بھارتی بربریت اور کشمیریوں کے صبر و مظلومیت کی انتہاءہو گئی عالمی برادری انسانی المیہ رونما ہونے سے قبل کردار ادا کرے

29 مئی 2017
بھارتی بربریت اور کشمیریوں کے صبر و مظلومیت کی انتہاءہو گئی عالمی برادری انسانی المیہ رونما ہونے سے قبل کردار ادا کرے

بھارتی فورسز نے ریاستی بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12 کشمیریوں کو شہید کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں سبزار احمد بھٹ سمیت تین مجاہد ین کو شہید کردیا۔ بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مجاہدین ترال میں سائموہ کے مقام پر ایک جھڑپ کے دوران مارے گئے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان مجاہدین کو دوران حراست شہید کیاگیا۔ بھارتی فوجیوں نے ضلع بارہمولہ کے علاقے رامپور اور اوڑی میں بھی پرتشدد کارروائیوں کے دوران 9 کشمیری نوجوان شہید کردئیے۔ سائموہ میں فوجی آپریشن کے خلاف اور نوجوانوں کی شہادت پوری وادی میں پر زبردست مظاہرے پھوٹ پڑے۔ خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں کشمیری سڑکوں پر آگئے۔ پوری وادی میںبھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںنے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں مظاہرین اور قابض اہلکاروں کے درمیان جھڑپیںہوئیں۔ جن میں ایک شہری شہید اور سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ سائموہ کے رہائشیوں نے کہا قابض اہلکاروں نے عبدالرشید میر نامی ایک شہری کے گھر کو بھی نذ آتش کر دیا۔ فوجیوں نے گھروں میں گھس کر کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیئے جبکہ مساجد کی بھی بے حرمتی کی گئی۔بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کا کہنا ہے کہ پلوامہ کے علاقے ترال میں فوج کی کارروائی کے دوران تین مجاہدین مارے گئے جن میں سے ایک کی شناخت برہان وانی کے جانشین سبزار احمد بھٹ کے نام سے ہوئی ہے۔راجیش کالیا کے مطابق اس سے پہلے رامپور سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کے دوران بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6مجاہدین شہید ہوئے۔ مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ فوج نے ڈرامہ رچایا ہے۔ مارے جانے والے افراد کو فوجی گاڑیوں میں باہر سے لایا گیا تھا۔
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے 12کشمیری نو جوانوں کو شہید کرنے کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ کشمیر میں قتل عام بند کرائے، مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے نام خط میں عالمی برادری،اقوام متحدہ، او آئی سی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور انسانی حقو ق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر بھارت پر دباﺅ ڈالیں اور مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے ظالمانہ قتل عام فوری طور پر بند کرائیں،دفتر خارجہ کے مطابق نیو یارک میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے بھیجا گیا خط سلامتی کونسل کے صدر نے تمام رکن ممالک میں تقسیم کیا، خط میں مشیر خارجہ نے بھارتی اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ کشمیری عوام کو جعلی مقابلوں میں شہید کر کے دفن کیاجارہا ہے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پلوامہ اور بارہمولہ ا ضلاع میں 12کشمیری نوجوانوں کو بھارتی افواج کے جانب سے شہید کرنے پر شدید مذمت کی اور کہاکہ ان میں سے تین کو ماضی کی طرح ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔انہوں نے عالمی برادری،اقوام متحدہ، او آئی سی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور انسانی حقو ق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر بھارت پر دباﺅ ڈالیں اور مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کا ظالمانہ قتل عام فوری طور پر بند کرائیں ورنہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بڑا انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔
مظفر وانی کو گزشتہ سال جولائی میں بھارتی سفاک فوج نے بہیمانہ تشدد کے ذریعے شہید کر دیا تھا جس کے بعد کشمیریوں کے احتجاج مظاہروں اور ہڑتالوں کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع ہو گیا۔ انڈین فوج کی بربریت اور سفاکیت جو پہلے بھی کم نہ تھی اس میں مزید اضافہ ہو گیا۔ کشمیری خودارادیت کا مطالبہ اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں تو بھارت اس کا جواب گولی، تشدد اور جبر سے دیتا ہے۔ مظفروانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی میں مزید فوج، مزید مہلک اسلحہ کے ساتھ تعینات کی گئی۔ پیلٹ گنوں کے استعمال سے دس ہزار سے زاہد کشمیری بچیوں اور بچوں سمیت معذور ہو چکے ہیں، ہزاروں کی بینائی متاثر ہوئی، اس دوران سینکڑوں نوجوان آزادی کا خواب دیکھتے ہوئے بھارتی فوج کے بہیمانہ تشدد سے موت کی وادی میں چلے گئے۔
