بمپر کے ساتھ باندھ کر پتھراﺅ کرنے والے ہجوم کی جانب لے گئے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوری دنیا میں دیکھی گئی۔اس شرمناک واقعہ کے مشتہر ہونے پر بھارتی پولیس نے فرضی کاروائی کرتے ہوئے ایک فوجی کے خلاف رپٹ لکھ کر لوگوں کے جذبات ٹھنڈا کرنے کی ناکام کوشش کی۔ ستم بالائے ستم ہمارا سب سے قریب ترین دوست اور ہمسایہ چین تک اس وبا سے محفوظ نہ رہا۔مسلمانوں کے اکثریتی صوبے کی حکومت نے خواتین کے برقعے اور سکاف پہننے پر پابندی عائد ہی نہ کی بلکہ مردوں کے لئے لمبی داڑھی رکھنے کو بھی جرم قرار دیا گیا۔
قارئین کرام۔ مذکورہ ہولناک واقعات مسلم دنیا کےلئے پریشانی کا باعث تو ہیں مگر ایک جانب مغرب کی انسان دوستی اور جمہوری دعوﺅں کی قلعی کھل کر ان کی نسلی و مذہبی عفریت عیاں ہوتی ہے تو دوسری جانب باہم انتشار و نفاق میں مبتلا مسلم دنیا کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ شاید یہ جبرناروامسلم امہ کو اتحاد و اتفاق کی شاہراہ پر گامزن کر سکے اور....
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کےلئے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر