بھٹو، نواز شریف، عمران خان اور حامد ناصر چٹھہ

29 مئی 2017
بھٹو، نواز شریف، عمران خان اور حامد ناصر چٹھہ

”نوائے وقت“ کے کالم نگار محی الدین بن احمد الدین نے پچھلے دنوں میاں نواز شریف اور عمران خان کی سیاست ڈسکس کرتے ہوئے تین سال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پھر ان تینوں سوالوں کا جواب بھی لکھا ہے۔ پہلا سوال یہ کہ عمران خان اقتدار کیوں نہیں حاصل کر سکے؟ دوسرا سوال یہ کہ میاں نواز شریف پہلے صوبائی وزیر پھر وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کیسے بن گئے؟ ان کا تیسرا سوال حامد ناصر چٹھہ کے بارے میں ہے کہ یہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کیوں نہیں بن گئے؟ ان کا تیسرا سوال حامد ناصر چٹھہ کے بارے میں ہے کہ یہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کیوں نہیں بن سکے؟ فاضل کالم نگار اپنے دوسرے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں۔ میاں محمد شریف نے اپنے بیٹے میاں نواز شریف کو اقتدار میں لانے کےلئے وہی طریقہ استعمال کیا جو بھٹو نے خود اپنے لئے استعمال کیا تھا۔ یہ طریقہ یوں تھا پہلے سکندر مرزا سے تعلق۔ اس کے جانے کے بعد جنرل ایوب خاں سے تعلق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کالم نگار میاں نواز شریف کیلئے اپنے دل میں بہت ادب، احترام کے جذبات رکھتے ہیں۔ اسی لئے انہیں میاں نواز شریف کا اپنے سیاسی سرپرست کیلئے لفظ ”ڈیڈی“ کا استعمال کچھ اچھا نہیں لگا۔ یہی سوچ کر وہ اپنے پہلے بیان کے برعکس یہ لکھنے پر مجبور ہو گئے کہ خیر! میاں صاحب کو اقتدار کیلئے خوشامد کی اتنی نچلی سطح پر نہیں اترنا پڑا۔ مال و دولت کے لشکارے اور عطیات سے مسلم لیگ کو مضبوط کر کے ہی کام بن گیا تھا۔ حالانکہ مالی، سیاسی اور تعلیمی لحاظ سے میاں فیملی کا بھٹو خاندان سے کوئی تقابل ہی نہیں۔ بھٹو نے پہلے ہاورڈ امریکہ سے ، آکسفورڈ برطانیہ سے تعلیم حاصل کی۔ بھٹو کی انیس بیس سال کی عمر میں لکھی ہوئی تحریریں پڑھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ عالمی دانشوروں میں بھٹو کی تقریریں شاندار تھیں ہی لیکن اتنے عالم فاضل اور جاگیردارانہ پس منظر رکھنے والے آدمی کو عام لوگوں کے دکھ درد سمجھ کر ان کے دلوں میں اتر جانا کمال ہے۔ پھر بھٹو خاندان سندھ کا مستند سیاسی خاندان تھا۔ ان کے والد شاہنواز بھٹو کی زمینیں بے حد و حسب تھیں۔ جبکہ میاں فیملی؟ ان کا اقتدار اور سیاسی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ میاں نواز شریف کی تعلیم بھی کوئی غیر معمولی نہیں۔ حضرت قائداعظمؒ بھی اپنی انتہائی احتیاط پسند شخصیت کے باعث لکھی ہوئی تقریر کیا کرتے تھے۔ لیکن میاں نواز شریف کی ”تقریری چٹیں“ کچھ اور معنی رکھتی ہیں۔ پھر وہ کیا قبولیت کی گھڑی تھی جب جنرل ضیاءالحق کہہ بیٹھے تم کو ہماری عمر لگ جائے۔ جنرل ضیاءالحق خدا جانے اقتدار کی کتنی لمبی عمر لے کر آئے تھے۔ گیارہ سال خود اقتدار کے مزے لوٹے اور پھر ان کا بخشا ہوا میاں نواز شریف کا اقتدار بھی ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔اپنے پہلے سوال کے جواب میں فاضل کالم نگار لکھتے ہیں ”عمران خان نے شروع سے ہی حصول اقتدار کا نہیں بلکہ ”تنقید اقتدار“ کا راستہ اپنایا۔ پروگرام اور ایجنڈا بھی منفی دیا، ”سونامی“ دوسروں کے اقتدار کی تباہی۔ مگر اپنے لئے تو کچھ نہیں۔ سونامی کا یہی مطلب ہو سکتا ہے۔ سیاسی طور پر یقیناً عمران خان نے نواز شریف کی ذات، خاندان، سیاست کو بہت زیادہ نقصان پہنچا دیا ہے۔ مگر یہ نقصان اخلاقیات کی میزان کا ہے۔ کیا عدالت کی میزان کا بھی ہے؟ اب خدا جانے فاضل کالم نگار کیا سمجھتے ہیں۔ اخلاقیات کے نقصان کے بعد ایک سیاستدان کے پلے رہ کیا جاتا ہے؟ مصری نوبل انعام یافتہ ادیب نجیب محفوظ نے لکھا”قدیم عربی ادب میں بہت سے ہیرو ہیں، سب کے سب گھڑ سوار اور سورما۔ لیکن میرے لئے آج کا ہیرو وہ ہے جو اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔ جو کرپشن کے خلاف لڑتا ہے۔ جو موقعہ پرست نہ ہو اور مضبوط اخلاقی بنیاد رکھتا ہو۔ اس طرح عمران خان کو اقتدار ملے یا نہ ملے وہ آج کے پاکستان کے ہیرو ہیں۔ جمہوریت میں ملکی وسائل اور خزانہ کے مالک عوام ہوتے ہیں، حکمران نہیں۔
