بجٹ اور ہماری جمہوری روایتیں

29 مئی 2017

پاکستانی عوام یقینا اپنے منتخب نمائندوں کہ شکر گزار ہونگے کے انہوں نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کی خالص پاکستانی روایت کو برقرار رکھا۔ وہ مناظر بہت ہی دلچسپ اور توجہ طلب تھے۔جب ایک طرف تو ہمارے منتخب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ،''ن'' لیگ کا مسلسل پانچواں بجٹ پیش کرنے کا ریکارڈ قائم کر رہے تھے۔تو دوسری جانب اپوزیشن کی جماعتوں کے منتخب نمائندے بجٹ کی کاپیاں پھاڑنے اور ایک ایسا شور و غوغہ مچانے میں مصروف تھے ، جس میں کان بڑی آواز بھی سنائی نہ دے۔یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ موجودہ اپوزیشن کی طرف سے بجٹ تقریر کے اوپر اس طرح کا پر جوش مظاہرہ کیا گیا۔ توقع کے عین مطابق اپوزیشن کے ارکان ہاتھ جھاڑتے ہوئے اور ''جھوٹا ،جھوٹا '' کے نعرے لگاتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کر کے واک آوٹ کرگئے۔ہم اپنے پڑھنے والوں کو یاد دلادیں کہ یہ کارنامہ صرف موجودہ اپوزیشن کا نہیں بلکہ اس سے قبل موجودہ حکومت اور وہ پارٹیاں جو حکمران اتحاد میں شامل ہیں جب اپوزیشن میں ہوا کرتی تھیں۔ تو اس بات کو یقینی بناتی تھیں کے جب تک وہ ایون میں موجود ہوں وہ بھی ایسے ہی بجٹ پیش کرنے کے موقع پر بجٹ دستاویزات کے ساتھ کچھ ایسا ہی سلوک کریں۔اس موقع پر وہ اس بات کو بھی یقینی بناتی تھیں کہ ہنگامہ اس قدر زور دار ہو کہ بجٹ تقریر کا ایک لفظ بھی ایوان میں بیٹھے ہوئے ارکان یا ریڈیو ٹی وی کے ذریعہ سننے اور دیکھنے والوں کے کانوں تک نہ پہنچنے پائے۔شاید ان کی خواہش یہی ہے کہ ان کی قوم ایسی ہی گونگی اور بہری رہے ۔ یہ تو ہماری وہ جمہوری روایت ہے جو بجٹ پیش ہونے کے موقع پر ہمارے منتخب نمائندے سالوں سے نباہتے چلے آرہے ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ قومی بجٹ جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ دستاویز ہے۔جس پر صرف ایک مالی سال کا ہی نہیں بلکہ کئی آنے والے سالوں کے مالی اور اقتصادی معاملات کا مکمل منصوبہ موجود ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بجٹ کو سامنے رکھ کر ہی قومی ادارے چلتے ہیں ،بڑے چھوٹے منصوبوں پر عمل کیا جاتا ہے،اندرون اور بیرون ملک سرمائے کاری کے معملات طے ہوتے ہیں ،حد تو یہ ہے کہ اس موقع پر حساس دفاعی نوعیت کے فیصلے بھی قومی بجٹ میں ہی دیکھے جاسکتے ہیں۔پھر یہ بھی یاد رکھا جائے کہ قومی بجٹ ، بجٹ تقریر کے دن ہی منظور نہیں ہوجاتا۔بلکہ اس کے لیئے پورا ایک بجٹ سیشن متعین کیا جاتا ہے۔جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک بحث ہوتی ہے۔تجاویز پیش کی جاتی ہیں جن میں سے کچھ مان لی جاتیں ہیں یا پھر ٹھوس جواز پر مسترد کر دی جاتی ہیں۔صوبوں اور وفاق کے درمیان مالیاتی لین دین کے معاملات طے ہوتے ہیں۔ اس ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے کے دوران بھرپور انداز میں نہ صرف پارلیمان میں بحث جاری رہتی ہے بلکہ تھنک ٹینکس ، ماہرین ،مخصوص مالیاتی اداروں ، میڈیا اور عوام سب ہی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ایک ایک روپے کے معاملے کو خوردبین کے نیچے رکھ کر پرکھ لیں۔اس میں نہ صرف تنقید کے پورے مواقع موجود ہوتے ہیں بلکہ کسی بھی جماعت یا شعبہ زندگی کے کسی ادارے کو اعتراض ہوتو وہ ہر سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراسکتا ہے۔ تو جب اتنا طویل عرصہ بھی موجود ہو اور سارے کے سارے مواقع بھی موجود ہوں احتجاج کے ،تو یہ سمجھ سے باہر ہے کہ قومی اسمبلی میں یہ نہایت غیر پارلیمانی انداز جو عوام کے الفاظ میں تو ایک جاہلانہ طریقہ کار ہے آخر اسے کیوں اختیار کیا جاتا ہے۔ ہم یہ بات کسی ایک پارٹی کے لیئے نہیں کہہ رہے بلکہ ساری جماعتوں اور عوام کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ آخر کب ہم جمہوری طور پر بالغ ہونگے۔افسوس ہوتا ہے کہ نہ ہمارے ہاں ،خارجہ پالیسی کو سنجیدہ لیا جاتا ہے ، نہ دفاعی معاملات کی بحث پر مہذب طرز اپنایا جاتا ہے۔سب سے بڑھ کریہ کہ اقتصادی اور مالیاتی معاملات جو کسی بھی قوم کے لیئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،ان کو ذرا سی بھی اہمیت نہیں دی
جاتی۔ہماری سیاسی جماعتیں چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہوں ،چاہے ان کا کوئی بھی نام ہو ،ان کے انداز اور سوچ میں کسی بھی طور پر مثبت تبدیلی نہیں آرہی،تصادم کی روایتوں اور سیاست کو شاید ہمارے سیاست دان ایک کارآمد طریقہ سمجھتے ہیں اپنی بات منوانے کا۔ ستر سال کے اذیت ناک تجربوں کے بعد جہاں قوم کھڑی ہے کیا ہمارے منتخب نمائندوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ بجٹ جیسے اہم قومی نوعیت کے معاملے کو شور شرابے اور کھیل تماشے میں نمٹائیں۔ سیاسی جماعتیں کسی بھی جمہوریت کی بنیادیں ہوتی ہیں۔ وہ ہی عوام کی تربیت کر تی ہیں اور وہی سیاسی اور جمہوری روایتوں کو مضبوط کر تی ہیں۔ جن پارلیمانی روایتوں کا ذکر ہمارے سیاست دان ،میڈیا کے ٹاک شوز میں کرتے ہیں، در حقیقت وہ ایسے ہی بجٹ مباحثوں اور دوسری سنجیدہ تقاریر میں پروان چڑھتی ہیں۔ عوام نے اپنے منتخب نمائندوں کو اپنے قانونی ، آئینی ،اور مالیاتی معاملات کو حل کر نے کے لیے ایوانوں میں بھیجا ہے ،نہ کہ دستاویزات پھاڑ پھاڑ کر ختم کرنے کے لیئے۔ یہ بھی طے ہے کہ یہی جماعتیں چند روز بعد بجٹ پر بحث شروع کریں گی۔ان کے لیڈران پر زور تقریریں کریں گے اور جس کے بعد وہ مل کر اسی بجٹ کی منظور بھی دیں گے۔پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پہلے دن ہی بجٹ دستاویزات کو پھاڑ کر پھینک دیا گیا ہو تو پھر منظوری کس چیز کی دی جائے گی ؟۔