نفسیاتی جنگ

29 مئی 2017

نفسیاتی جنگ ایک آزمودہ اور کارآمد ہتھیار ہے دنیا کے اکثر ممالک اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے لئے یہی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ دنیا کے کامیاب سیاستدان اور ماہر نفسیات کا خیا ل ہے کہ آپ نفسیاتی جنگ سے ایک بہادر سپاہی کو بزدل اور ایک شریف شہری کو ملک دشمن دہشت گرد اور قاتل بنا سکتے ہیں۔ نفسیاتی جنگ کا مقصد دوسروں پر جھوٹے پروپیگنڈے بناناناجائز الزامات لگانا ذہنی طور پربار بارتنگ کرنا اندرونی مداخلت بیرونی طور پرپریشر ڈالنا دنیا میں تنہا ،ذلیل اور رسوا کرنا انکی معیشت اور امن کو ختم کرنا بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا ان کے جذبات سے کھیلنا طرح طرح کی سازشیں کرنا انکے صبر کا امتحان لینا اور مختلف ہتھکنڈوں سے انہیں الجھا کر رکھنا وغیرہ یہ نفسیاتی جنگ کے چند وہ خطرناک پوائنٹ ہیں جو بھارت پاکستان کے خلاف استعمال کرکے روزانہ ایٹمی جنگ کو ہوا دیتا ہے کیونکہ قیام پاکستان سے لےکر آج تک کسی بھی بھارتی سیاستدان حکمران یا پالیسی ساز نے پاکستان کو دلی طور پر تسلیم نہیں کیا بھارتی پالیسی ساز کا خیال ہے کہ پاکستان کے خلاف بارودی جنگ سے اتنا فائدہ نہیں ہوا جتنا نفسیاتی جنگ سے ہم پاکستان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں بھارتی حکمرانوں اور پالیسی ساز کا خیال ہے آج مسلمان دنیا کی وہ قوم ہے جو کبھی بھی کہیں بھی آپ لالچ دے کرانکے درمیان سیاسی ،مذہبی اور علاقائی اختلافات ڈال سکتے ہیں بھارت پاکستان پر نفسیاتی دباﺅ برقرار رکھنے کے لئے کبھی LOCکی خلاف ورزی ،پانی کا مسئلہ ،کلبھوشن جیسے جاسوس اپنی میڈیا کے ذریعے پاکستان پر دباﺅڈالنا دہشت گردوں کو فنڈنگ پاکستانی سیاستدانوں کو استعمال کرنا یا ایران اور افغانستان کو امدادیں اور مختلف پر وجیکٹ دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا لیکن میں یہ یہاں بتاتا چلوں کہ ایرانی قوم اور ایرانی حکمران ، سیاستدان اتنا چالاک اور سمجھ دار ہیں وہ بھارت سے فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستان پر وقفے وقفے سے نفسیاتی دباﺅ ڈالتے رہیں گے لیکن بھارتی مقاصد پر اس طرح پورا نہیں اتریں گے جس طرح بھارت چاہتا ہے جبکہ بد قسمتی سے افغانستان کو ہمیشہ استعمال کیا گیا ہے اور آج بھی وہ اپنی کم عقلی اور نالائقی سے لالچ میں آکر ایک بار پھر بھارت کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہے ۔اگر افغانستان بھارت کی بولی بولنا چھوڑ دے تو چین اور پاکستان افغانستان کے لئے بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔بھارت کراچی بلوچستان اور شمالی وزیرستان میں اپنے مقاصد ہار چکا ہے اور اب اسے سی پیک اور کشمیر جیسے مسئلہ پر انتہائی گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے اس لئے بھارت نے ایران اور افغانستان میں بھارتی خفیہ ادارے را اور SSBکے بے شمار کیمپ لگائے ہوئے ہیں جو دہشت گردوں کوٹریننگ دے کرایران اور افغانستان کے راستوں سے پاکستان بھیجتے ہیں لیکن پاکستان بھارت کی ان تمام حرکتوں سے اچھی طرح واقف ہے اس لئے پاکستان اپنے تمام بارڈر مکمل طور پر سیل کر رہا ہے اور دوسری طرف بھارت اپنی مضبوط خارجہ پالیسی کے ذریعے دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا چکا ہے وہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کرنے میں کافی کامیاب ہو چکا ہے آج اقوام متحدہ ،ورلڈ بینک، اور عالمی عدالت جیسے ادارے پاکستان کی نسبت بھارت کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور پاکستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی اپنی خارجہ پالیسی پر توجہ نہیں دی پاکستان کا تو یہ حال ہے آج بھی پاکستانی پارلیمنٹ میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو کھل کھلا کر پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں جو پاکستان کی معیشت اور امن کو تباہ کرنے کی بار بار کو شش کرتے ہیں لیکن ہماری قوم ادارے اور عدالتیں ان کے خلاف نوٹس نہیں لیتے بھارتی حکمران ،سیاستدان اور میڈیا اپنی ایجنسیوں کے اشارے پر کام کرتے ہیں جبکہ ہمارے سیاستدان ، حکمران پاکستانی ریاستی اداروں کے خلاف بیانات دیتے ہیں اور یہ کم عقل اور نالائق لوگ اپنے مفادات کی خاطر دشمن عناصر سے بک جاتے ہیں ۔ہمارے حکمران ، سیاستدان دشمن سے فائدہ اٹھانے کی بجائے انہیں ہر محاذ پرفائدہ پہنچاتے ہیں بھارتی خفیہ ادارے نہ صرف پیسہ تقسیم کرتے ہیں بلکہ ان کے اداروں میں خوب صورت اور Youngلڑکیاں بھی شامل ہیں جن سے وہ بے شمار کام لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ہم جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں ہم جذباتی لالچی ڈرپوک غدار اور مفاد پرست لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں خیر یہ تو چھوٹی موٹی وہ باتیں ہیں جو ہرعام شہری جانتا ہے آخر میں میں آپ بھارت کی اندرونی صورت حال بتاتا چلوں جو جمہوریت کا دعوی دار اور دوسروں پر الزام تراشی کرتا ہے جب سے نریندر مودی اقتدار میں آیا ہے اس کی انتہا پسندی اور جارہانہ سوچ رویہ نے بھارت کو اندرونی طور پر اتنا کمزور کر دیا ہے کہ ہوا کا ایک جھونکا بھی بھارت کو کئی حصوں میں تقسیم کر دے گابھارت میں اس وقت چودہ ریاستیں ایسی ہیں جہاں آزادی کی تحریک تیزی سے چل رہی ہے جن میں خالصتان، میزوارم،توپیورہ، جگالیا،ناگا لینڈ،اردنچل پردیس، بورلینڈ،گورکھا لینڈ، وغیرہ وغیرہ یہ بھارت کی وہ کمزورریاستیں ہیں جہاں بھارتی حکومت اور فوج کا کنٹرول بالکل نہیں یہاں آزادی پسند نوجوانوں نے اپنی علیحدہ علیحدہ حکومتیں بنا رکھی ہیں جہاں سے یہ لوگ باقاعدہ ٹیکس لے کر اپنی حکومتوں کو چلاتے ہیں کرپشن کی صورت حال یہ ہے کہ چند روز پہلے بھارتی فوجی نے سوشل میڈیا پر بھارتی کرپشن کا ایسا بھانڈا کھولا جسے چند روز بعد ایک ہوٹل میں مار دیا گیا آج بھارتی فوج کی اندرونی صورت حال یہ ہے کہ بھارتی نوجوان اپنی فوج میں بھرتی ہونے کے لئے نہیں آتے بھارت اپنے ڈرامہ ،فلموں کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو فوج میں شامل کرنے کے لئے قائل بھی کرتا ہے جس کے باوجود چند روز پہلے بھارت میں چار ہزار بھارتی ویکنسیاں آئیں لیکن با مشکل76نوجوانوں نے درخواستیں جمع کرائیں بھارت میں مسلسل کئی سالوں سے میجر اور لیفٹیننٹ کرنل جیسے بندے مختلف بہانے بنا کر یہ ادارہ چھوڑ کر سول اداروں کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود بھی بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا جبکہ پاکستان کو اپنا امیج اور مقام بر قرار رکھنے کے لئے بھارت کو نفسیاتی حربوں سے شکست دینا ہو گی جو اس وقت پاکستان کے لئے انتہائی ضروری ہے۔