مشترکہ خاندانی نظام اور ہماری ذمہ داری

29 مئی 2017

جب یورپ میں پہلا چائلڈ کیئر سینٹر بنایا گیا تھا تو وہاں پر اصل میں پہلے اولڈ ہوم کی بنیاد رکھی گی تھی کیو نکہ جب بچوں کو اپنے والدین کی ضرورت تھی تو والدین نے بچوں کو چائلڈ کیئر میں بھیج دیا تھا جب بڑھاپے میں والدین کو بچوں کی توجہ کی ضرورت تھی تو اولاد والدین کو اولڈ ہوم میں داخل کرادیتے تھے-جب یورپ میں ہر فرد اپنی زندگی کو آزادی سے گزارنے کی خواہش کرنے لگا تو یورپ میں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اس وقت آزادی کے لیے کالم لکھے گے بحث مباحثے ہوے غرض معاشرے کے ہر فرد نے اس معاشرتی آزادی کے نام پر اپنا حصہ ڈالا اورپھر معاشرہ آزاد بھی ہوگیا ایک طویل عرصے کہ بعد یورپ کے معاشرے کا یہ حال ہے کہ بوڑھے والدین ایک بوجھ بن گے بہن کی بھائی کو فکر نہیں بھائی کو بہن کی۔ شادیاں بہت مختصر عرصے کی‘ طلاق ایسی ہوگئی جیسے قومی کھیل غرض نفسانفسی سب اپنی دنیا میں مگن مذہب سے بہت دور اب یورپ کے دانشور کوششیں کر رہے ہیں کہ ہم کسی طرح خاندانی نظام میں واپس آئیں یاد رکھیں دنیا میں کوئی بھی برائی پوری قوم میں سرایت کرنے میں صدی لگتی ہے یورپ میں آج اگر جوئے کو شراب کو فحاشی کو قانونی تحفظ حاصل ہے تو اس اخلاقی پستی کو سو سال لگے ہیں اب ہم آتے ہےں اپنے پاکستانی معاشرے کی طرف ہم بحیثیت پاکستانی یورپ کے معاشرے کی آزادی سے توبہت متاثر ہےں لیکن بحیثیت مسلمان بھی ہماری کچھ ذمہ داریاں ہے جب ہم شادی کے بعد الگ ہوجاتے ہیں اور اپنے بزرگ والدین کو جو پوری زندگی محنت کرکے ہماری پرورش کرتے ہے اور بڑھاپے میں جب انہیں ہماری توجہ اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم اپنی دنیا الگ بسا لیتے ہیں اور ان کو دنیا میں تنہا چھوڑ دیتے ہیں جب کہ درحقیقت ہم اپنی اولاد کی تربیت کر رہے ہوتے ہےں اس نے بھی ہمارے ساتھ یہی سلوک کرنا ہے خدارا اپنے مشترکہ خاندانی نظام میں واپس آئے تھوڑی سی آزادی محبتوں کی قیمت پر نہ لیں ہمارے دانشور علما مشترکہ خاندانی نظام کی اہمیت فوائد بتائیں تا کہ عوام کو معلومات ہو اور ہمارے بزرگ والدین اولڈ ہوم جانے سے بچ سکیں بہر حال ہمیں بھی ایک دن بوڑھا ہونا ہے ہمیں اپنے آپ کو بھی بچانا ہے ۔(محمد شاہد کراچی)