سہ فریقی اتحاد کا سی پیک رابطوں کو سودمند قرار دینے پر اتفاق رائے

29 مئی 2017

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں گذشتہ روز چین‘ پاکستان اور افغانستان کے مابین عملی تعاون مذاکرات کے پہلے دور میں سہ فریقی اتحاد نے سی پیک کو سودمند قرار دیتے ہوئے بجا طور پر باور کرایا کہ افغانستان اور خطے میں دیرپا امن کے قیام‘ استحکام اور ترقی کیلئے تینوں ملکوں کے مابین اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ بیجنگ میں سہ فریقی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور ایک خطہ ایک سڑک منصوبے کے تحت توانائی‘ تعلیم و صحت اور انسانی وسائل کی تربیت کے شعبوں میں افغانستان کی ضروریات پر مبنی تعاون بڑھانے کیلئے مزید مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ افغانستان اور خطے میں قیام امن اور ترقی کیلئے چین‘ پاکستان کے ساتھ افغانستان کا سی پیک کے منصوبوں سے استفادہ کرنے پر رضامندی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی حکمت عملی پر اتفاق رائے خوش آئند ہے۔ تینوں ملک اتفاق رائے کے بعد اپنے اس سہ فریقی اتحاد کو باقاعدہ فورم بنا لیں تو سی پیک سے خطے میں امن کے قیام اور ترقی کا خواب ضرور پورا ہو سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ افغانستان بھارت کے چنگل سے نکل کر زمینی حقائق کا ادراک کرے اور بھارت کی کٹھ پتلی ہونے کے تاثر کو دور کرے۔ بھارت کو پاکستان کی ترقی کسی طور برداشت نہیں۔ اس منصوبے میں اس کا شامل نہ ہونا اس کا عملی ثبوت ہے۔ ہر لمحہ اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت سی پیک کی مخالفت کر رہا ہے۔ افغانستان نے اسے سودمند قرار دیا۔ بھارت سے دوری اختیار کر کے ہی وہ اس فیصلے پر کاربند رہ سکتا ہے۔
ایران پاکستانی سرحدوں پر کشیدگی
میں اضافہ سے گزیر کرے
پنجگور: پاکستانی علاقہ میں ایرانی گولہ باری سے ایک شہری شہید، واقعہ کے خلاف پاکستان کا تہران سے شدید احتجاج۔ فلیگ میٹنگ طلب۔ مارٹر گولہ لگنے سے شہید ہونے والے کی گاڑی بھی تباہ۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کبھی اتنے خراب نہیں ہوئے جتنے اب نظر آ رہے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے حکمران بخوبی جانتے ہوں گے کہ انکی سرحدوں پر کشیدگی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اسوقت ایران پر عرب ممالک اور عالمی برادری کی طرف سے بہت دباﺅ ہے کہ عرب اور مغربی ممالک میں حکومت مخالف تحریکیوں اور دہشت گرد تنظیموں کی امداد سے ہاتھ کھینچ لے۔ ان حالات میں اسکا پاکستان کیخلاف جنگی جنون بڑھنا اور سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرنا خود اس کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران کی طرف سے کئی بار سرحدی علاقوں میں خلاف ورزیوں اور پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں کے باوجود پاکستان نے برادرانہ روش برقرار رکھی مگر تنگ آمد بجنگ آمد اسے بھی بالآخر ان بلا جواز سرحدی کارروائی کا جواب دینا پڑے گا۔ کیونکہ کوئی بھی پر امن ملک اپنی سرحدوں کی حفاظت سے غافل نہیں رہ سکتا۔ اسلئے حکومت ایران، پاکستان احتجاج کا بروقت نوٹس لے اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرے جو پاکستانی سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہی ایران کے لئے بہتر ہوگا۔ دونوں برادر ممالک کو چاہئے کہ وہ فلیگ میٹنگ اور حکومتی سطح پر ایسے معاملات کی روک تھام کے لئے کام کریں۔تاکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب نہ ہوں۔