جمہوری قیادت کے 4سال

29 مئی 2017

صاحبو! گزشتہ انتخابات کے وقت موجودہ حکمران پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے دعوے دار تھے اس وقت پاکستان کو تین بڑے مسائل کا سامنا تھا اب اس قیادت کو اقتدار میں آئے چار سال مکمل ہو چکے ہیں وہ مسائل آج بھی موجود ہیں کیونکہ اس عرصہ میں حکمرانوں کی توجہ مخصوص شہروں کی سڑکوں تک محدود رہی یہاں تک 2018ءکے انتخابات سر پر آپہنچے ۔ جمہوری طرز حکومت میں حکمران اپنے منشور کے مطابق عوام کے مسائل حل کرنے کے پابند ہوتے ہیں اگر حکمران اپنے فرائض سے غافل ہوں‘ تو حزب اختلاف اپنا کردار ادا کرتی ہے وہ حکمرانوں پر سیاسی دبا¶ قائم کر کے انہیں عوامی مسائل حل کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ سیاسی قیادت کو اسمبلی کا پلیٹ فارم میسر ہوتا ہے جہاں منتخب سیاسی قیادت بذریعہ گفتگو یا لڑ جھگڑ کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے منصوبہ بندی اور قانون سازی کرتی ہے ہم نے دیکھا ان چار سالوں میں اسمبلی کے اندر کم اور سڑکوں پر زیادہ سیاسی سرگرمیاں نظر آئیں یہا ں دھرنا سیاست کا عروج دکھائی دیا۔ کوئی جلسوں اور جلوسوں میں حکومت کو للکارتا رہا اور حکمران سڑکوں کی تعمیر دیکھا کر قوم کو بتاتے رہے کہ ہم ترقی کی منزل پانے والے ہیں گویا ان چار سالوں میں سڑکوں کی سیاست ابھر کر سامنے آئی۔ 2013 ءکے انتخابات کے وقت پاکستان کو جن تین بڑے مسائل کا سامنا تھا ان میں پہلا مسئلہ ملک میں ا من و امان کا قیام تھا تب یہاں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا بازار گرم تھا آج چار سال بعد بھی ملک میں دہشت گردی کا ناسور موجود ہے۔ البتہ حکمران آپریشن ضرب ا ور آپریشن ردالفساد کا کریڈٹ ضرور حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں اسی لئے حکمران دعوے کرتے ہیں کہ دہشت گر دی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مگروہ اپنی ذمہ داریوں سے لاپرواہ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان کی ا ہم ترین ذمہ داری نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرانا تھا اس پلان پر عمل کرانے میں حکمران ناکام رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں آج بھی دہشت گردی موجود ہے۔ حال ہی میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کی گاڑی کے قریب خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا۔ جس کے نتیجہ میں 25 افراد شہید اور مولانا عبدالغفور حیدری سمیت 40سے ز ائد شہری زخمی ہوئے۔ اس کے بعد گوادر میں دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے سڑک کی تعمیر کرنے والی کمپنی کے 10افراد شہید کردئے۔ وز یر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے نزدیک یہ کارروائی را سے فنڈ لینے والوں کی لگتی ہے۔ سچ بھی یہی ہے کیونکہ بلوچستان کی ترقی بھارت ا ور شرپسندوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ یہ بات کون نہیں جانتا کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اب دیکھنا یہ ہے کہ ان چا ر سالوں میں ہماری سیاسی قیادت نے اپنے دشمن کے خلاف جرات مندانہ خارجہ پالیسی بنائی؟ پانچواں درویش پھر بولا اس وقت پاکستان کا دوسرا بڑا مسئلہ توانائی کا بحران تھا جو آج بھی اسی شدت سے موجود ہے۔ پورا ملک لوڈشیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہے سندھ میں تو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف پیپلزپارٹی بھی احتجاج میں شامل ہے۔ مگر کاغذوں میں وزراءکو ہر طرف ہریالی نظر آ رہی ہے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کالا باغ ڈیم مددگار ثابت ہو سکتا تھا ہمارے
پاس کالا باغ ڈیم جلد‘ وافر ا ور سستی بجلی فراہم کرنے کا ذریعہ تھا یہ منصوبہ زراعت کی بہتری اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے میں بھی مفید ثابت ہو سکتا تھا مگر اس قومی منصوبے پر نہ حزب اختلاف نے توجہ دی اور نہ حزب اقتدار نے ملک کو مسائل سے چھٹکارا دلانا شاید ہماری سیاسی قیادت کی ترجیح ہی نہیں کیونکہ پہلے پی پی پی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں اس کا بستر گول کیا اب موجودہ حکومت نے اس کے بارے میں چپ سادھ رکھی ہے ہم مسلمان ہیں ہمارے حکمران بھی مسلمان ہیں پاکستان کا مملکتی مذہب بھی اسلام ہے۔ اسلام میں روزہ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اسی لئے روزہ داروں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں پچھلے سال روزہ داروں کو سحری افطاری اور تراویح کے اوقات میں بھی لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا اس شدت کی گرمی میں روزہ داروں کے لئے سہولیات کا نہ ہونا جمہوری حکومت کے لئے شرم کی بات ہے۔ اﷲ کرے اب کے روزہ دار لوڈ شیڈنگ سے محفوظ رہیں۔ پاکستان کا تب تیسرا بڑا مسئلہ روزگار کی فراہمی تھا ا ن چار سالوں میں بھی بے روزگاری نوجوانوں کی صلاحیتوں کو زنگ کی طرح چاٹتی رہی۔ نوجوان قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں آج ہمارے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں ہمارے ملک کی نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ان کو بہتر مستقبل دینا جمہوری قیادت کے فرائض میں شامل تھا مگر ایسا ہوا نہیں۔
٭٭٭٭٭٭