مفت خوروں کا بجٹ

29 مئی 2017
مفت خوروں کا بجٹ

جوزف مسیح پریشان بیوی سے بولا ”مسلمانوں کا مقدس مہینہ گزرنے دے، مہنگائی کم ہو جائےگی۔ جوزف کے ملک میں کرسمس سستا اور دین محمد کے ملک میں رمضان عید مہنگا؟ جعلی جذباتی پن کی ضرورت نہیں۔ کڑوی حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ نام دین محمد رکھ لینے سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین پر عمل پیرا نہیں لیکن مسلمانی پر بضد ہے؟ عاشق بھی کہلانا چاہتا ہے؟ اس رمضان میں شیطان قید اور بجٹ آزاد ہوگیا۔مادر پدر آزاد بجٹ پیش کرنے والے خوشامدی اگلے سال بھی بجٹ پیش کرنے کے آرزومند ہیں ؟ تین ادوار اقتدار میں غریب ملک کا بجٹ پیش کر چکے ہیں لیکن کسی بجٹ میں اپنی عورتوں مردوں اولادوں کے برانڈڈ ملبوسات و مصنوعات پر ٹیکس نہیں لگاتے۔ سادگی نہ سہی میانہ روی بھی نہیں سکھاتے۔ اندرون و بیرون ملک سے موصول ہونے والے سرکاری تحائف بھی اپنے خاندان و دوست احباب کو تحفہ کرتے ہیں اور یہ بھی نہیں بتاتے کہ عوامی خزانے کی امانت تحفہ کیا جارہا ہے۔ سر تا پا عوامی خزانے کے مقروض عوام کا بجٹ امانت داری سے بنا سکتے ہیں ؟عوام کا پیسہ عوام پر ایمانداری سے لگا سکتے ہیں ؟ ان کا اپنا وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف کہتا ہے کہ بجلی بچانے پر عوام کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی زور نہیں دیا اور بس اسی کوشش میں لگی رہی کہ نئے سے نئے پلانٹس کا افتتاح ہوتا رہے۔ خواجہ آصف کا نشتر خادم اعلیٰ پنجاب کے طرف تھا۔ نواز شریف نہ خواجہ آصف کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ بھائی کی ناراضی افورڈ کر سکتے ہیں۔ایک میان میں کئی تلواریں لئے پھر رہے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میں بجلی بچانے کا کہتا رہا مگر کسی نے لفٹ نہ کرائی، ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو یہ پتا چلتا رہے کہ فلاں پلانٹ کا افتتاح ہوا ہے.... اشارہ رقیب کی طرف تھا۔ چھوٹے بھائی کو زمینی منصوبے پیش کرکے ووٹ لینے پر یقین ہے اور بڑے بھائی کو افتتاحی فیتے کاٹنے کا جنون۔ اگلی حکومت بھی نواز شریف کی ہو ضرور ہو لیکن چھابڑی والے کو کوئی دلچسپی نہیں، خان آئے نواز آئے اسے چھابڑی ہی لگانا ہے۔ شریف حکومت کی چوتھی باری سے بھی اسی طبقہ کو دلچسپی ہے جو عہدوں و مراعات سے مستفید ہورہا ہے۔ لفافے، بریف کیس لے رہا ہے۔سرکاری سگریٹ، سرکاری شراب، سرکاری من و سلویٰ، سرکاری ملازمین، سرکاری تحائف، سرکاری گاڑیاں، پٹرول، گارڈز رہائش حتیٰ کہ باتھ روم ٹشو تک سرکاری خزانے سے لے رہا ہے۔مر جائے تو کفن دفن بھی سرکاری بشرطیکہ سرکاری عہدے کے ساتھ مرے۔ اور کئی تو ایسے ”شودے“ پائے جاتے ہیں، حکومت ختم ہونے پر جاتے جاتے سرکاری گھروں سے سرکاری تحائف اور چیزیں چرا کر لے جاتے ہیں۔ تمام حکومتوں میں عوامی خزانے اور سرکاری امانتوں کی لوٹ سیل قابل شرم چلی آرہی ہے۔ بجٹ پیش کرتے وقت مفت خور پہلے اپنے گھر کا بجٹ دیکھ لیا کریں۔ شاہانہ و ماہانہ کیا خرچ آتا ہے۔ غریب کا مفلسانہ ماہانہ بجٹ بناتے ہوئے کچھ شرم، کچھ حیا سے مدد لیا کریں۔ وزیراعظم کا ایک سوٹ بیچ دیا جائے تو پانچ گھروں کا بجٹ خریدا جا سکتا ہے۔ سرکاری عیش و عشرت منہ کو لگی ظالم آسانی سے تھوڑی چھوٹتی ہے۔ ہزاروں لاکھوں کے صرف ملبوسات پہننے والی سرکار پانچ سو روپیہ دیہاڑی لینے والے ایک مزدور، پانچ بچوں، بیوی، بوڑھے ماں باپ، بہن بھائیوں کی کفالت بھی جس کے ذمہ ہو، بجٹ بنا سکتی ہے؟ ظالم کرسی چھوڑتے ہوئے دل کو ہول پڑتے ہےں۔ پاکستان بنا ہی مزے لوٹنے والوں کے لئے ہے۔ سرکاری کالم نگار، شاعر، اینکر، باورچی، مالشئے، بیوٹیشن،ڈیزائنر، طبیب غرض جس نے بھی سرکار کی خدمت کی، ہاں میں ہاں ملائی اس پر سرکار مہربان ہوگی۔ سرکار کی خواتین کے کاندھے دبانے والیاں آج بیگمات کہلاتی ہیں اور ان کی نسل وزارتیں سنبھال کر بیٹھی ہےں۔ چھابڑی والے کو اسحاق ڈار کے بجٹ سے نہ پہلے پانچ مرتبہ ریلیف مل سکا، نہ چھٹے بجٹ میں کوئی امید ہے البتہ کشمیریوں کی حکومت ایک کشمیر آزاد نہ کراسکی، باقی سب آزاد ہے۔ مادر پدر آزاد بجٹ پر پانچویں مبارکباد قبول ہو۔
شیطان قید بجٹ اور مہنگائی آزاد۔
٭٭٭٭٭