کشمیریوں کو آزادی کیلئے جدوجہد کا حق اقوام متحدہ کے چارٹر میں دیا گیا ہے۔ بھارت اس جدوجہد کو دہشتگردی قرار دیتا اور اس سطح پر لغو پراپیگنڈا کرتا ہے کہ عالمی برادری بھی اس سے متاثر نظر آتی ہے۔ گزشتہ روز جی سیون ممالک نے اٹلی میں منعقدہ اجلاس میں دہشتگردی کے خاتمے پر اتفاق کیا مگر بدقسمتی سے اس اتفاق کا اطلاق مقبوضہ وادی میں بھارت کی دہشتگردی کے خاتمے پر نہیں ہو گا کیونکہ بھارت ایک تو دنیا پر خود کو دہشتگردی کا شکار ملک باور کرا رہا ہے دوسرے وہ اپنے تعلقات کو بروئے کار لا کر سیاہ کو سفید کرنے کے عمل میں اکثر ممالک کو اپنا ہمنوا بنا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب میں کانفرنس کے دوران بھارت کو دہشتگردی سے متاثرہ ملک قرار دیا۔ بھارت کو کس دہشتگردی کا سامنا ہے؟ امریکہ جیسے ممالک بھی بھارت کو دہشتگردی سے متاثرہ ملک قرار دیں گے تو اس کا دہشتگردانہ کردار مزید بھیانک ہو جاتا ہے۔ پاکستان یقیناً بھارتی پراپیگنڈے کا توڑ کر سکتا ہے مگر کچھ طاقتور ممالک کے خبث باطن کا کیا علاج ہو سکتا ہے جو کشمیر میں جاری بھارت کی دہشتگردی کو بھارت کے ایماءپر مظلوم کشمیریوں کی دہشتگردی قرار دیتے ہیں۔ سرتاج عزیز نے بجا کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے اور پھر حالات تنگ آمد بجنگ آمد کی طرف جا سکتے ہیں۔
پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھارت ہمہ وقت جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ بالخصوص بی جے پی کی جنونی مودی سرکار کے اقتدار میں آنے سے اب تک بھارت نے پاکستان کیخلاف سرحدی کشیدگی کو فروغ دے کر اور کسی نہ کسی حیلے بہانے سے اسکے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند کرکے صرف پاکستان کی سلامتی کیلئے ہی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے بھی شدید خطرات پیدا کر رکھے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے کسی نہ کسی خانہ ساز واقعہ کی آڑ میں پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ شدومد سے جاری ہے جس میں اب شدت پیدا ہوچکی ہے تو عالمی قیادتوں میں بھی اس بڑھتی ہوئی بھارتی جنونیت سے علاقائی اور عالمی سلامتی کے سخت خطرات کی زد میں آنے پر فکرمندی کا احساس اجاگر ہوا ہے چنانچہ اقوام عالم کی چیدہ چیدہ قیادتوں کی جانب سے تسلسل کے ساتھ پاکستان بھارت مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے اور اس سلسلہ میں عالمی قیادتیں دونوں ممالک کے مابین ثالثی کی پیشکش بھی کررہی ہیں۔ مگر بھارت کسی کو خاطر میں نہیں لا رہا۔ گزشتہ روز ایک بار پھراقوام متحدہ نے کہاہے کہ اگربھارت اور پاکستان دونوں کسی ایک لائحہ عمل پر اتفاق کریں تو کشمیرکادیرینہ تنازع حل کیاجاسکتاہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا تمام فریقوں کے باہمی اتفاق رائے سے ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس اپنے اختیارات استعمال میں لاسکتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے باہم مل کر لائحہ عمل سے مسئلہ کشمیر طے ہونا ہوتا تو کب کا ہو گیا ہوتا۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث مشترکہ لائحہ عمل ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ معاملہ جو کہ اقوام متحدہ میں ہے اور بھارت اس کی قرار دادوں پر عمل سے انکار کر چکا ہے تو اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئیے۔ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرانے کی پوری کوشش کر چکا ہے۔ مگر بھارت کی ہٹ دھرمی سد راہ بن جاتی ہے۔
پاکستان نے بھارت کے پیدا کردہ سنگین خطرات والے حالات کے باوجود اسکے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے کبھی انکار نہیں کیا جبکہ ہر بار مذاکرات کی بساط ہمیشہ بھارت کی جانب سے ہی کسی نہ کسی حیلے بہانے سے لپیٹی گئی ہے۔ آج دنیا گواہ ہے کہ پاکستان بھارتی ننگی جارحیت کے عزائم کی زد میں ہے جس کی نشاندہی بھارتی جاسوس دہشت گرد کلبھوشن یادیو اور کالعدم جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان اپنے اعترافی بیانات کے ذریعے کرچکے ہیں جن کے بقول پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کیلئے انہیں بھارتی ایجنسی ”را“ کی سرپرستی اور فنڈنگ حاصل تھی۔ اس پر عالمی برادری کو بھارت سے بازپرس کرنی چاہئیے تھی مگر اس کی طرف سے ایسا کچھ نہیں ہوا تاہم دو ممالک کے مابین کشیدگی پر تشویش ضرور ظاہر کی جاتی ہے۔ مودی سرکار اس پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتی اور اس نے مقبوضہ کشمیر میں نوجوان کشمیریوں کی آواز دبانے اور اپنی عسکری طاقت کی دھاک بٹھانے کیلئے نہتے کشمیری عوام پر ظلم و تشدد کے مختلف ہتھکنڈے آزمانے کا سلسلہ تیز تر کر دیا ہے گزشتہ روز مزید 12 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا اس سے حالات مزید ابتر ہونگے جس کا بلاشبہ ذمہ دار بھارت ہی ہے مگر عالمی برادری بھی بھارتی مظالم صرف نظر کرنے پر بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ امریکہ اور دیگرطاقتور با اثر ممالک دہشتگردی کو اپنی اور خصوصی طور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی عینک سے نہ دیکھیں۔ اب بھارتی بربریت اور کشمیریوں کا صبر اور جدوجہد انتہاءتک پہنچ چکے ہیں۔ اس کے آگے آگ کا الاﺅ ہے جس میں خطے کا امن تو جھلسے گا ہی عالمی امن تک بھی تپش ضرور پہنچے گے۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ بھارت کو راہ راست پر لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر آمادہ کر کے خطے اور عالمی امن کومحفوظ بنا سکتے ہیں۔