پاکستان نے جوابی ایٹمی حملے کی موثر استعداد حاصل کرلی

29 مئی 2017

اسلام آباد(سہیل عبدالناصر)مئی 1998میںبھارت کے ایٹمی دھماکوں کا منہ توڑ جواب دینے کے بعد انیس برس کے سفر میںپاکستان نے ایک مستند ایٹمی ریاست ہونے کے تمام لوازمات پورے کر لئے ہیں۔اب ہائیڈروجن بم کا تجربہ باقی ہے لیکن ریاست نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس تجربہ کی ضرورت ہے یا نہیں؟مئی 2017 میں پاکستان ، یورینئم اور پلوٹونئیم ، دونوں عناصر سے ایٹمی ہیتھار بنا رہا ہے،سیکنڈ اسٹرائیک،یعنی جوابی ایٹمی حملہ کی مﺅثر استعداد حاصل کر لی گئی ہے۔ سب سے اہم کامیابی یہ ہے کہ پاکستان نے ، خشکی، سمندر اور فضاء سے حملہ کی صلاحیت کی بدولت وہ اسٹریٹجک تکون بنا لی ہے جو کسی بھی ایٹمی ریاست کیلئے لازمی تصور کی جاتی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس سو اسو کے قریب ایٹمی ہتھیار ہیں جب کہ دو سو وار ہیڈز بنانے کیلئے افزودہ مواد موجود ہے۔ایٹمی ہتھیاروں کو داغنے کیلئے مکمل قابل اعتماد نظام کی تیاری سے پاکستان کبھی غافل نہیں ہوا۔پاکستان کے اسلحہ خانہ میں بیلسٹک اور کروز، ہر قسم کے میزائل موجود ہیں لیکن دو میزائل، خصوصی ذکر کے مستحق ہیں۔ ’ بیٹل فیلڈ رینج “کا حامل نصر میزائل جو ٹیکٹیکل یعنی چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں سے میدان جنگ میں دشمن کی فوجی فارمیشن برباد کر سکتا ہے اور بائیس سو کلو میٹر فاصلہ تک مار کرنے والا ابابیل میزائل جو ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی کا حامل ہے جس کی بدولت دشمن کے میزائل شکن نظام کو شکست دیتے ہوئے ایک ہی میزائل سے بیک وقت متعدد وار ہیڈ الگ الگ اہداف پر گرائے جا سکتے ہیں۔ ایٹمی سائینس و ٹیکنالوجی کے تمام شعبوں میں بے مثال ترقی کرتے ہوئے پاکستان اب فوجی اور سویلیں دونوں ایٹمی پروگراموں کے قابل رشک اثاثوں کا مالک ہے۔ مئی 1998 میں جب پاکستان کو جوابی ایٹمی دھماکے کرنے پڑے تو اس وقت صرف کے آر ایل میں یورینئم افزودہ کرنے کی صلاحیت موجود تھی اور یہی صلاحیت ایٹمی دھماکوں میں بروئے کار لائی گئی۔ ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں اور کم فاصلہ پر مار کرنے والے میزائل ”نصر“ کی بدولت پاکستان نے بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کو عمدگی سے ناکام بنایا۔ اب پاکستان دنیا کے ان معدودے ملکوں میں شامل ہے جن کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے دونوں طریقے موجود ہیں۔پاکستان کے اولین ایٹمی تجربات سے کچھ عرصہ پہلے ہی بیلسٹک میزائل غوری کے تجربات کئے گئے ۔پاکستان نے کم فاصلہ تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل نصر،غزنوی اور ابدالی بنائے جو میدان جنگ کے اندر تباہی ڈھا سکتے ہیں۔ درمیانے فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے شاہین اول، شاہین دوم، غوری اول و غوری دوم اور سے زائد فاصلوں کیلئے شاہین دوم اور اب شاہین سوم بھی تیار کر لئے گئے ہیں۔ شاہین سوم بھارت کے جنوبی جزائر تک کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اسی طرح زمین سے زمین پر مار کرنے والا کروز میزائل بابر اور فضاءسے زمین تک مار کرنے والا میزائل رعد بھی بنایا گیا جو اب آپریشنل ہیں۔ جب کہ زیر آب کروز میزائل داغنے کا کامیاب تجربہ کر کے آبدوز سے ایٹمی وار ہیڈ ہدف پر گرانے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ اس وقت پاکستان کے آر ایل اور خوشاب کے بھاری پانی والے چار ری ایکٹروں سمیت پانچ ایٹمی تنصیبات چلا رہا ہے۔ ان ہی تنصیبات کی بدولت پاکستان دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کے قابل ہوا ہے۔سویلین سائیڈ پر بھی پاکستان اب اس قابل ہے کہ وہ ایک ایٹمی بجلی گھر خاصی حد تک خود بنا سکتا ہے۔ ٹیکسلا میں ہیوی مکینیکل کمپلیکس تھری، ملک کی ایٹمی صنعت کی جان ہے جہاںبنائے گئے آلات اور مشینیں یوروپ کی سب سے بڑی ایٹمی تجربہ گاہ”سرن“کو بھی فراہم کی گئیں۔ چین کے تعاون سے پاکستان میں چشمہ کے مقام پر بالترتیب تین تین سو میگاواٹ کے چار ایٹمی بجلی گھر کام کر رہے ہیں جب کہ کراچی میںاسی میگاواٹ کا بجلی گھر چالیس سال سے کام کر رہا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق پاکستان کے پاس ایٹمی صنعت میں قابل اور تجربہ کار سائنسدانوں، انجینئرز اور ٹیکنیشنوں کی تعداد ساٹھ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ڈیفنس نظام قائم