;; ”تسی پُچھو نال اخلاص کڑے“

29 مئی 2017
 ;; ”تسی پُچھو نال اخلاص کڑے“

میرے ڈرائیور کے ساتھ تقریباََ ساکت کھڑا وہ ہفتے کے روز سورج ڈھلنے کے بعد آسمان کے ایک کونے پر نگاہیں مرتکز کئے ہوئے تھا۔ اس کے چہرے پر خوف اور خفت بھری مسکراہٹ تھی۔ ”میں تو سارا دن کھاتا پیتا رہا ہوں“ جانے کئی بار اس نے یہ فقرہ مجرمانہ سرگوشی میں دہرایا۔
اس کے چہرے پر پھیلی خفت اور ہذیانی بڑبڑاہٹ نے مجھے متجسس کردیا۔ استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ سورج ڈھلنے کے بعد مارگلہ کی پہاڑیوں میں اُفق پر جو چاند ابھرا ہے وہ اسے قمری مہینے کی دوسری رات کا نظر آرہا ہے۔ اس کی دانست میں پہلی رات کا چاند جمعے کو نموار ہوگیا تھا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے مگر اس کا اعلان نہیں کیا اور وہ پہلا روزہ رکھنے کی سعادت سے محروم ہوگیا۔
میرے پاس اس کے احساسِ جرم کے تواڑ کے لئے کوئی دلیل نہ تھی۔ شہری زندگی کے روزمرہّ معمولات نے کبھی آسمان کو دیکھنے کی مہلت ہی نہیں دی۔ تاروں بھرا آسمان اپنے بچپن میں گھر کی چھت پر گرمیوں کے موسم میں لیٹے ہوئے کئی بار دیکھا ہے۔ ان دنوں چاند میں بیٹھی بڑھیا کو چرخا چلاتے ہوئے ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی تھی۔ چاندنی راتوں کا ذکر البتہ صرف شعروں ہی میں سنا ہے۔ چودھویں کا چاند دل پر کیا قیامت گزارتا ہے اس سے آشنا ہونے کا موقع بھی کبھی نہیں ملا۔
میرے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں تھی جس کے ذریعے میں کوہستان سے آئے اس اتنہائی دیانتدار اور محنتی شخص کو جو کئی حوالوں سے ہر فن مولا ہے اس بات پر قائل کرسکتا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رمضان کے چاند کی بابت بہت سوچ بچار کے بعد ہی فیصلہ کیا ہوگا۔اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔جو چاند وہ دیکھ رہا ہے وہ پہلی ہی رات کا چاند ہے۔
اس کے احساسِ ندامت نے بلکہ مجھے بھی شسدر کردیا تھا۔ دینی فرائض کے ساتھ انتہائی سادگی اور خلوص پر مبنی ایسی بے ساختہ وابستگی میں نے صرف اپنی مرحومہ ماں میں دیکھی تھی۔ وہ یاد آگئی اور میں گھبرا کر گھر لوٹ آیا۔ سونے سے قبل بستر پر لیٹے ہوئے میں نے البتہ ایک ٹویٹ لکھ دیا۔ جس کے ذریعے لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام آباد کے مضافاتی گاﺅں شاہ اللہ دتہ میں اُفق پر جو چاند ابھرا تھا کچھ لوگ اسے دوسری رات کا چاند ٹھہرارہے تھے۔
میرے اس ٹویٹ نے کئی لوگوں کو بھڑکا دیا۔ کافی رعونت کے ساتھ انہوں نے مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی قمری مہینے کے تین دن گزرنے کے بعد جو چاند نظر آتا ہے وہ ”کئی گھنٹے پرانا ہوتا ہے“۔ یہ چاند کافی واضح انداز میں دکھائی دیتا ہے اور مطلع صاف ہونے کی صورت میں کافی دیر تک نظر آتا رہتا ہے۔ ”سائنسی حقیقتوں“ سے ناآشنا لوگ اسے دوسری رات کا چاند بھی تصور کرسکتے ہیں۔ مجھے لیکن ”ایک ذمہ دار صحافی“ ہوتے ہوئے احتیاط برتنا چاہیے تھی۔ ”اُمت“ میں ممکنہ طورپر اختلاف کو بڑھاوا دینے والی یہ ٹویٹ لکھنے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔
