پیپلز پارٹی سندھ میں بھی زیرو

29 مئی 2017

بہت مشکل ہوچکا اب عوام کو چکنی چپڑی لگانا ، کیوں کہ اک عرصہ سے خصوصا ً سندھ کے عوام پنجاب کی ترقی دیکھ کر اور اس کی ترقی اور ماورائی داستانیں سن کر ان کو ملنے والی نام نہاد چکنی چوپڑیوں کے نتائج یعنی لڑکھڑاتے ناتواں قدم چکراتے سروں اور پتھرائی آنکھوں سے اپنے اطراف ریاستی عوامی حقوق کا جو کھلے عام قتل عام دیکھ رہے ہیں جو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس نے عوام کے بھٹو ازم کے والہانہ پن کو بیشمار چرکے اور ایسے زخم لگائے ہیں کہ جن کے مندمل ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے۔ یہاں میں نے صرف پنجاب کی مثال اس لئے دی ہے کہ اک عرصہ سے سیاسی سماجی، کاروباری ، معاشی حلقوں اور سطحوں پر موازنہ ہی اس لئے پنجاب اور سندھ کا کیا جا رہا ہے کہ دونوں صوبوں میں نامی گرامی پارٹیوں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں قائم ہیں اور متذکرہ کوک اسٹوڈیو کے سازندوں اور سازندوں کی کارکردگی اور مسابقت میں عوام گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی اور محترمین آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی پیپلز پارٹی کے فرق کو اب بھی سندھ کے عوام بخوبی جان اور سمجھ چکے ہیں۔ اور یوں لگتا ہے کہ سندھ میں جمہوریت نہیں بلکہ لینن، اسٹالن ، میکسم گورکی کے اشراکیت ٹائپ شکست خوردہ نظام کے پولٹ بیورو ٹائپ کے مٹھی بھر کارندوں کا سندھ کے تمام اضلاع میں طلسماتی تسلط قائم ہے جنہوں نے اضلاع کی سطحوں پر ریاستی اداروں اور محکموں کے تمام تر وسائل اور سہولتوں پر بلا شرکت غیرے قبضہ کر رکھا ہے ان میں سے بیشتر عناصر پسماندہ عوام کو اپنی دلفریب مسکراہٹوں کے ساتھ پولیس کے ذریعے خود سے مربوط رکھے رہنے پر مجبور رکھتے ہیں جس کی کھلی مثال حالیہ جاری سندھ حکومت اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے مابین انتہا کو پہنچی ہوئی مخاصمت ہے۔ دوسری طرف قابل غور بات یہ ہے کہ عوامی سطحوں پر سندھ میں رینجرز کی موجودگی کو نہایت پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے جبکہ حکومتی سطحوں پر رینجرز کے حوالے سے بھی سندھ پیپلز پارٹی کی حکومت اعصابی تناو کا شکار رہتی ہے مزید برآں سندھ کے قریے قریے کے عوام اب نہایت شدت کے ساتھ منتظر ہیں کہ کب رینجرز کراچی کے علاوہ اندرون سندھ کے اضلاع میں محکمہ جاتی کرپشن پر نیب کے ساتھ مل کر ہاتھ ڈالے گی اور ان چہروں کو بے نقاب کرے گی جو عرصہ دراز سے پورے سندھ کو ہی تھر بنانے پر برسر پیکار ہیں۔بلکہ میں تو یہاں تک بتادوں کہ سندھ کے عوام کثیر تعداد میں اب کھربوں اربوں کے فنڈ ز اضلاع کی سطحوں کے مختلف محکموں میں پہنچ کر یکدم گمشدہ ہونے پر اتنے بر انگینتحہ ہیں کہ انہیں شہر سے گاوں تک جانے تک کے لئے وہ سڑکیں بھی نہیں مل سکیں جو کاغذوں میں کئی بار تیار ہوچکی ہیں جس کا رکارڈ محکمہ تعمیرات اور حکومتی بعض اہم اداروں کے پاس موجود ہے اور شہر والوں کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکل کر دوکانوں ، کام کاج اور بازاروں تک جاتے جاتے راستوں کی زیر آب نالیوں کی وجہ سے بمشکل پہنچتے ہیں اور جب یہ گھروں کو لوٹتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ نالیوں کا پانی گھروں کے اندر بھی گھس آیا ہے جہاں حکومتی انتظام و انصرام اور پارٹی مئنجمنٹ اور تشکیل اضلاع پارٹی انتظام کا حال یہ ہوجائے اور یہ سب مٹھی بھر عناصر بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کو عوامی خدمت کا اور سب ٹھیک ہے کا تاثر دیتے رہے تو پھر میرے خیال سے یہ حد آخر ہوتی ہے اور اس سے آگے پھر کسی نئے نظام کے آغاز کی حدود شروع ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوبت یقین جانیں کہ یہاں تک آن پہنچی ہے کہ عوام اب کھلے عام بلا جھجک یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ محکمہ صحت، تعمیرات، بلدیات، تعلیم اور محکمہ صحت عامہ کو فوج کے حوالے کردینا چاہئے۔ حال ہی میں بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی ضلع جاتی سطحوں پر تشکیل نوع اور عوامی خدمت کے لئے آغاز کے طور پر لاڑکانہ ڈویژن کا صدر مقرر کرکے آغاز کیا ۔ مگر ایم این اے سے لاڑکانہ ڈویژن کا صدر بنجانے
کے بعد صدر صاحب کے انداز نرالے ہوگئے اور وہ علاقہ کی بگڑتی صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے اپنے صدر کے عہدے کو مضبوط کرنے میں زیادہ مصروف رہنے لگے انہوں نے پہلا ڈویژن اجلاس سرکٹ ہاوس جیکب آباد میں منعقد کیا تو عوامی خدمت کے عملی پروگرامز کی تشکیل کے بجائے بحث مباحثہ اور اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے کی نذر کردیا گیا۔ بعد ازاں ڈویڑنل صدر نے اپنے آبائی ضلع اور حلقہ کے اعتبار سے نو منتخب کونسلروں کی میٹنگ کی جس کا بھی یہ حال رہا اور کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا محترم آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو زرداری سے گذارش ہے کہ وہ شہباز شریف کی طرز پر ان عناصر پر گہری نگاہ رکھیں جو ان کو بھی بائی پاس کرکے اپنے بینک بیلنس بنانے میں مصروف عمل ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کے لئے سم قاتل بنتے جا رہے ہیں اگر جلد جلد ایسا نہ کیا گیا تو آئندہ انتخابات کے لئے جو شب دیگ تیار ہو رہی ہے ہوسکتا ہے اس میں سے قلیل سے حصے کے لئے بھی پی پی پی کو نہایت جان جوکھوں کا سامنا کرنا پڑے وقت ابھی بھی کا فی ہے نظر ثانی کی جاسکتی ہے وزراءاور متذکرہ نوع کے عناصر کی کلاس لی جاسکتی ہے۔