جب چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بدلا

29 مئی 2017

ہماری قومی تاریخ کا ایک یادگار دن 28مئی ہے ۔آج سے اٹھارہ سال قبل پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں پانچ دھماکے کئے ۔جمعرات کا دن تھا اور سہ پہر 3بج کر 40منٹ پر یکے بعد دیگرے سات ایٹمی دھماکے کر کے ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت کی بر تری کا غرور خاک میں ملا دیا ۔اس کے ساتھ ہی پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ملک بن گیا ۔۔مئی 1998 کے دن بھی کیا عجیب دن تھے صورتحال آج کے دن سے ملتی جلتی تھی فکر ،پریشانی ،خدشات ،خطرات ،جذبات و ولولے لیکن پھر بھی صورتحال اتنی بد تر اور مایوس کن نہیں تھی جتنی آجکل ہے ۔بھارت نے 11مئی 1998ء کے ایٹم بم ، نیوکران بم اور ہائیڈرجن بم کے دھماکوں کے بعداپنی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہا تھا۔ اس کے تنگ نظر رہنما اور حکومتی عہدیدار پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دینے میں اپنی توانائی صرف کرنے لگے ۔11مئی 1998کے دھماکوں نے پاکستان کی آزادی اور سلامتی کے لئے خطرات پیدا کر دیئے اور علاقہ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو نے سے بھارت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار ہو گئی ۔پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں انگلیاں اٹھ رہی تھیں جس کی روک تھام کے لئے پاکستانی عوام کے علاوہ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں کی طرف سے سخت ترین دبائو ڈالا جارہا تھا کہ پاکستان بھی ایٹمی تجربہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دے ۔ایسی صورتحال میںپاکستانی قوم کی پریشانی و فکر مندی فطری بات تھی ۔وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت پر اندرونی طور پر دبائو تھا کہ وہ ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دیں ۔عالمی رائے عامہ جاپان اور جی ایٹ کے تمام ممالک ،یورپی یونین اور امریکہ برطانیہ وغیرہ پاکستان کی طرف سے دھماکے کرنے کے سخت مخالف تھے ۔امریکی صدر کلنٹن ،برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر اور جاپانی وزیر اعظم نے دبائو ڈالا کہ پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کرے ورنہ اس کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی ۔ امریکی صدر بل کلنٹن بذات خود نواز شریف پر دھماکے نہ کرنے کے لئے دبائو ڈال رہا تھا ۔دھماکے نہ کرنے کی صورت میں اربوں ڈالرز کی پیشکش بصورت دیگر اقتصادی پابندیا ں لگانے کے آپشن موجود تھے ۔ گو کہ پاکستان کو دھماکوں سے روکنے کے لئے سب ہی حربے آزمائے جا رہے تھے ۔غرض یہ کہ یہ بڑا نازک اور کٹھن وقت تھا ۔اور پھر 28مئی 1998ء کوڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نگرانی میں 3بج کر 40منٹ پر چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بدلنا شروع ہوا اور ساتھ ہی دنیا کی سوچ و چلن بدل گیا ۔پاکستان سات ایٹمی دھماکے کر چکا تھا ۔دھماکوں کے نتیجے میں بے پناہ توانائی اور حرارت کے
اخراج سے پہاڑیوں کا رنگ پہلے کالا پھر سرخی مائل اور پھر سفید ہو گیا ۔امریکہ نے وزیر اعظم نواز شریف کو ایٹمی دھماکے کرنے سے روکنے کے لئے اپنی کوششیں آخری وقت تک جاری رکھیں مگر وزیر اعظم نواز شریف نے ملکی خودمختاری پر سودے بازی سے صاف انکار کر دیا ۔دھماکے کرنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر تاریخی تقریر کی اور انہوں نے بجا طور پر یہ بات کہی کہ ہم نے بھارت کا حساب بیباک کر دیا ۔بزدل دشمن ایٹمی شب خون نہیں مار سکتا ۔اقتصادی پابندیاں لگیں بھی تو سرخرو ہوں گے ۔بلا شبہ 28مئی یوم تفاخر ہے اور ہماری قومی تاریخ کا انمنٹ باب بھی۔اور اسی دن کو قیام پاکستان کے بعد سب سے سرخرو اور خوش بخت دن کہا جاسکتا ہے ۔ پا کستان کی ایٹمی صلاحیت کوئی سر بستہ راز نہیں ۔پاکستان ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے مشن پر گامزن تھا تواسے قدم قدم پر مخالفوں ،رکاوٹوں اور دشمنوں کا سامنا تھا ۔ہر طرف خطرات ہی خطرات تھے ۔اب بھی وہ خطرات بڑھے ہی ہیں کم نہیں ہوئے ۔دنیا کا ہر اوباش اور بد معاش پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر نظر جمائے بیٹھا ہے ۔آئے دن یہ واویلا کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاراور اثاثے انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔جس سے دنیا کے امن کو سخت خطرات پیش آسکتے ہیں۔امریکہ اور اس کے اتحادی ان اثاثوں پر کنٹرول حاصل کرنے لیے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔لیکن وہ اس بات سے بے خبر ہیں اور اس بات کا بالکل اندازہ نہیں کہ پاکستان کے یہ اثاثے پاکستانیوں کے لئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے ۔یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو کوئی بیرونی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام پاکستان کے لئے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے اورایک اہم حیثیت رکھتا ہے ۔اور وہ اس کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر نے کے لئے تیار ہیں ۔
الحمد اللہ ! 28مئی کو یوم تکبیر منایا جا تاہے ۔اسی روز پاکستان نے اپنے ازلی دشمن پر اپنی صلاحیت و مہارت کے تمام ترراز فاش کئے اور ایک اعلیٰ نمونہ پیش کیا جس پر عالم اسلام کو فخر ہے ۔یہی وہ دن تھا کہ پوری اسلامی دنیا تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھی ۔پاکستانیوں کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر کسی غم کے نہیں بلکہ خوشی و افتخار کے آنسو تھے ۔پوری قوم کو ایک نیا جذبہ اور ولولہ ملا ۔اسی وجہ سے اس دن کو یوم تکبیر کا نام دیا گیا ۔تکبیر صرف پاکستانیوں کا نشان نہیں بلکہ یہ تو اسلام کی سر بلندی کا نعرہ ہے ۔اللہ کی بڑائی کی صدا ہے ۔لہٰذا یہ ایٹم بم بھی پوری ملت اسلامیہ سے منسوب ہوا ۔دنیا میں نہ ہی کہیں ہندو بم ہے نہ ہی عیسائی یہودی بم پاکستانی ایٹم بم اسلامی ایٹم بم کہلایا ۔اس کا اعلان کشمیر ،فلسطین،بوسینیا اور بھارت کے مظلوم مسلم تو کر ہی رہے تھے مگر یہ نام اسے تکبیر کے دشمنوں نے دیا ۔جیسے 1940ء کی قرارداد لاہور کو قرارداد پاکستان ہندو اخباروں نے لکھا اسی طرح پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم ہنود و یہود نے قرار دیا ۔