کئی پڑھے لکھے لوگوں نے مجھے یہ بات سمجھانے کے لئے کافی وقت اور لفظ بھی صرف کئے کہ ایک ”اسلامی ملک“ میں صرف ریاست کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ رمضان جیسا اہم اور مقدس مہینہ کب شروع اور کب ختم ہوتا ہے۔ شاید اس کے لئے کسی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی بھی ضرورت نہیں۔ جدید سائنسی تحقیق کی بدولت آپ غلطیوں سے پاک ایک ایسا کیلنڈر تیار کر سکتے ہیں جو قمری مہینوں کے آغاز اور اہتمام کو بھی انگریزی کیلنڈرکی طرح قطعی انداز میں طے کر دے۔ مغالطے کی اس میں کوئی گنجائش نہ ہو۔ پاکستان میں کوئی بھی حکومت مگر ایسا کرنے کی جرا¿ت نہ دکھا پائی۔ ”ملاحضرات“ سے ”بلیک میل“ ہوجاتی ہے۔
”ملا حضرات“ کا ذکر چھڑا تو میرے ٹویٹ پر ردعمل دینے والے مفتی منیب اور مفتی پوپلزئی کے حامیوں اور مخالفین میں تقسیم ہو گئے۔ ان دونوں کے حامیوں کے مابین چھڑی بحث نے بالآخر لوگوں کو محض مسلکی ہی نہیں لسانی بنیادوں پر منقسم ہوئے بھی دکھایا۔ افغانستان کا ذکر ہوا جو ”ہمیشہ سے آزاد ملک“ چلاآرہا ہے۔ آج کا پاکستان بہت دہائیوں تک انگریزوں کا ”غلام“ رہا ہے اور ہم ابھی تک ”غلامی“ کی عادات اور اطوار سے نجات حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ انگریز تو اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنے کے لئے ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ والی پالیسی اپناتا رہا۔ ہم آزاد ہونے کے 70برس بعد بھی اس پالیسی سے نجات حاصل کیوں نہیں کر پائے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
میرے ایک سادہ اور قطعاً ٹھوس واقعہ پر مبنی ٹویٹ نے بظاہر بہت پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان تعصب ورعونت بھری جس بحث کو بھڑکایا میں اس سے گھبراگیا۔ دین کے بارے میں میرا فہم بہت سطحی اور یقیناً بہت ناقص ہے۔ قمری کیلنڈرکی مبادیات کے بارے میں بھی قطعاً نابلد ہوں۔ بغیر کوئی تبصرہ کئے اس بحث کو فکر مندی سے پڑھتا رہا۔ کئی حوالوں سے کافی ٹھوس اور منطقی نظر آتے دلائل کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ دل ہی دل میں اگرچہ ان دلائل کو رعونت بھرے اعتماد کے ساتھ پیش کرنے کے انداز سے گھبراگیا۔ بلھے شاہ کا مصرعہ یاد آگیا جو التجا کرتا ہے: ”تسی پُچھو نال اخلاص کڑے“ اس مصرعے میں استعمال ہوا ”اخلاص“ میرے ذہن میں اٹک کررہ گیا۔ اس حوالے سے اپنی ان پڑھ ماں کی دینی فرائض کے ساتھ انتہائی سادگی اور خلوص پر مبنی بے ساختہ وابستگی یاد آ گئی۔ اس یاد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی تو اسلام آباد کے شاہ اللہ دتہ نامی گاﺅں کے ایک مقام پر اپنی جگہ ساکت کھڑا کوہستان سے اسلام آباد آیا ملازم یاد آ گیا۔ وہ انتہائی دیانت دار ہے۔ کبھی فارغ بیٹھا نہیں دیکھا۔ کئی حوالوں سے ہر فن مولا ہے اور خون پسینہ ایک کردینے والی مشقت سے رزقِ حلال کمانے کو بضد۔
اس کے چہرے پر خوف بھری خفت والی مسکراہٹ تھی۔ وہ بہت دیر تک مارگلہ کی پہاڑیوں کے اُفق پر نمودار ہوئے چاند کو دیکھ کر جانے کئی بار ”میں تو سارا دن کھاتا پیتا رہا“ کہتے ہوئے خود پر نادم محسوس کرتا رہا۔ انٹرنیٹ پر حاوی ہوئے افلاطون وبقراط اپنے ”علم سے مالا مال“ دلائل کے ذریعے اس کی ندامت کا ازالہ ہرگز نہیں کر سکتے۔ سب دلوں کے حال جاننے کی قدرت رکھنے والا صرف میرا ربّ ہی اس کی ندامت کو اپنے کرم سے جانے کس انداز میں نوازے گا۔ انسانی عقل تو ویسے بھی لبِ بام کھڑی محو تماشہ رہتی ہے۔
٭٭٭٭٭