پانامہ کیس : حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش 2 گھنٹے تفتیش

29 مئی 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + ایجنسیاں) وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز گزشتہ روز پانامہ کیس کی مزید تحقیقات کیلئے بننے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ جے آئی ٹی نے حسین نواز سے 2گھنٹے سے زائد تفتیش کی۔ ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کی جانب سے حسین نواز کو سوالنامہ بھی فراہم کیا گیا۔ حسین نواز کو دیئے گئے سوالات کے جوابات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ بعض اداروں کی جانب سے حسین نواز سے سخت سوالات کیے گئے۔ جے آئی ٹی نے حسین نواز سے بیانات سے متعلق 30 مئی تک دستاویزات مانگ لیں۔ تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی کا اجلاس ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے واجد ضیاءکی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں حسین نواز سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے 2گھنٹے سے زائد سوالات کیے گئے۔ حسین نواز نے جے آئی ٹی کے سامنے اپنا مو¿قف پیش کیا اور بیان ریکارڈ کرایا اور پچھلے دروازے سے میڈیا سے گفتگو کیے بغیر واپس چلے گئے۔ واضح رہے حسین نواز کو گزشتہ روز طلب کیا تھا جس کے بعد وہ جوڈیشل اکیڈمی پہنچے تھے۔ اس سے پہلے جوڈیشل اکیڈمی آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں حسین نواز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے وکیل کے ساتھ آئے ہیں۔ وکیل کو اگر میرے ساتھ جے آئی ٹی میں جانے سے روکا گیا تو واپسی پر مو¿قف دوں گا۔ ان کا کہنا تھا مجھے کوئی سوالنامہ اور طریقہ کار نہیں بھیجا گیا۔ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے کل نوٹس ملا، مجھے صرف 24گھنٹے دیئے گئے۔ یاد رہے حسین نواز نے جے آئی ٹی کے 2ممبران پر اعتراض کرتے ہوئے ایک درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان ممبران کی سیاسی جماعت سے وابستگی ہے لہٰذا انہیں جے آئی ٹی سے علیحدہ کیا جائے جس پر 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت 29مئی کو مقرر کر رکھی ہے۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور کارکن بھی موجود تھے جو وزیراعظم کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق حسین نواز بیان سے متعلقہ دستاویزات جمع کرائیں گے۔ جے آئی ٹی حسین نواز سے نیلسن، نیسکول کمپنیوں سے متعلق سوالات کیے گئے۔ حسین نواز سے مے فیئر فلیٹس سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔ حسین نواز سے ان کی کمپنیوں کی بیرون ملک سرمایہ کاری پر سوالات کیے گئے۔ حسین نواز کے ہمراہ ان کے وکیل سعد ہاشمی بھی تھے۔
حسین نواز