سرمایہ داری نظام بیمار ہے

29 مئی 2017

اپنے ہی ملک میں بیزاری اور بے اعتمادی کا شکار امریکن صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دور صدارت کے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب ایک بڑے اور اعلیٰ وفد کے ساتھ آیا۔ سعودی عرب کے بادشاہوں نے اپنے من کے بادشاہ مسٹر ٹرمپ کا شاندار استقبال کچھ اس طرح کیا کہ جیسے ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے ملاقات کرتا ہے۔ حجازی فوج کی چمکدار تلواروں کے سایہ میں مسٹر ٹرمپ اور ان کے وفد کے یہودی اور عیسائی اراکین عربی گیت کی دھن سے بیخود ہو کر رقص فرماتے رہے۔ مسٹر ٹرمپ جھومتے رہے اور میزبانوں کے چہرے مسرت سے دمکتے رہے یہ ایک تاریخی استقبال تھا مسٹر صدر کے گلے میں جب سعودی اعزاز کا ہار ڈالا گیا تو صدر نے سعودی بادشاہ کے سامنے سر کو خم کیا اس منظر کو جب امریکی قوم نے دیکھا تو انہوں نے اپنے صدر کی اس حرکت کا برا منایا۔ امریکہ کے باشندگان اور اس کی انتظامیہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اس وقت ساری دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے اور جب دنیا بھر کے سر امریکہ کے صدر کے سامنے جھکے ہوئے ہوں تو امریکہ کے صدر کو پھر یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ملک کے سربراہ کے سامنے خود جھکے۔ چاہے یہ خمیدہ حرکت کسی عزت اور اعزاز کو حاصل کرنے کیلئے ہی کیوں نہ ہو۔ دنیائے اسلام کی نیند اور غیر اسلامی دنیا کی بیداری نے آج اسلامی دنیا کو یہ دن دکھایا ہے کہ امریکہ مسلمانوں کا خون بھی بہا رہا ہے اور اسلامی ممالک کے اعزازات بھی زیب گلو کر رہا ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ ۳۸۰ ارب ڈالر کے معاہدے کئے ہیں سوچنا یہ ہو گا کہ وہ امریکی صدر جو اپنی صدارتی انتظامیہ مہم میں برملا یہ اعلان کرتا ہے کہ اگر وہ امریکہ کا صدر منتخب ہو گیا تووہ مسلمانوں پر امریکہ کے دروازے بند کردے گا۔اور مسٹر ٹرمپ نے اپنی کامیابی کے بعد مسلمانوں کے خلاف ویزوں کی سختی شروع بھی کردی لیکن یہ اچانک کیا ہوا کہ سعودی عرب جیسے قدامت پسند اور بادشاہت زدہ ملک پر امریکی صدر فدا ہو گیا اور خطیر رقم کے دفاعی معاہدے حجازیوں کی جھولی میں آگرے؟ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے اور عموماً مجبوریاں اچھے بھلے دیوتا¶ں کو بھی اپنے پجاریوں کی دہلیز تک لے جاتی ہیں۔
آج کی دنیا میں پرانے طاغوتی نظامجنہوں نے ساری دنیا کے انسانوں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے سرخ اور سرمایہ دار دو سامراجوں کا مستقل غلام بنا رکھا تھا وہ نظام بذات خود کمزور اور بوسیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ امریکی اور یورپی سرمایہ دار سامراج نے اپنی تباہی کا سامان اس وقت پیدا کیا جب انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں اشتراکی روس کا گلا گھونٹا‘ سرخ سامراج کی موت اور روسی ریاست کے حصے بخرے ہونے کے بعد سرمایہ دار امریکی سامراج نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے یہ سمجھا کہ اب وہ آزاد ہے اور ساری دنیا کا بلا شرکت غیر مالک ہے۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ سرمایہ دار سامراج نے اپنے اس ”دوست“ سرخ سامراج کوختم کر دیا جس نے امریکہ مخالف طاقتوں کو اور خاص کر مسلمانوں کو دبایا ہوا تھا۔ اشتراکی روس کے خاتمے کے بعد اس کے پیدا کردہ خلا کو ان طاقتوں نے پر کیا جو امریکی سامراج سے بیزار تھیں۔ اس وقت افغانستان کے چالیس فیصد علاقے پر عملی طور پر طالبان قابض ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق ریاست افغانستان کے پندرہ فیصد رقبہ پر داعش کی گرفت موجود ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ امریکہ اپنے دوستوں کی پرخلوص مدد کے باوجود بھی افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا اور دنیا میں امریکہ کے خلاف ابھرتی ہوئی نفرت اور بغاوت کو کمزور یا ختم نہیں کر سکا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اپنے اس پرخلوص دوست یا اتحادی سے بھی فوراً رنجیدہ ہو جاتا ہے۔ جو کوشش کرنے کے باوجود بھی امریکہ کی خواہش کی تکمیل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ امریکہ کا یہ سلوک اس کے دوستوں کیلئے بڑا پریشان کن ہے۔ بیشک امریکہ اور اس کے دوست بہت طاقتور ہیں لیکن کوئی قوت ان کو ناکام بھی کر رہی ہے۔ سعودی عرب نے ایران کو تنقید کا نشانہ بنا کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جو اسلامی دنیا میں مزید تلخیاں بڑھائے گا اور یہ تنا¶ اسلامی دنیا کو مزید تقسیم در تقسیم کر دے گا۔
سعودی خاندان نے ریاست امریکہ کو اپنی وفاداری پیش تو کردی ہے لیکن مسلمانوں کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ امریکہ عالم اسلام سے کتنا وفادار ہے؟ تقریباً پچاس ممالک کے اعلیٰ وفود سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جمع ہوئے ان سب میں پاکستانی اعلیٰ وفد کے ساتھ جس سرد مہری کا برتا¶ کیا گیا وہ قابل افسوس ہے۔ اس اجتماع میں ایران کو تو کھلے بندوں مجرم بنا دیا گیا لیکن پاکستان کو خاموشی کی زبان میں یہ واضح پیغام دیا گیا کہ وہ اس فساد اور فسادیوں کا سہولت کار ہے اور کسی وقت بھی پاکستان کو سزا دی جا سکتی ہے۔ فی الحقیقت سرمایہ دار جمہوری تماشہ اپنی زندگی کا سفر پورا کر چکا ہے۔ موجودہ طرز سیاست میں کوئی بھی کشش باقی نہیں رہی کیونکہ اس سرمایہ داری مداری نظام میں دنیا بھر کے عوام کے دکھوں کو دو چند کیا گیا ہے جبکہ عام لوگوں کی راحت اور سکون ختم ہو گیا ہے جبکہ امریکہ اس مرتے ہوئے سامراج کو مسلم دولت اور افواج کے ذ ریعے زندہ رکھنا چاہتا ہے لیکن وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ بھی جیتنا چاہتا ہے۔ اسی لئے فطرت کے خلاف کارفرما امریکہ ہار رہا ہے اور سعودی عرب نے غلط فیصلے کرنے شروع کر دئے ہیں اور یہ فیصلے نقصان دیں گے۔