لیکن حکمران ملکی وسائل کو ناجائز طور پر اپنے استعمال میں لاتے رہتے ہیں۔ اس طرح ترقی پذیر اور نو آزاد ملکوں میں کرپشن ہی سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ عمران خان کرپشن ختم کرنے کیلئے اکیس سال سے سرگرداں ہیں۔ فاضل کالم نگار کا اٹھایا ہوا تیسرا سوال چوہدری حامد ناصر چٹھہ کے بارے میں ہے۔
یہ جنرل جیلانی کی گورنری کے زمانے میں میاں نواز شریف کے ساتھ ہی پہلی مرتبہ وزیر بنے لیکن یہ میاں نواز شریف کی طرح اقتدار کے بلند مرتبے حاصل نہ کر سکے۔ اس کی وجہ فاضل کالم نگار نے حامد ناصر چٹھہ کا صابر وقائع ہونا، زبان کا پکا ہونا اور وعدے نبھانے کی عادت ہونا قرار دیا ہے۔ فاضل کالم نگار سیاست میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے وعدے اور معاہدے توڑنے ضروری سمجھتے ہیں۔ حامد ناصر چٹھہ لوگوں سے ایک فاصلہ رکھنے کے عادی ہیں۔ اب ان کے بیٹے محمد احمد چٹھہ، اک عزت وقار سے لوگوں میں گھلے ملے رہتے ہیں۔ وہ اک ادائے دلنوازی رکھنے والی شخصیت بتائے جاتے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا تھا:
جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں
آج کل ہم تیرے بارے میں بہت سوچتے ہیں
ہمارے سمیت آج ہمارا پورا ملک اسی سوچ میں ہے کہ ملکی باگ ڈور مالی طور پر پاکیزہ ہاتھوں میں آ جائے۔ کرپشن نے ہمارا یبڑہ غرق کر دیا ہے۔ ہماری پڑھی لکھی نوجوان نسل اصلاح احوال کیلئے عمران خان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ حامد ناصر چٹھہ کے بیٹے تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان کا ایک بیٹا محمد احمد چٹھہ تحریک انصاف ضلع گوجرانوالہ کا صدر ہے۔ اس خاندان کی دو پشتیں ضلع کونسل گوجرانوالہ کی سربراہی دیکھ چکی ہیں۔ لیکن ان کی خاندانی زرعی زمین میں ایک ایکڑ کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔ ورنہ میرے ضلع گوجرانوالہ کی تینوں تحصیلوں میں ایک ایک ہزار ایکڑ کے مالک موجود ہیں۔ یہ سب اپنے باپ دادے کی طرف سے صرف چند ایکڑوں کے مالک تھے۔ بس سیاست اور اقتدار میں رنگے گئے۔ ان میں کوئی بھی ”لاہوری سیاستدان“ کی طرح ڈھیروں پرائز بانڈ نکلنے کا بھی دعویدار نہیں۔ حامد ناصرچٹھہ کبھی سیاست میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہیں۔
کبھی اپنے آدھ اینٹ کی مسجد (جونیجو مسلم لیگ) کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ انہیں اپنے بیٹوں کے ساتھ تحریک انصاف کے اسٹیج پر چڑھنے میں بھی کوئی عار نہیں انہیں غالباً کچھ نہیں سوجھ رہا۔ ان کی تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت ملک و قوم کیلئے بہت سود مند ہوگی۔ عمران خان کو انہیں اصرار کر کے باقاعدہ ”سہروں گانوں“ کے ساتھ تحریک انصاف میں شامل کر لینا چاہئے۔ ویسے گوجرانوالہ ضلع کچہری کے سامنے خالد عزیز لون کی کوٹھی کی بیرونی دیوار پر تحریک انصاف کے قائدین کی بڑی بڑی تصویروں میں حامد ناصر چٹھہ کی تصویر بھی موجود ہے۔ سیاست کے بازار میں ہر شخص نے اپنا اپنا ” مشکل کشا“ ڈھونڈ رکھا ہے۔ اپنے گھر کے باہر اپنے مشکل کشا کی تصویر اسلئے بھی لٹکانی ضروری ہے تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آ سکے۔